Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

آئی ایس آئی کے ہنی ٹریپ ، بھارتی اخبار کا واویلا

آئی ایس آئی کے ہاتھوں ’’را‘‘ کو کیسی کیسی شرمناک شکستیں کھانا پڑ رہی ہیں ، اس حوالے سے اب تو خود بھارتی میڈیا نے واویلا مچا دیا ہے ، یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی ٹاپ سپائی ایجنسی کے لگائے ہوئے پرکشش پھندوں میں پھنس پر بھارتی فوج ، انٹیلی جنس اداروں اور پیراملٹری فورسز کے افسران و اہلکار اپنےکمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس میں موجود سارا حساس ڈیٹا آئی ایس آئی کی ’’بھینٹ‘‘ چڑھا دیتے ہیں ، بظاہر بھارتی میڈیا پاکستان اور روس کے انٹیلی جنس اداروں کو ہنی ٹریپ کے حوالے سے مورد الزام ٹھہرا کر تنقید کر رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ بھارتیوں کی طرف سے اپنی بے بسی کا اعتراف ہے کہ ان کے افسران و اہلکار ڈسپلن سے اتنے عاری ہیں اور ان کے سکیورٹی سسٹم میں اتنے سوارخ ہیں کہ ان کے حساس اور کلاسیفائیڈ ڈیٹا سمیت کچھ بھی محفوظ نہیں ، وجہ اس بے بسی کی ایک یہ بھی ہے کہ جہاں پیسہ یا لڑکی نظر آئے ، بھارتی فوج ، پیرا ملٹری فورسز اور انڈین انٹیلیجنس ایجنسیز کے افسر اور اہلکار پھسل جاتے ہیں اور ہنی ٹریپ میں پھنس جاتے ہیں ، اپنے فوجی افسران اور سفارتکاروں کے ہنی ٹریپ میں پھنسنے کے حوالے سے یہ دلچسپ انکشافات بھارتی اخبار ’’دی اکنامک ٹائمز‘‘ نے کیے ہیں۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ہنی ٹریپ کا شکار ہونے والے بھارتیوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین آفیسرز اور اہلکار بھی شامل ہیں ، آئی ایس آئی نے سوشل میڈیا پر کیسے کیسے خوبصورت اور پرکشش پھندے لگا دیئے ہیں ؟ اس حوالے سے انتہائی سنسنی خیز انکشافات اور دلچسپ واقعات بھی بھارتی اخبار اس رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ دی اکنامک ٹائمز نے لکھا ہے کہ فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھارتی فوجی افسروں و اہلکاروں اور سفارتکاروں کو ہنی ٹریپ میں پھنسانے کیلئے انتہائی ’’زرخیز زمین‘‘ ثابت ہو رہے ہیں ، جنس مخالف اور پیسے کی کشش کی وجہ سے بھارتی خواتین و مرد افسران و اہلکار جلد ہی پٹڑی سے اتر جاتے ہیں ، یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے ساتھ ساتھ روس اور کچھ دیگر ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیاں بھی ہنی ٹریپ کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے ’’بدنام‘‘ ہیں اور مختلف کورسز یا وزٹ کیلئے ماسکو جانے والے افسروں کو خاص طور پر ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ روسی خواتین سے بہت زیادہ محتاط رہیں۔بھارتی اخبار نے لکھا ہے کہ آئی ایس آئی ایجنٹ بھارتی افواج اور انٹیلیجنس اداروں سے تعلق رکھنے والوں کو ٹارگٹ کرنے کے بعد تھائی لینڈ ، سری لنکا اور یورپ کے مختلف ممالک کے آئی پی ایڈریسز سے رابطہ کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا تعلق انٹرنیشنل آن لائن بزنس کرنے والے ادارے سے ہے اور وہ کچھ لوگوں کی آن لائن سروسز ہائر کرنا چاہتے ہیں ، اس دوران پرکشش و سریلی آواز اور دلکش آنکھوں والی لڑکیاں کمپنی کی فی میل آپریٹرز کی حیثیت سے ان لوگوں کے رابطے میں آ جاتی ہیں اور ذاتی راہ و رسم پیدا کر لیتی ہیں ۔ مختلف آن لائن ٹاسک دیئے جانے کے دوران اپنے بھارتی ٹارگٹ کو یہ خواتین پہلے اعتماد میں لیتی ہیں اور پھر مختلف لنک بھیجتی ہیں کہ جنہیں کلک کرتے ہی ٹارگٹ بھارتی افسر و اہلکار کے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کا سارا ڈیٹا آئی ایس آئی کے پاس چلا جاتا ہے ، اس پورے سلسلے کے دوران کئی ماہ اور بعض اوقات کئی سال لگتے ہیں ، یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانے کے کئی مرد اور خواتین آفیسرز بھی آئی ایس آئی کے ہنی ٹریپ میں آئے اور بہت سی قیمتی معلومات چوری کروا بیٹھے اور اس وقت مختلف انکوائریاں بھگت رہے ہیں ، دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی اخبار نے ہنی ٹریپ کیلئے پاکستانی اور روسی انٹیلی جنس اداروں پر الزام تراشی کی ہے لیکن خود بھارتی یا امریکی و برطانوی انٹیلیجنس اداروں کی اس حوالے سے سرگرمیوں پر کوئی روشنی نہیں ڈالی ، یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ہنی ٹریپ کے زیادہ تر شکار بھارتی سفارتکار اور انٹیلی جنس اہلکار درمیانی عمر کے لوگ بنتے ہیں کہ جن کی یا تو شادی نہ ہوئی ہو یا طلاق اور علیحدگی ہو چکی ہو ، اس حوالے سے مختلف کیسز سامنے آنے کی وجہ سے اب بھارتی وزارت خارجہ نے سنگل انڈین فی میلز کی اسلام آباد کے ہندوستانی ہائی کمیشن میں تعیناتی پر مستقل پابندی لگا دی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں