Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بنوں میں دہشت گردی اور انسانی ڈھال

امن مارچ کے نام پر سادہ لوح عوام کو انسانی ڈھال بنا کر بنوں کینٹ پر شرپسندوں کا حالیہ حملہ ، اس دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور بھگدڑ مچنے سے ایک شہری کی ہلاکت اور 26کا زخمی ہو جانا اس پراکسی وار کا حصہ ہے جس کا مقصد امن کو برباد کرنا اور ملک کو خلفشار ، بے یقینی اور معاشی دلدل میں دھنسائے رکھنا ہے، اس گھنائونی سازش کے تحت شرپسند جتھے احتجاجی مظاہروں کی انسانی ڈھال بنا کر حملہ آور ہوتے ہیں تاکہ جب سکیورٹی فورسز اپنے دفاع میں گولی چلائیں تو سویلین ہلاکتیں ہوں اور انہیں پاک فوج کیخلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے کیلئے ضروری میٹریل ہاتھ لگ جائے۔یہ واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں کہ مختلف دہشت گرد تنظیمیں اور ٹی ٹی پی والے ایسے جلوسوں اور ریلیوں کی آڑ میں اپنے دہشت گردوں اور اسلحہ و گولہ بارود کو باقاعدہ منصوبے کے تحت چیک پوسٹوں اور فوجی چھائونیوں کے قریبی علاقوں میں منتقل کر لیتے ہیں، اور پھر مناسب موقع پا کر اچانک حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہ طریقہ واردات اب انٹیلی جنس اداروں کے نوٹس میں آ چکا ہے اس کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت نے اتنے بڑے ایونٹ کی نہ صرف اجازت دی بلکہ وزیرستان سمیت بنوں کی تمام چھ تحصیلوں اور دیگر ملحقہ اضلاع سے آنے والے جلوسوں کی چیکنگ کا کوئی معقول انتظام نہ کیا گیا۔ بنوں امن مارچ کی ویڈیوز میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ پرامن مظاہرین کے درمیان شرپسندبھی موجود ہیں، کوئی آتشیں اسلحہ سے مسلح ہے تو کچھ لوگوں نے کلہاڑیاں اٹھارکھی ہیں، ایک نوجوان نے سفید جھنڈے پر لال رنگ پہلے سے لگایا ہوا ہے۔
پی ٹی ایم کے سوشل میڈیا اکائونٹس اب یہ بیانیہ بنا رہے ہیں کہ امن مارچ کے سفید جھنڈے کو فوج نے خون آلود کر دیا حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ایک منصوبے کے تحت یہ جھڑپ مینج کی گئی۔ جس کی تفصیلات اب ملکی و بین الاقوامی میڈیا میں چھپ گئی ہیں کہ اس افسوسناک واقعے کا آغاز کیسے ہوا اور مظاہرین میں شامل شرپسندوں نے کس طرح عیاری و مکاری سے امن مارچ کے نام پر یہ خونی کھیل کھیلا۔
کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی
امن مارچ کے نام پر فسادات کا کلچر پھیلانے کے لئےمظاہرین کو پوری ایک سائنس کے تحت سرکاری املاک پر حملوں کیلئے اکسایا جاتا ہے اور سرکاری گوداموں کی لوٹ مار بھی کی جاتی ہے، امن مارچ کی ویڈیوز میں دیکھاجا سکتا ہے کہ پرامن مظاہرین کہلانے والے سرکاری گودام لوٹ رہے ہیں، پرامن مظاہرین کی انسانی ڈھال بناکر اچانک پرتشدد جھڑپ مینج کر کے سویلینز کی ہلاکتیں کروا دینا پراکسی وارز کےوہ ہتھکنڈے ہیں جنہیں عام لوگوں کوسمجھنے کی ضرورت ہے ، اگر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے دہشت گردوں کی اس باریک واردات کا ادراک نہ کیا تو پھر خدا نخواستہ کوئی بڑا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
جرمن میڈیا ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو)نے عینی شاہدین اور حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ جمعے کا احتجاج اس وقت پرتشدد ہوا، جب مظاہرین ایک فوجی تنصیب کی دیواروں تک پہنچ گئے اور عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔ بنوں پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عبدالسلام بیتاب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا۔ ’’چوک میں جگہ کم ہوئی تو مظاہرین کو بنوں اسپورٹس کمپلیکس میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وہاں سے مظاہرین اچانک بنوں کینٹ کی طرف بڑھنے لگے ۔ اسی دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور بھگدڑ مچ گئی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرین نے امن مارچ کے نام پر جمع ہو کر اچانک روٹ بدلا اور فوجی چھائونی کی طرف رخ کر لیا ، امن مارچ کا مقام حالانکہ شہر کا مرکزی چوک تھا ، مظاہرین کو بنوں کینٹ کی طرف جانے سے روکنا صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی ذمےداری تھی لیکن وہ کہیں نظر ہی نہیں آ رہی تھی ، فوج کے خلاف نعرے لگانے والے کچھ شرپسندوں نے اچانک فوجی تنصیبات پر چڑھائی کر دی اور ساتھ ہی پتھرائو بھی شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں وہاں تعینات گارڈز نے دفاعی فائرنگ کی ، زیادہ تر فائرنگ ہوائی تھی ، جس پر بھگدڑ مچ گئی۔‘‘
امن پاسون یعنی امن مارچ کے سلسلے کی یہ پہلی ریلی تھی، جس میں مظاہرین ہمیں امن چاہیے کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس جلسے میں لیڈنگ پوزیشن گو کہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)کی تھی تاہم دیگر مقامی سیاسی جماعتوں کے کارکن، کاروباری طبقے اور سول سوسائٹی کے لوگ بھی شامل تھے۔ امن کے نام پر مارچ کے شرکا اور منتظمین کا رویہ تو پرامن ہوناچاہیے نہ کہ اس کی آڑ میں تشدد بھڑکانے والی سازش رچائی جائے، خیبرپختونخوا حکومت کو دیکھنا ہوگا کہ ایسی تنظیم کو مزید جلسے جلوسوں کی اجازت دینا کہاں کا انصاف ہو گا کہ جو باقاعدہ منصوبے کے تحت سادہ لوح شہریوں کی انسانی ڈھال بنا کر خون خرابے کی سازش رچا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں