Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

جسٹس منصور، اناالحق اور نیا 9 مئی

چڑھا منصور سولی پر، جو واقف تھا وہی دلبر
منصور حلاج نے اناالحق کا نعرہ لگایا اور پھر اس ’’جرم‘‘ میں اسے سولی چڑھا دیا گیا، کہتے ہیں کہ نام کا شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے، کیا سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ بھی ہمارے ملک کے ’’سسٹم‘‘ کو چیلنج کرتے ہوئے اناالحق کا نعرہ لگا چکے ہیں؟ اور کیا انہیں بھی اس ’’جرم‘‘ میں ’’سولی‘‘ چڑھانے کی تیاری کی جا چکی ہے؟ یہ سوالات آج کل راولپنڈی اسلام آباد کے ایوان ہائے اقتدار کی غلام گردشوں میں سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوالات میں شامل ہے، دوسرے بہت سے سیاستدانوں کی طرح دو روز پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی اس حساس ایشو پر گفتگو کی اور نام لئے بغیر پیش گوئی کر دی کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ چیف جسٹس آف پاکستان نہیں بن سکیں گے، یہ سب کیسے ہو گا اس حوالے سے انہوں نے حکومت کے مبینہ عزائم کے بارے میں دلچسپ دعوے کئے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا حکومت قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت مینج کرنے کے لئے جو کچھ کر رہی ہے یہ سب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کی ایکسٹینشن کے لیے ہو رہا ہے،بانی پی ٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کا راستہ روکنے کے لئے دو گیمز جاری ہیں اگر شہباز حکومت فائز عیسیٰ کو ایکسٹینشن نہ دے سکی تو پھر سینیارٹی پر اثر انداز ہو کر اندر سے اپنا بندہ لائے گی، یوں جسٹس منصور علی شاہ دونوں صورتوں میں چیف جسٹس آف پاکستان کا منصب حاصل نہیں کر پائیں گے، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ دونوں صورتیں قابل قبول نہیں ہیں اگر حکومت نے ایسا کیا تو ملک بھر میں بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ بانی پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران 9 مئی کے حوالے سے بھی گفتگو کی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس واقعے نے ان کے اعصاب پر کتنا خوفزدہ کرنے والا اثر ڈالا ہے، 22 اگست کا ترنول جلسہ ملتوی کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں صبح سویرے ملاقات کے دوران اعظم سواتی نے معلومات دیں کہ ختم نبوت حساس معاملہ ہے جس پر دینی جماعتیں اسلام آباد میں احتجاج کر رہی ہیں، اس حوالے سے ہمیں انتشار کا خدشہ تھا اسی لئے پی ٹی آئی نے اسلام اباد میں اپنا جلسہ ملتوی کیا، بانی پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ اگر اس روز جلسہ کرتے تو دوبارہ 9 مئی گلے پڑنے کا خدشہ تھا، ابھی تک پہلے والے نو مئی کی جوڈیشل انکوائری بھی نہیں کروائی گئی،9 مئی نے پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کی سیاست پر اتنا بڑا ڈینٹ ڈالا ہے کہ جس نے ملکی سیاست میں اسے ایک بار تو ادھ موا کر کے رکھ دیا، بانی پی ٹی آئی اپنی پرانی غیر لچکدار پالیسی میں نرمی پیدا کر کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں، لیکن تاحال اپنے ’’نعرہ اناالحق‘‘کے نتائج سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ شاہد ہے کہ یہاں جس کسی نے بھی ’’اناالحق‘‘کا نعرہ لگایا، وہ چاہے بھٹو تھا، چاہے نواز شریف یا عمران خان اسے ’’نتائج‘‘کا سامنا کرنا پڑا، اس لئے یہ کہا جا رہا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کو بھی اپنے نعرہ اناالحق کے نتائج کا سامنا تو ہو گا، باقی لوگوں نے تو منصب سنبھالنے کے بعد یہ نعرہ لگایا لیکن جسٹس منصور شاید نام کے اثر کی وجہ سے کچھ جلدبازی کر بیٹھے اور منصب سنبھالنے سے پہلے ہی ’’اناالحق‘‘کا نعرہ بلند کر دیا، کہتے ہیں کہ کھڑک سنگھ ایک دن کچھ زیادہ ہی بہکی بہکی باتیں کر رہا تھا اور کبھی اچانک بڑھکیں لگانے لگتا، اس کا جگری یار سنتا سنگھ ملنے آیا تو اسے یوں لگا کہ کھڑک سنگھ کو آج کچھ زیادہ ہی چڑھی ہوئی ہے، اس نے پوچھا ’’کھڑکا سنگھا اج ڈبل پیک لایا سی‘‘ کھڑک سنگھ نے سرمستی کی کیفیت میں جواب دیا، ہالے پیتی کتھے آ ، اج وڈی بوتل منگوائی آ ’’کچھ لوگوں کو ڈبل پیک یا بڑی بوتل پینے کے خیال سے چڑھ جاتی ہے اور وہ ’’پری ایمپٹیو سٹرائیک‘‘کر بیٹھتے ہیں، لگتا ہے جسٹس منصور علی شاہ سے بھی کچھ ایسا ہی سرزد ہو گیا ہے۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی گفتگو میں کئی دیگر دلچسپ ڈائیلاگ بھی سامنے آئے، صحافی نے سوال کیا کہ رات کے پچھلے پہر آپ نے اعظم سواتی کو پیغام کس کے ذریعے بھجوایا ؟ پیغام رساں کون تھا؟ فون کی سہولت کیسے ملی؟ اس پر بانی پی ٹی ائی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اس کا جواب رہنے دیں، میڈیا ٹاک کے دوران عمران خان سے سوال کیا گیا کہ اس معاملہ کو کلیئر کریں کہ جیل میں آپ کو وفاقی حکومت نے پیغام دیا یا کسی اور نے، کہ باہر حالات خراب ہو جائیں گے، اس پر بانی پی ٹی آئی نے ذومعنی جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کسی فارم 47 کی حکومت سے کوئی بات چیت نہیں کی، انہوں نے ن لیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ان کو خدشہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات ہوئی ہے ان کو فوری طور پر 9مئی یاد آ جاتا ہے، عمران خان نے دعوی ٰکیا کہ نواز شریف کا بیک پیک لندن کے لیے تیار ہے صرف ضروری سامان اٹھانا ہے، صحافی نے سوال کیا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ کل رات آپ سے فرشتوں نے ملاقات کی، ایسا کیا ہوا کہ آپ کو ایک ہی رات میں اندر کی خبریں ملنی شروع ہو گئیں؟ اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ جب بھی نون لیگ میں کھلبلی دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ ان کو خدشہ ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے بات ہوئی ہے، میں نے کسی حکومت سے جلسے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، ’’انہوں‘‘نے بتایا کہ ملک میں انتشار ہو سکتا ہے جس پر جلسہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا، اڈیالہ جیل میں اس روز کوریج کے لئے جانے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ آج سماعت کے دوران بانی پی ٹی ائی مسکراتے رہے، اور بہت مطمئن اور ہشاش بشاش نظر آئے، جس پرمیڈیا والے دلچسپ تبصرےکرتے رہے، یہ کہا جا رہا کہ یہ سب ’’اناالحق‘‘سے یوٹرن لینے کا کرشمہ ہو سکتا ہے، تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ نیا یوٹرن صرف بانی پی ٹی آئی نے لیا ہے یا ’’واپسی‘‘کے اس سفر میں جسٹس منصور علی شاہ بھی ان کے ساتھ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں