Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مہ رنگ بلوچ سے اختر مینگل تک

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ رکن قومی اسمبلی و سابق وزیر اعلی بلوچستان سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں دھواں دھار تقریر اور اس کے بعد پریس کانفرنس میں شعلہ بیانی کرتے ہوئے بلوچستان کا مقدمہ زوردار انداز میں لڑا اور اپنی نشست سے استعفیٰ دے کر گھر واپس چلے گئے، اس واقعے پر ملک بھر کے جمہوری حلقوں میں افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کے ذریعے قومی مسائل کے حل پر یقین رکھنے والا ایک سینئر سیاستدان اتنا مایوس کیوں ہوا کہ استعفی دے کر گھر واپس چلا گیا، اس افسوسناک واقعے کی حقیقی وجوہات پر بہت کم توجہ دی جا رہی ہے، اس رویئے کی وجہ وہ شدت پسند گروپ ہیں جو بیرونی ایجنڈے کے تحت علیحدگی پسندی کو اپنی منزل قرار دے کر دہشت گردی کا بازار گرم کیئے ہوئے ہیں، سردار اختر مینگل جیسے سیاست دانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان دہشت گردوں سے بھی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں اور ریاستی اداروں کی مخالفت بھی نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ ان کے انتخابی حلقے دہشت گردی کی اس لہر کی زد میں ہیں، ستم بالائے ستم دہشت گرد گروپوں کا رویہ ہے جو علیحدگی پسندی سے شروع ہو کر علیحدگی پسندی پر ہی ختم ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں جو بیرونی طاقتیں ریموٹ کنٹرول کرتی ہیں وہ انہیں کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتیں، ان حالات میں اپنی سیاست بچانے کیلئے سردار اختر مینگل جیسے پرانے سیاستدان بھی مہ رنگ بلوچ جیسی پالیسی اپنانے کی طرف چل پڑے ہیں کہ باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ بیرونی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہو کر ڈالروں میں کھیل رہی ہیں اور ان کی ساری عوامی مقبولیت اس بھاری بیرونی سرمایہ کاری کی مرہون منت ہے جس کے ڈانڈے بھارت اور عالمی اسٹیبلشمنٹ سے جا ملتے ہیں، سردار اختر مینگل جیسے دھیمے مزاج کے سنجیدہ سیاستدان کیلئے یہ راہ پرخار اتنی آسان نہیں ہو گی، اس لیئے انہیں اپنے پرانے دوستوں محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کی طرف واپس آجانا چاہیے۔
بلوچستان میں بیرونی ایجنڈے کے تحت علیحدگی پسندی کے جذبات کو ہوا دینے کیلئے ایک 2 فرنٹ وار جاری ہے, پہلا فرنٹ بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی دہشت گرد کالعدم تنظیمیں ہیں اور دوسرا فرنٹ بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسی متنازع تحریکیں اور این جی اوز ہیں۔ بلوچستان کے عوام اور منتخب نمائندوں کی بھاری اکثریت کا بیرونی ایجنڈے کے تحت سرگرم ان دہشت گرد تنظیموں بی ایل اے اور ان کے پولیٹیکل فیس بلوچ یکجہتی کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا ثبوت عام انتخابات میں بلوچ عوام اور منتخب نمائندوں کی بھرپور شرکت اور وفاقی و صوبائی حکومتوں میں بلوچ سیاست دانوں کی بھرپور نمائندگی ہے۔ بلوچستان میں طویل عرصے سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کو عوامی توجہ اور مقبولیت حاصل نہ ہو سکی تو بیرونی ایجنڈے کے تحت قائم دہشت گردی نیٹ ورک میں تبدیلی لائی گئی اور ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ کی سرکردگی میں اس گٹھ جوڑ کا ایک پولیٹیکل فیس بلوچ یکجہتی کمیٹی کے نام پر تیار کیا گیا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنی ایکٹیویٹی میں خواتین کو بڑی تعداد میں سامنے لا کر ایک حساس انسانی ڈھال تشکیل دے رکھی ہے، اس کا مقصد لوگوں کی توجہ دہشت گردی کے اصل مسئلہ سے ہٹھانا ہے اور میڈیا و عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کا بھی یہ ایک نفسیاتی حربہ ہے۔
حکومت و ریاست پاکستان لاپتہ افراد کے مسئلے کیلئے اپنی مخلصانہ کوشش میں مسلسل مصروف عمل ہے، اس پراسیس کے دوران جن افراد کی رہائی یا گھروں کو واپسی عمل میں آئی اسے بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنی احتجاجی تحریک کا نتیجہ قرار دے کر لوگوں کی توجہ اور ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ مہ رنگ بلوچ یا اس کی تنظیم کا اس سارے عمل سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ وہ اس پر اثر انداز ہو سکتی ہیں, ملک بھر میں لاپتہ افراد کی شناخت اور بازیابی کیلئے جو کمیشن تشکیل دیا گیا اس کی کاوشوں سے یہ مسئلہ 80 فیصد کے قریب حل ہو چکا ہے، ملکی سطح پر اس حوالے سے کل 10 ہزار 311 کیس سامنے آئے، جن میں سے 78 فیصد یعنی 8 ہزار 42 کیسز حل ہو چکے ہیں اور صرف 22 فیصد یعنی 2 ہزار 269 کیسز حل طلب ہیں، بلوچستان میں لاپتہ افراد کے کل 2 ہزار 798 کیسز تھے، ان میں سے 84 فیصد یعنی 2 ہزار 362 کیسز حل ہو چکے ہیں جبکہ 16 فیصد یعنی 436 کیسز حل طلب ہیں, بلوچستان سمیت پورے ملک کے عوام کو پرامن احتجاج کا حق ہے تاہم امن و امان میں خلل ڈالنے والے یا علیحدگی پسند ایجنڈے سے ہم آہنگ احتجاج کی دنیا کے کسی بھی ملک میں اجازت نہیں، بلاشبہ شہریوں کی زندگیوں میں پیش آنے والے ذاتی سانحات افسوسناک ہیں لیکن ان کی بنیاد پر علیحدگی پسندی و دہشت گردی کی براہ راست یا بالواسطہ سپورٹ جائز نہیں ہو جاتی۔ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے لوگ اپنے اپنے بیرونی آقاں کے ایجنڈے کا حصہ بن کر نہ صرف خود اس جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس آگ میں جھونک رہے ہیں، اس عمل کی روک تھام کیلئے فوجی آپریشن ہی واحد حل ہوتا ہے، اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہی آخری حل کے طور پر عمل میں آ رہا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماس موومنٹ اور جلوسوں ، لانگ مارچز اور جلسوں کو بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گرد اپنی عسکری سرگرمیوں کیلئے بطور آڑ بھی استعمال کرتے ہیں اور اس دوران اپنے دہشت گردوں اور اسلحہ کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے اور مظاہرین میں گھس کر قانون نافذ کرنے والے افراد پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، نام نہاد راجی مچی کے دوران بھی ایسے واقعات پیش آئے جن میں ایک سپاہی شہید اور 16 اہلکار زخمی ہوئے, بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لوگوں کی طرف سے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں کو پناہ دینے اور اپنے جلوسوں اور لانگ مارچز میں شامل ہو کر پورے بلوچستان میں پھیل جانے کی سہولت کاری بہت بڑے پیمانے پر کی جا رہی ہے، اس دوران دونوں کی ملی بھگت سے سکیورٹی فورسز کے لوگوں کو بھی اغوا کیا جاتا ہے اور عام بلوچ عوام کو بھی اور انہیں گن پوائنٹ پر یہ اعتراف کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ملٹری انٹیلی جنس کے ایجنٹ یا مخبر ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قیام اور سرگرمیوں پر کروڑوں روپے کے بھاری ماہانہ اخراجات ہو رہے ہیں، ماس موومنٹ کے دوران اب تک ہونے والے دھرنوں اور اجتماعات میں شریک خواتین میں مجموعی طور پر اربوں روپے بانٹے جا چکے ہیں؟ ایک لوئر مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ اس سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں