Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

26 ویں آئینی ترمیم کی اصل کہانی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں جسٹس صاحبان کی تعیناتیاں ان ججز کے ہاتھ میں ہیں جو سیاست کی وجہ سے ایک دوسرے سے بات کرنے کے بھی روادار نہیں ہیں۔ نجی نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ پارٹی مخالفت برائے مخالفت کی سیاست کررہی ہے جس کا مقصد پاکستان کو ناکام بنانا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ حکومت سے وابستہ سیاسی جماعتیں اتنی الجھی رہیں کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے نقصان کا پی ٹی آئی کو سیاسی فائدہ ہو۔پاکستان کی معاشی بدحالی کی سب سے بڑی وجہ مسلسل سیاسی عدم استحکام ہے اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ یہ سوچ ہے کہ جس کی طرف بلاول بھٹو نے اشارہ کیا ہے، ہر دور کی اپوزیشن اپنے وقت کی حکومت کو کام نہیں کرنے دیتی تاکہ کہیں وہ پرفارم کرکے عوام میں اپنی مقبولیت نہ بڑھا لے اس پست سیاسی سوچ نے ملک کو آگے نہیں بڑھنے دیا اور ایک سیاسی و معاشی دلدل میں دھنسا رکھا ہے، ملک کو سیاسی عدم استحکام کی دلدل سے نکلنے نہ دینے میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اعلی عدلیہ کا بھی بڑا ہاتھ ہے، پاکستان کی پچھلے ساٹھ ستر سال کی تاریخ شاہد ہے کہ ہر دور کی عدلیہ نے اپنے وقت کی مقننہ اور حکومت وقت کے ساتھ سینگ پھنسا لیئے اور اپنے وقت کی اپوزیشن سے مل کر ایسے فیصلے دیئے کہ حکومت کو مسلسل اپنی بقا کی پڑی رہی اور ملک کی ترقی اور معاشی استحکام کیلئے جو سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل تھا وہ نصیب نہ ہو سکا، جب سے اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں و تبادلوں پر خود سپریم کورٹ کے ججز کی آمریت مسلط ہوئی ہے ۔
ہمارے ہاں سیاسی غیر یقینی اور معاشی عدم استحکام کی حالت زار مزید بگڑ گئی ہے۔ پورے ملک کی تقدیر پر اثر انداز ہونے والے ججز کے تقرر و تبادلوں کے اختیارات اگر کچھ ’’فرد واحد‘‘قسم کے لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائیں تو میرٹ اور غیر جانبداری کا جنازہ نکل جاتا ہے، ذاتی پسند ناپسند ، ذاتی تعلق داریاں، ذاتی بغض و عناد، ذاتی دھڑے بندیاں اور ذاتی مفادات کے اسیر ہو کر فیصلے کیئے جائیں تو نتیجہ اسی قسم کا نکلتا ہے کہ کئی عشروں بعد انکشاف ہوتا ہے کہ جو جج ایک طویل عرصے سے ہائیکورٹ میں بیٹھ کر ملک و قوم اور 25 کروڑ عوام کی قسمت کے فیصلے کر رہا ہے، اس کی تو اپنی قانون کی ڈگری ہی جعلی ہے، اس لیئے اب یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ ہائیکورٹس کے ججز کی تقرری و تبادلے کے اختیار اور آئینی و سیاسی معاملات کو سپریم کورٹ کے چند ججز کے گروپ کی طرف سے ہائی جیک کر لینے جیسے معاملات پر حتمی فیصلے کا اختیار اپنی اپنی اناں کے خول میں بند ایسے ججز کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے کہ جو ایک دوسرے سے بات کرنے کے بھی روادار نہیں ہوتے، یا پھر چند ججز کے چھوٹے سے دھڑے کے ہاتھوں میں یہ تلوار دے دینا بھی مناسب نہیں کہ پھر سارا سسٹم اس دھڑے کے ہاتھوں یرغمال ہو جاتا ہے، اس کی بجائے یہ حساس اور نازک ذمے داری اداروں کے سپرد کی جانی چاہیئے۔ن لیگ کی حکومت نے پیپلز پارٹی اور دوسری سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے جو 26 ویں آئینی ترمیم لانے کا منصوبہ بنایا ہے اس میں اعلی عدلیہ میں ججز کی تقرری کے کئی عشروں سے سلگتے مسئلے کے جامع اور منصفانہ حل کا راستہ نکالا گیا ہے، اس آئینی ترمیم پیکیج میں ججز کی تقرری کے معاملے پر بڑی بالغ نظری سے درمیانی راہ نکالی گئی ہے تاکہ اس نازک ایشو پر کسی کی بھی بالادستی نہ رہے، اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ایک جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا تھا، پارلیمانی کمیشن نے اس کی سفارشات کو دیکھنا ہوتا تھا ، لیکن پارلیمانی کمیشن کو سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ایک فیصلے م نے غیر موثر کرکے رکھ دیا، حالانکہ یہ جتنا اہم معاملہ تھا اسے فل کورٹ بینچ کو دیکھنا چاہیئے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ کے اس آمرانہ فیصلے کی وجہ سے ملک میں اب صرف ایک ایسا پارلیمانی کمیشن رہ گیا ہے جو اعلی عدلیہ میں تقرریوں و تبادلوں سمیت اہم معاملات میں بالکل ہی غیر موثر ہے اور جوڈیشل کمیشن پر کسی طرح بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے میں ایک شفافیت لائی جائے، آئے دن دیکھا جاتا ہے کہ ہمارے ججز صاحبان کا دیانتداری اور مستقل مزاجی کا ایشو بنا رہتا ہے حتی کہ اب تو ان کی تعلیمی ڈگریوں تک کے ایشوز سامنے آرہے ہیں اور مالی مفادات کے ایشوز بھی سامنے آرہے ہیں۔ اس لیئے ججز کی تقرری جیسے نازک معاملات میں انتہائی باریک بینی کے ساتھ سکروٹنی کی سخت ضرورت ہے، شفافیت کی ضرورت ہے، آئینی ترمیم میں اس سلسلے میں ایک طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے جو خوش آئند ہے۔ مجوزہ آئینی ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 63 اے میں بھی ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، جس کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے خلاف کسی بھی قانون سازی یا بِل پر ووٹ دینے والے رکن پارلیمان کا ووٹ گنتی میں شمار کیا جائے گا۔ یہ ترمیم پارلیمنٹ کی حقیقی روح کی بحالی اور ملک کے سب سے بڑے ایوان کی بالاستی کیلئے ناگزیر ہے کیونکہ اس وقت تو تمام قانون ساز اپنے پارلیمانی لیڈر کی آمریت کی وجہ سے محض ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئے ہیں، یاد رہے کہ ایک عدالتی فیصلے میں آئین ری رائٹ کرتے ہوئے کہہ دیا گیا تھاکہ پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کے تحت ڈالا گیا ووٹ گنا ہی نہیں جائے گا۔اس مجوزہ آئینی ترمیم سے آئین کو اس حالت میں لے آنا مقصود ہے جو کہ میثاق جمہوریت کا اہم جزو ہے اور میثاق جمہوریت پر تمام بڑی سیاسی جماعتیں متفق رہی ہیں، دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں پارلیمنٹ اور منتخب ایوان ہی بالادست ہیں اور آئین کے تحفظ اور اس کی بالادستی کیلئے پارلیمان ہی حرف آخر ہوتی ہے، مگر پاکستان میں پارلیمان کی جگہ عدلیہ نے لے لی ہے اور پارلیمان جو کہ قانونی سازی کا بنیادی ادارہ ہے اور اس کا اولین استحقاق ہی قانون سازی ہے اسے آئین کی تشریح کے نام پر عدلیہ کی آمریت کے ذریعے اس استحقاق کو بہت کمزور کر دیا گیا ہے ، 26 ویں آئینی ترمیم سے پارلیمان کا کھویا ہوا وقار بحال ہو جائے گا اس لیئے اسے ایک تاریخ ساز ترمیم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی آئینی پیکیج میں بلوچستان اسمبلی کی نشستوں کو 65 سے بڑھا کر 81کیا جا رہا ہے، یہ بھی ایک بہت اچھا فیصلہ ہے کیونکہ بلوچستان رقبے کے حوالے سے اتنا بڑا صوبہ ہے کہ جو ملک کے 44 فیصد ایریا کے قریب ہے، اس لئے صوبائی حلقے اتنے وسیع و عریض اور پھیلے ہوئے ہیں کہ متعلقہ ایم پی اے اپنے ووٹرز کی پہنچ سے ہی باہر ہو جاتا ہے، صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کے فیصلے سے بلوچستان اور اس عوام کے احساس محرومی کو کم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں