Search
Close this search box.
جمعه ,17 جولائی ,2026ء

پاکستان اگلے سال علانیہ سپر پاور

پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا اعزاز سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ملا، اس پروگرام کی تکمیل کے ذریعے پاکستان کو ایٹم بم بنانے کا موقع سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں ملا اور چاغی میں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو علانیہ ایٹمی پاور بنانے کا موقع قدرت نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جھولی میں ڈالا۔ کم و بیش ایسی ہی صورتحال پاکستان کو دنیا کی مسلمہ اور علانیہ سپر پاور بنانے کے حوالے سے ہے ہماری ڈیپ اسٹیٹ کئی عشروں سے اس پراجیکٹ پر خاموشی سے عمل کر رہی تھی، لیکن اس مشن کی اسپیڈ بڑھا کر پاکستان کو عملی طور پر دنیا کی سپر پاورز کی صف میں کھڑا کرنے کا اعزاز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حصے میں آنے جا رہا ہے، یہ پیش گوئی کی ہے لاہور کی بزرگ روحانی شخصیت حضرت بابا جی داتا دربار والوں، چولستان کے بزرگ آسٹرالوجرز و ماہر علم الاعداد صوفی عبدالمجید سلیمی اور وہاڑی کے نابینا عامل حافظ غلام اللہ محمدی نے، ان بزرگوں کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران امریکہ جنگ کو ٹالنے کیلئے جتنی محنت کی ہے اس سے کہیں زیادہ محنت پاکستان کو بھارت و اسرائیل پراکسی وار سے محفوظ بنانے کیلئے کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ پاکستان کو دنیا کی بڑی سپر پاورز کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے مسلح افواج کی نئے جدید ترین انداز میں صف بندی پر دے رہے ہیں اور ملک کے ایٹمی و میزائل پروگرام کو اس تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں کہ بھارت و اسرائیل سمیت خطے کے تمام ممالک اس اسپیڈ کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے اور پاکستان اگلے سال یعنی 2027 ء میں دنیا کی نئی سپر پاور بننے کی دوڑ میں اسرائیل و بھارت سے کہیں آگے کھڑا ہوگا اور دونوں عالمی اسٹریٹجک بلاک پاکستان کی اس حیثیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ایران امریکہ اسرائیل جنگ کے بارے میں ان اللہ والوں کا کہنا ہے کہ اس کا موجودہ دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے سے کہیں زیادہ تباہ کن اور خوفناک ہوگا، اس دوران پاکستان پر اور خاص طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر شدید ترین دبائو آئے گا کہ وہ ایران کیخلاف جنگ میں بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی مدد کرے لیکن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر غیر جانبداری کی جس پالیسی پر چل رہے ہیں وہ اس پر سختی سے کار بند رہیں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کو اگلے 6ماہ کے دوران امریکہ و نیٹو ممالک کے شدید ترین دبائو کا سامنا رہے گا، پاکستان میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی پراکسی وارز میں خوفناک شدت آ جائے گی لیکن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس دبائو اور بلیک میلنگ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیں گے، اللہ والوں کا کہنا ہے کہ انہی چھ ماہ کے دوران پاکستان کے خلاف بھارت کی طرف سے جارحیت کا بھی خطرہ نظر آ رہا ہے جس میں اسے اسرائیل کی بھر پور سپورٹ حاصل ہو گی اور اسرائیلی فضائیہ بھی اس دوران خفیہ طور پر بھارت پہنچ کر فضائی جھڑپوں میں حصہ لے سکتی ہے، اس لیئے پاک فضائیہ کو اس ممکنہ آپشن کو سامنے رکھتے ہوئے ابھی سے اس صورتحال سے نمٹنے کی تیاری شروع کر دینی چاہیئے۔ لاہور کی بزرگ روحانی شخصیت حضرت بابا جی داتا دربار والوں، چولستان کے بزرگ آسٹرالوجرز و ماہر علم الاعداد صوفی عبدالمجید سلیمی اور وہاڑی کے نابینا عامل حافظ غلام اللہ محمدی نے پیش گوئی کی ہے کہ بھارت و اسرائیل نے مل کر پاکستان کے خلاف جارحیت کی کوشش کی تو دونوں کو منہ کی کھانا پڑے گی اور اس دوران پاک فضائیہ، پاک بحریہ اور خاص طور پر پاکستان کی میزائل و ڈرون فورس کی ایسی ایسی صلاحیتیں اور جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجیز سامنے آئیں گی کہ بھارت و اسرائیل دونوں کو مشترکہ طور پر عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑے گا اور اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ دنیا پاکستان کو علانیہ طور پر دنیا کی نئی سپر پاور تسلیم کر لے گی،اللہ والوں کا کہنا ہے مشرق وسطی اور جنوبی ایشیاء اگلے ایک برس کے دوران جن بڑی جنگوں سے گزرے گا اس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بالکل تبدیل ہو جائے گا اور نہ صرف اسرائیل کو عرب ممالک پر حاصل عسکری بالادستی کا خاتمہ ہو جائے گا بلکہ بھارت اپنی تاریخ میں پہلی بار مکمل شکست فاش کے بعد ٹوٹ پھوٹ کے دور میں داخل ہو جائے گا اور اس کے اندر سے اگلے 10برسوں کے دوران 13نئی ریاستوں کا جنم ہوگا، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہندوستان کی موجودہ شکل و صورت کے آخری سربراہ ہوں گے اور اس کے بعد اس ملک کی جغرافیائی حوالے سے شکل بدل جائے گی۔
اللہ والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ خطے کے چار اہم ممالک بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور مالدیپ بہت جلد پاکستان کے دفاعی پارٹنرز بن کر سامنے آئیں گے اور بھارت کے شمال مشرق اور جنوب مشرق میں سے نئی 13 ریاستوں کے جنم میں بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کا انتہائی کلیدی کردار ہوگااللہ والوں نے یہ بھی پیشگوئی کی ہے کہ پاکستان کے خلاف پراکسی وار اور آل آئوٹ وار میں بھارت و اسرائیل کی شکست فاش کے بعد افغانستان کی صورتحال میں بھی بہت بڑی تبدیلی آئے گی اور کابل میں ایک وسیع البنیاد قومی حکومت قائم ہو گی جس میں موجودہ طالبان عبوری حکومت کے ساتھ ساتھ شمالی اتحاد اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی اور اس نئی حکومت کے نہ صرف پاکستان بلکہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن برادرانہ تعلقات قائم ہو جائیں گے اور یہ پورا خطہ تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔( واللہ اعلم باالصواب)

یہ بھی پڑھیں