بینظیر بھٹو کی برسی پر برطانیہ میں کیا ہوا؟
محترمہ بینظیر بھٹو کی اٹھارویں برسی کے موقع پر برطانیہ میں جو کچھ دیکھنے کو ملا وہ نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ پیپلز پارٹی کی اوورسیز سیاست پر کئی سنجیدہ سوالات بھی چھوڑ گیا ایک ایسی عظیم رہنما جو نہ
محترمہ بینظیر بھٹو کی اٹھارویں برسی کے موقع پر برطانیہ میں جو کچھ دیکھنے کو ملا وہ نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ پیپلز پارٹی کی اوورسیز سیاست پر کئی سنجیدہ سوالات بھی چھوڑ گیا ایک ایسی عظیم رہنما جو نہ
پاکستان آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سیاسی جوش موجود ہے، ریاستی طاقت بھی برقرار ہے مگر قومی ہم آہنگی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کے گرد گھومنے والی سیاست
یہ بات اب کسی ابہام کی محتاج نہیں رہی کہ پاکستان اس وقت کسی جمہوری ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک یرغمال بنے ہوئے استحصالی نظام کے تحت چل رہا ہے یہ نظام نہ حادثاتی ہے نہ وقتی بلکہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرائن جنگ کے حل کے لیے پیش کیا گیا نیا امن منصوبہ نہ صرف سفارتی حلقوں میں ہلچل کا باعث بنا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے اسٹریٹجک توازن پر بھی گہرا اثر ڈال
بریگزٹ کو اب نو سال کے قریب ہو چکے ہیں، مگر اس کے اثرات آج بھی برطانوی معیشت میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت، جسے کبھی استحکام، قانونی بالادستی، مضبوط اداروں اور
آزاد کشمیر کی سیاست گزشتہ چند برسوں سے جس انتشار، بے یقینی اور طاقت کے کھیل کا شکار ہے، وہ اس خطے کی تاریخ میں شاید پہلی بار اتنی کھل کر سامنے آئی ہے۔ اس خطے میں منعقد ہونے والے2021
فیض احمد فیض کی زندگی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا باب ہے جو جبر، مزاحمت، صداقت اور انسان دوستی سے بھرا ہوا ہے وہ شاعر جن کے لفظ نرم مگر اُن میں زمانے کے طوفانوں سے ٹکرانے کی
ابنِ خلدون چودہویں صدی کا وہ حیرت انگیز مسلمان مفکر تھا جس کی فکری بلندی نے انسانی تاریخ کی سمت بدل دی۔ 1332 میں تیونس میں پیدا ہونے والا یہ نابغہ صرف مورخ نہیں تھا وہ قاضی، سفارت کار، فلسفی،
پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں مستقبل کا فیصلہ محض وسائل یا صلاحیتوں سے نہیں ہوگا بلکہ سمت کے انتخاب سے ہوگا۔ قومیں تب بدلتی ہیں جب وہ حقیقت کو حقیقت سمجھ کر قبول کرتی ہیں، اور
شاہ ولی اللہ دہلوی کی علمی، روحانی اور اصلاحی شخصیت برصغیر کی تاریخ میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا دور سیاسی انتشار، فکری انحطاط، فرقہ واریت اور زوالِ مسلمانی کا زمانہ تھا۔ مگر اس بدترین ماحول