یورپ کی ترقی کا راز اور تیسری دنیا کے لوگ
دنیا کے نقشے پر اگر کسی خطے نے جنگوں، تباہیوں اور اندرونی اختلافات کے باوجود خود کو دوبارہ کھڑا کیا تو وہ یورپ ہے۔ آج یورپ ترقی، قانون، تعلیم، ٹیکنالوجی، انسانی حقوق اور مضبوط اداروں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
دنیا کے نقشے پر اگر کسی خطے نے جنگوں، تباہیوں اور اندرونی اختلافات کے باوجود خود کو دوبارہ کھڑا کیا تو وہ یورپ ہے۔ آج یورپ ترقی، قانون، تعلیم، ٹیکنالوجی، انسانی حقوق اور مضبوط اداروں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
آج 7مئی 2026ء کو برطانیہ میں ہونے والے لوکل گورنمنٹ انتخابات ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کریں گے کہ مقامی سیاست ہی دراصل قومی سیاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس روز انگلینڈ بھر میں تقریبا 150 سے زائد
دنیا کی سیاست میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں جاری مذاکرات بھی بظاہر ایسے ہی ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مگر
آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی آئینی مدت اپنے اختتام کے قریب ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر انتخابی عمل، جمہوری تسلسل اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے اہم سوالات سر اٹھا رہے ہیں۔ بظاہر تو
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے خطرناک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ہر گزرتا دن حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بظاہر سفارتکاری کی کوششیں جاری ہیں، بیانات میں نرمی بھی دکھائی دیتی ہے، مگر زمینی حقائق اس
امریکہ اسرائیل کے غیر قانونی اور غیر انسانی ایران پر حملے کے بعد مشرقِ وسطی ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ چکا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن
مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع، جس میں ایران، امریکہ اور اسرائیل براہِ راست ملوث ہیں، ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کر رہا ہے کہ عالمی نظام کس قدر نازک اور غیر یقینی ہو چکا ہے۔ جو
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں نے بین الاقوامی صورتحال کو نہایت پیچیدہ اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی
برطانوی پارلیمنٹ کےایوانِ بالاہائوس آف لارڈزمیں25 فروری 2026ء کو سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قید،انسانی حقوق کی صورتحال اور پاکستان میں جمہوری عمل کے حوالے سے ایک اہم بحث منعقد ہوئی۔ اس بحث نے نہ صرف برطانیہ میں مقیم
عالمی سیاست غیر یقینی کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں طاقت، سفارت کاری اور بیانیہ تینوں آپس میں گتھم گتھا نظر آتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ٹرمپ کی مقبولیت کا جائزہ لینا محض ایک سیاسی تجزیہ ہی