Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بین الاقوامی حالات میں قومی یکجہتی کے تقاضے

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں نے بین الاقوامی صورتحال کو نہایت پیچیدہ اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں طاقت کا قانون، قانون کی طاقت پر غالب آتا نظر آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ، بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں کی موجودگی کے باوجود جس طرح طاقتور ممالک نے اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کئے ہیں، اس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ دنیا ایک ایسے جنگل میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں اصولوں کے بجائے طاقت کا راج ہے۔
یورپ میں زندگی کا طویل عرصہ رہتے ہوئے اکثر یہ احساس ہوتا تھا کہ یہاں انسانی حقوق، جمہوری اقدار اور قانون کی حکمرانی کا احترام کیا جاتا ہے۔ یہاں معاشرتی انصاف، شہری آزادیوں اور عالمی قوانین کی پاسداری کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ لیکن حالیہ عالمی حالات اور خصوصاً امریکی قیادت کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ سوال ذہن میں ابھرنے لگا ہے کہ کیا واقعی یہ تمام اقدار اتنی مضبوط ہیں جتنی دنیا کو دکھائی جاتی ہیں؟ جب طاقتور ممالک بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلے کرتے ہیں تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اصولوں کی بات صرف کمزور ممالک کے لیے کی جاتی ہے جبکہ طاقتور ریاستیں خود کو ان اصولوں سے بالاتر سمجھتی ہیں۔
اس صورتحال میں ایک اور دلچسپ تبدیلی بھی نظر آ رہی ہے۔ یورپ اور برطانیہ کے اندر بھی یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ امریکہ کے ہر فیصلے کی اندھی تقلید کرنا اب ان کے قومی مفادات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض یورپی ممالک اور برطانیہ میں پالیسی ساز حلقوں کے اندر امریکہ سے فاصلے بڑھنے لگے ہیں۔ یہ تبدیلی عالمی طاقت کے توازن میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
دوسری جانب عرب دنیا بھی ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں نئی صف بندیاں بنتی اور ٹوٹتی نظر آرہی ہیں۔ خطے کے ممالک اب صرف نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے اس پورے خطے میں ایک نئی جغرافیائی اور سیاسی ترتیب جنم لے رہی ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں مزید واضح ہوں گے۔
ان تمام حالات کے درمیان پاکستان کی صورتحال نہایت حساس اور نازک ہے۔ پاکستان ایک طرف امریکہ کا اتحادی ہمیشہ سے رہا ہے اور افغانستان کی جنگ میں اس نے کئی دہائیوں تک اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک اور ایک مسلمان برادر ریاست ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ایک ایٹمی طاقت بھی ہے جس کی اپنی سیکیورٹی اور علاقائی ذمہ داریاں ہیں۔ ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے پاکستان ایک ایسے جغرافیائی اور سیاسی مقام پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم نہایت سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہے۔
پاکستان کے لئے بدقسمتی سے سب سے بڑا چیلنج صرف بیرونی خطرات نہیں بلکہ اندرونی کمزوریاں بھی ہیں۔ کمزور معیشت، سیاسی عدم استحکام اور قومی سطح پر بڑھتی ہوئی تقسیم ملک کو کمزور کر چکی ہے۔ اگر خدانخواستہ پاکستان کو کسی بڑے بحران یا جنگ کا سامنا کرنا پڑے تو سب سے بڑی ضرورت قومی اتحاد اور داخلی استحکام کی ہوگی۔ ایک تقسیم شدہ قوم کبھی بھی بیرونی چیلنجز کا مثر انداز میں مقابلہ نہیں کر سکتی۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو مقدم رکھا وہی قومیں مشکل ترین حالات سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی ایسے مواقع آئے ہیں جب پوری قوم ایک پرچم تلے متحد ہو گئی۔ 1965 ء کی جنگ ہو یا دیگر قومی بحران، عوام نے ثابت کیا کہ جب ملک کو ضرورت ہو تو پاکستانی قوم ہر قسم کے اختلافات بھلا کر متحد ہو سکتی ہے۔
آج بھی پاکستان کو اسی قومی جذبے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ذاتی مفادات اور اقتدار کی کشمکش سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دیں۔ جمہوری اختلافات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن قومی سلامتی اور ریاستی استحکام ایسے معاملات ہیں جن پر پوری قوم کا متفق ہونا ضروری ہے۔
اسی طرح ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، دانشوروں اور میڈیا کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میڈیا کا کردار خاص طور پر اہم ہے کیونکہ وہ عوامی رائے کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر میڈیا ذمہ داری کے ساتھ قومی اتحاد، برداشت اور مثبت سوچ کو فروغ دے تو معاشرے میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
معاشی استحکام بھی قومی سلامتی کا ایک اہم ستون ہے۔ ایک مضبوط معیشت ہی ملک کو عالمی سطح پر خود مختار فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ پاکستان کو اپنی معیشت کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ جب معاشی بنیادیں مضبوط ہوں گی تو ملک بیرونی دبائو کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ عوام کے اندر قومی شعور اور ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرنا ضروری ہے۔ قومیں صرف حکومتوں کے فیصلوں سے نہیں بلکہ عوام کے اجتماعی شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر ہر شہری اپنے ملک کے مفاد کو مقدم رکھے، قانون کی پاسداری کرے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دے تو ایک مضبوط اور متحد قوم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ عالمی حالات پاکستان کے لیے ایک بڑا امتحان بھی ہیں اور ایک موقع بھی۔ اگر ہم نے دانشمندی، اتحاد اور بصیرت کے ساتھ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا تو پاکستان نہ صرف ان چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ گزر سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور باوقار ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
آج سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کے لیے متحد ہو سکتے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو یقینا پاکستان کا مستقبل محفوظ ہے۔ کیونکہ متحد قومیں ہی تاریخ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ہماری مقتدرہ کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیئے کہ ان کی طاقت صرف عوام ہی کی حمایت سے ممکن ہے اس لئے فیصلے بھی وہی ہونے چاہیئے جو عوام کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوں مشکل وقت ہے معیشت کمزور ہے قرضوں پر مانگ تانگ کر گزارہ ہورہا ہے افغانستان، انڈیا اور ایران کی سرحدیں گرم ہیں اور ہمارے دو صوبوں میں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں امریکہ ہو چین ہو روس ہو یا مشرق وسطیٰ یہ ممالک اپنے فیصلے اپنے مفادات کے لئے کرتے ہیں ہمیں ان کا آلہ کار بن کر اپنی آزادی اور خود مختاری اور سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیئے۔ پاکستانی عوام کے بھی ذمہ داری ہے کہ مشکل وقت میں ملک کی خاطر اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کرے ۔

یہ بھی پڑھیں