Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات اور چیلنجز

آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی آئینی مدت اپنے اختتام کے قریب ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر انتخابی عمل، جمہوری تسلسل اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے اہم سوالات سر اٹھا رہے ہیں۔ بظاہر تو جمہوری روایات کے مطابق انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہیے تاہم موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک غیر یقینی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔ محتاط اندازہ یہی ہےکہ پاکستان میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم سےقبل شاید آزاد کشمیر کے انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہو سکے۔
خطےکی صورتحال اس وقت خاصی پیچیدہ ہےافغانستان کے ساتھ کشیدگی،ایران پر صہیونی اور امریکی دبائو اور مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست ایسے عوامل ہیں جو پاکستان کی داخلی ترجیحات کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ بعید نہیں کہ آئینی ترامیم میں تاخیر ہو اور اس کے نتیجے میں آزاد کشمیر کے انتخابات بھی موخر کرنے کا جواز پیدا کیا جائے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا ہر بار بیرونی حالات کو بنیاد بنا کر جمہوری عمل کو موخر کرنا درست حکمتِ عملی ہے؟
اگرتمام ترخدشات کےباوجود آزاد کشمیر کا موجودہ آئینی ڈھانچہ برقرار رہتا ہے اور روایتی طریقہ کار کے مطابق انتخابات کا اعلان کر دیا جاتا ہے تو ایک اہم مسئلہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی 12 نشستوں کا بھی ہے۔ اگر وفاقی حکومت ان نشستوں کے خاتمے یا اصلاح کے حوالے سے اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کرتی تو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کی کال آنا ایک متوقع امر ہوگا۔ اس صورتحال کو بنیاد بنا کر انتخابات کو ملتوی کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے جو مزید سیاسی کشیدگی کو جنم دے گی۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو آزاد کشمیر کی بہت بڑی اکثریت جائز سمجھتی ہے۔ اگر ان مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا یا قیادت ان سے پیچھے ہٹ گئی تو ایک بے سمت عوامی ردعمل جنم لے سکتا ہے جسے کنٹرول کرنا مشکل ہوگا۔ تاریخ گواہ ہےکہ جب عوامی جذبات کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو احتجاج اپنی قیادت سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔
اس تمام ترصورتحال میں سب سےبنیادی اوراہم مطالبہ یہی ہے کہ انتخابات بروقت آزادانہ اور منصفانہ انداز میں منعقد کئےجائیں۔ 2021 ء کےانتخابات اوراس سے قبل کے انتخابی تجربات نے عوام کے اندر بے چینی اور عدم اعتماد کو بہت بڑھایا ہے منتخب وزرائے اعظم کی بار بار تبدیلی، سیاسی وفاداریوں کا بدلنا اور اسلام آباد کے اثر و رسوخ کا تاثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو مکمل احترام حاصل نہیں رہا۔ اگر اس روایت کو نہ بدلا گیا تو اب کی بار انتخابی عمل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گی۔
ریاستی جماعتوں کی موثر نمائندگی ایک اہم پہلو ہےجسے اب نظرانداز نہیں کیاجا سکتا۔ اگر پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر کے سیاسی عمل میں اسی طرح مکمل غلبہ رکھیں گی تو اس سے ریاستی شناخت متاثر ہوگی اور عوام میں احساسِ محرومی بڑھے گا۔ اس کے برعکس اگر ریاستی جماعتوں کو مضبوط کیا جائے اور انہیں حکومت سازی کے عمل میں حقیقی کرداردیاجائےتو اس سے نہ صرف آزاد کشمیر کا سیاسی تشخص بحال ہوگا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی ایک مثبت پیغام جائے گا۔
بھارت کی جانب سے 2019 ء میں آئینی تبدیلیوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ایک بڑا سیاسی دھچکہ تھا۔ اس کے بعد وہاں کے حالات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ طاقت کے ذریعے سیاسی مسائل حل نہیں کیےجاسکتے۔ ایسے میں آزاد کشمیر ایک متبادل ماڈل کےطورپر سامنے آ سکتا ہےایک ایساماڈل جہاں عوامی نمائندگی، آئینی بالادستی اور سیاسی خودمختاری کویقینی بنایاجائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے نہ صرف عالمی برادری کو ایک مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے بلکہ کشمیری عوام کے اعتماد کو بھی بحال رکھا جا سکتا ہے۔
ایک اور اہم تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ آزاد کشمیر میں اقتدار کی تقسیم کو زیادہ متوازن بنایا جائے۔ مثال کے طور پر وزیرِاعظم کا تعلق آزاد کشمیر کے اندر سے ہو جبکہ صدر کے عہدے کے لئے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی کسی نمایاں شخصیت کو منتخب کیا جائے۔ اس سے نہ صرف ریاست کے دونوں حصوں کے درمیان ایک علامتی اور سیاسی ربط پیدا ہوگا بلکہ کشمیر کی وحدت کا تصور بھی مضبوط ہوگا۔
یہ امر بھی انتہائی اہم ہےکہ پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتیں آزادکشمیر کے معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت سے گریز کریں۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی کو ایک بااختیار ادارہ بنایا جائےجہاں فیصلےعوام کے منتخب نمائندے کریں نہ کہ لاڑکانہ لاہور اسلام آباد کے دبائو یا سیاسی مفادات کے تحت۔ اگر یہی طرزِعمل جاری رہا تو نہ صرف سیاسی عدم استحکام بڑھےگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مزید متزلزل ہوگا۔
آخرمیں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام ریاستِ پاکستان کے خلاف نہیں ہیں۔ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے رشتے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر ساتھ ہی وہ اپنے سیاسی حقوق، شناخت اور باوقار جمہوری نظام کے بھی خواہاں ہیں ان کے اس حق کو تسلیم کرنا اور اس کا احترام کرنا ہی اصل دانشمندی ہے چونکہ ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا اورنہ انڈیاکی طرح پاکستان نے آزادکشمیر پر اپنی پوزیشن تبدیل کی یا اس کو کوئی اپنا صوبہ ڈکلیئر کیا ۔اسی لئے میرے نزدیک آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک امتحان ہیں ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور جمہوری اقدار کے لیے۔ اگر یہ امتحان شفافیت، دیانت اور عوامی اعتماد کے ساتھ پاس کیا گیا تو یہ نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورے خطے کےلیےایک مثبت مثال قائم کرے گا۔ بصورتِ دیگرغیر یقینی اور بےاعتمادی کا یہ سلسلہ مزید گہرا ہو سکتا ہےقابل افسوس بات یہ ہے آزاد کشمیر کی بڑی قد آور سیاسی شخصیات اب اس دنیا میں نہیں رہیں اور موجودہ اقتداری جماعتوں کے آزادکشمیر چیپٹر کے نمائندوں کے پاس کوئی ایسا لیڈر نہیں جو اپنے پائوں پر کھڑا ہوکر کشمیریوں کی بات کرسکے چونکہ ہرکوئی اقتدارکی کرسی پر بیٹھنا چاہتا ہے اور انہیں معلوم ہے اقتدار تعریفیں کرنے سے ملتا ہے اس لیے لیپا پوشی اور خیرمقدمی نعروں سے کام چلایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں