آج 7مئی 2026ء کو برطانیہ میں ہونے والے لوکل گورنمنٹ انتخابات ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کریں گے کہ مقامی سیاست ہی دراصل قومی سیاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس روز انگلینڈ بھر میں تقریبا 150 سے زائد مقامی کانسلز میں انتخابات منعقد ہورہے ہیں تقریبا پانچ ہزار سے زائد نشستوں پر امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے اس کے ساتھ ساتھ کئی بڑے شہروں میں 6 میئرز کے انتخابات بھی ہوں گے جبکہ اسکاٹ لینڈ اور ویلز کی اسمبلیوں کے انتخابات اس پورے سیاسی عمل کو مزید اہم اور ہمہ گیر بنا رہے ہیں۔مقامی حکومتیں برطانیہ میں عوامی زندگی کے بنیادی ڈھانچے کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ تعلیم، ہائوسنگ، ویسٹ مینجمنٹ، ٹرانسپورٹ، سوشل کیئر اور کمیونٹی سروسز جیسے اہم شعبے انہی اداروں کے ذریعے چلتے ہیں۔ اسی لئے لوکل الیکشن صرف نمائندوں کے انتخاب تک محدود نہیں بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی کے معیار کا فیصلہ بھی کرتے ہیں یہ براہ راست عوام کو اقتدار میں شامل ہونے کا حق ہے یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ مقامی سطح سے شروع ہوکر پارلیمنٹ تک منتقل ہوتا ہے۔ یہ ووٹ سے منتخب ہونے والے نمائندے ہر صورت میں عوام ہی کی بات کرتے ہیں یہاں عوام دراصل فیصلوں کا اختیار بھی عوام کے پاس ہے ۔برطانیہ کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو لیبر پارٹی، کنزرویٹو پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس روایتی طور پر مرکزی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس دفعہ سخت پریشر اور فرسٹریشن کا سامنا کر رہی ہیں۔
لندن کی 32 بارز میں لیبر پارٹی کی پوزیشن کسی حد تک مستحکم دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ تارکین وطن ہیں جو روایتی طور پر تو تینوں جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں جب کہ لیبرپارٹی کا یہاں اکثریتی ووٹ ہے جبکہ یہاں کے مئیر صادق خان کا تعلق بھی لیبرپارٹی سے ہے جو گزشتہ تین بار منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں جبکہ لیبرپارٹی کی ملک کے دیگر حصوں میں گرفت کمزور بھی پڑ سکتی ہے اور امکان ہے کہ کئی کونسلیں اس کے ہاتھ سے نکل جائیں۔ دوسری طرف کنزرویٹو پارٹی اس وقت قیادت اور پالیسی دونوں حوالوں سے عوامی سطح پر شدید دبائو اور عدم مقبولیت کا شکار ہے۔لبرل ڈیموکریٹک پارٹی پرانی پارٹی ہے اس کی نمائندگی پارلیمنٹ، ہائوس آف لارڈز اور مقامی سطح پر موجود ہے اس کے لیڈر ایڈ ڈیوی اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسوں کے خلاف ہیں غزہ کے مسلمانوں کے لئے بھرپور آواز آٹھاتے ہیں لیکن مقامی سطح کے ان الیکشن میں ووٹر مقامی ترجیحات کے تحت ووٹیں دیتے ہیں لبرل ڈیموکریٹ پارٹی ہمیشہ تیسری پوزیشن حاصل کرتی ہے لیکن اس دفعہ دلچسپ پیش رفت گرین پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے، جو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں واضح بہتری دکھا رہی ہے۔ ماحولیاتی ایجنڈا اور نوجوان ووٹرز کی حمایت نے اسے کئی علاقوں میں ایک مضبوط پارٹی کے طور پر ابھارا ہے، اور توقع ہے کہ وہ متعدد نشستیں حاصل کرے گی۔تاہم سب سے بڑا چیلنج ریفارم پارٹی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ مختلف سرویز کے مطابق یہ جماعت سفید فام آبادی میں تیزی سے ووٹرز کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور پہلی بار بڑے پیمانے پر مقامی سطح پر بڑے مارجن سے سیٹیں جیتنے کی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے۔ ریفارم پارٹی کی مہم غیر روایتی اور جارحانہ اور ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت ہے جس میں امیگریشن اور قومی شناخت جیسے موضوعات کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیڈر نائجل فراج ماضی میں بھی متنازعہ بیانات اور بریگزٹ مہم کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے ہیں، اور ان کی سیاست امیگرنٹس اور مسلمانوں کے حوالے سے تنقید کا باعث بنتی رہی ہے۔ریفارم پارٹی کے جلسوں میں زیادہ تر مسلمانوں کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں نائجل فراج برطانیہ کے وزیراعظم کئیر سٹارمر امریکہ کی ایران کی جنگ کے حمایتی ہیں اور برطانیہ کو اس جنگ میں شامل ہونے کے بارے متعدد بیان دیتے ہیں۔ جبکہ جب سے ٹرمپ اقتدار میں آئے ہیں اس پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے جبکہ کنزرٹیو پارٹی کے کئی سابق وزیر اور ممبران آف پارلیمنٹ ریفارم پارٹی جوائن کرچکے ہیں ۔
دوسری جانب وزیراعظم کیئر اسٹارمر اس وقت ایک سیاسی دبائو کا بھی سامنا کر رہے ہیں، جس میں امریکہ میں تعینات ہونے والے سابق سفیر پیٹر میڈسن سے متعلق اسکینڈل بھی زیر بحث ہے ۔ جولائی 2024 ء میں یہاں مسلمانوں کے خلاف سفید فام کے مظاہرے ہوئے تھے جس میں مسلمانوں کی مساجد پر حملے کیے گئے تھے وزیراعظم نے سخت ایکشن لیا تھا اور تمام مساجد کے لئے سیکورٹی کے لئے فنڈنگ مختص کرکے کل وقتی سیکورٹی فراہم کی کی تھی دو سیکورٹی اہلکار 24/7اس وقت بھی تمام چھوٹی بڑی مساجد میں تعینات ہیں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی محتاط موقف اختیار کیا ہے، مثلا امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے میں شامل نہ ہونے کا واضح اعلان کیا جس پر وہ قائم ہیں جو ایک آزاد خارجہ پالیسی کی جھلک پیش کرتا ہے،لیبر پارٹی کے اندر پارلیمانی سطح پر فی الحال اتحاد اور اکثریت موجود ہے اس لیے فوری طور پر حکومت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں۔ تاہم مقامی سطح پر صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔
کنزرویٹو اور لیبر دونوں پارٹیاں اس وقت نئی پالیسیوں اور حکمت عملی کے ذریعے ریفارم پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ ووٹر، جو روایتی سیاست سے مایوس ہو کر ریفارم کی طرف جا رہا ہے ان نئی پالیسیوں سے دوبارہ قائل ہو سکے گا یا نہیں۔کیئر اسٹارمر بطور ایک قانون دان واضح اور کھل کر بات کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی پالیسیوں کا جھکا یورپی یونین کے ساتھ بہتر تعلقات اور تعاون کی طرف ہے اور وہ 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کو ایک غلط فیصلہ سمجھتے ہیں۔ وہ نیٹو کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں برطانیہ کے دفاع کو مستحکم رکھنا چاہتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ اسپیشل ریلیشن برقرار رکھتے ہوئے بھی خودمختار فیصلے کرنے پر زور دیتے ہیں۔ تاہم رائٹ ونگ حلقوں کی جانب سے ان پر یہ دبائو بھی موجود ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ واضح اتحاد اختیار کریں۔ان تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ 7 مئی 2026 ء کے انتخابات ایک پیچیدہ اور فیصلہ کن مرحلہ ہوں گے۔ خاص طور پر پاکستانی مسلمان اور دیگر تارکین وطن کمیونٹیز کے لیے یہ لمحہ نہایت اہم ہے۔ سکاٹ لینڈ کی اسمبلی میں سکاٹش نیشنل پارٹی واضح اکثریتی پارٹی نظر آرہی ہے جبکہ لیبرپارٹی دوسرے نمبر پر سرویز کے مطابق نظر آتی ہے۔ مضبوط جمہوری نظام حکومت میں ووٹ کی طاقت ہوتی ہے اس طاقت کو استعمال کریں اور برطانوی جیسے ملک میں ووٹ جس کو ڈالیں گے اسی کا ہی نکلتا ہے اور کاونٹ بھی اسی کے لئے ہوتا ہے۔