مصنوعی ذہانت (AI) کا ظہور اور انسانی آزادی
کامیابی کی تعریف ایک عرصے سے ایک کھوکھلی تلاش بن چکی ہے، ایک ایسی دوڑ جس کی اختتامی لکیر صرف انسانی روح کی تھکن ہے۔ جب میں لندن میں ایک وکیل کے طور پر اپنے سفر پر نظر ڈالتا ہوںجہاں
کامیابی کی تعریف ایک عرصے سے ایک کھوکھلی تلاش بن چکی ہے، ایک ایسی دوڑ جس کی اختتامی لکیر صرف انسانی روح کی تھکن ہے۔ جب میں لندن میں ایک وکیل کے طور پر اپنے سفر پر نظر ڈالتا ہوںجہاں
قرآنِ کریم اور مستند نبوی روایات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسانیت ایک ایسےدور سےگزرے گی جس میں خوف،فساد،ناانصافی، انتشار،دھوکہ اورروحانی خلا بڑھ جائےگا۔ اسلامی عقیدے کےمطابق یہی وہ زمانہ ہوگا جس کے بعدحضرت عیسی ابنِ مریم
عصر حاضر کی روحانیت میں ایک نہایت نازک مگر خطرناک انحراف جنم لے رہا ہے ایسا انحراف جو تصوف کے نورانی پردے میں نفس کی تاریکیوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ محض فکری لغزش نہیں، بلکہ مقاماتِ عالیہ
سورۃ الرحمٰن قرآنِ مجید کی ان سورتوں میں سے ہے جو صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ دل میں اترتی ہیں۔ یہ سورۃ مکہ مکرمہ میں اس دور میں نازل ہوئی جب انسان کے دل کو بیدار کرنا، اسے اپنے رب
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)کی ترقی کی رفتار حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے۔ جس پیش رفت کے لیے ماضی میں دہائیوں کا اندازہ لگایا جاتا تھا، وہ اب چند سالوں میں ممکن ہو رہی ہے۔ اس کی
ہم انسانی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اب کوئی دور کا خواب یا محض سائنسی تصور نہیں رہی بلکہ ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی حقیقت بن چکی ہے جو خاموشی کے ساتھ
اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری امت کے لئے حضرت محمد ﷺ کو منتخب فرمایا، اور عرب سرزمین، عرب قوم اور عربی زبان کو ایک خاص نسبت اور شرف عطا کیا۔ یہ انتخاب محض اتفاق یا جغرافیائی مجبوری نہ تھا بلکہ
ایک ایسی دنیامیں جہاں شور،بحث،اور بےشمار نظریات موجود ہیں، انسانی دل خاموشی سےایک سادہ سوال کرتاہے،آخری اورمطلق حقیقت کیا ہے؟کیا وجود محض ایک اتفاق ہے؟کیا زندگی ایک بے مقصد حادثہ ہے؟یا اس سب کے پیچھے ایک ایسی حقیقت ہے ایک
1971 میں عرب دنیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی لمحہ رقم ہوا۔ خلیجِ عرب کے سات امارات اپنی اپنی شناخت، قیادت اور روایات کے ساتھ ایک ہو کر ایک قوم بن گئے،جو راستے الگ رہ سکتے تھے، وہ ایک
حالیہ آرٹیمس IIمشن انسانی تاریخ کا ایک عظیم اور تاریخی سنگِ میل ہے۔ اس مشن کے ذریعے انسان نے زمین سے پہلے سے کہیں زیادہ دور خلا میں سفر کیا اور انتہائی تیز رفتار کے ساتھ بحفاظت واپس زمین پر