بھارت ایک طرف نان نیٹو اسٹریٹجک اتحادی بن کر امریکہ ، اسرائیل اور یورپی یونین کے ساتھ بہت بڑے پیمانے پر جدید ترین اسلحہ اور گولہ بارود کی خرید و فروخت کر رہا ہے تو دوسری طرف اس عالمی استعمار کے متاثرہ ممالک روس ، ایران اور عرب ممالک کا سب سے قریبی دوست اور تجارتی پارٹنر بھی بنا ہوا ہے ۔ روس کیخلاف جنگ میں یوکرین کو گولہ بارود ، ڈرون طیاروں اور میزائلوں کی شدید قلت کا سامنا ہے ، روس کے ساتھ اپنی 75 سالہ دوستی اور اسٹریٹجک تعلقات کی وجہ سے ہندوستانی حکومت یوکرین کو براہ راست تو گولہ بارود اور میزائل سپلائی نہیں کر سکتی تھی چنانچہ بھارت کے ٹاپ سپائی ماسٹر اجیت دووال کے شیطانی دماغ نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ امریکہ، برطانیہ اور دوسرے نیٹو ممالک کو اسرائیل کیلئے گولہ بارود و میزائلوں کی سپلائی سے بے نیاز کر دیا جائے تو یہ ممالک اسرائیل کیلئے تیار کردہ اپنا اسلحہ و گولہ بارود کا سو فیصد اسٹاک یوکرین کو سپلائی کر سکتے ہیں ، یوں بھارت نے اسرائیل کو گولہ بارود و میزائلوں کی بڑے پیمانے پر فراہمی کا خفیہ نیٹ ورک بنا کر بالواسطہ طور پر یوکرین کو گولہ بارود و میزائلوں کی شدید قلت کے مسئلے کے حل کا راستہ نکال دیا۔
پاکستانی مارخور ہمیشہ سے ’’را‘‘ اور اجیت دووال پر کڑی نظر رکھتے ہیں ، امریکہ ، نیٹو ممالک اور اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے جاری اجیت دووال کے اس شیطانی منصوبے کی بھنک پڑتے ہی پاکستان کی ٹاپ انٹیلی جنس ایجنسی نے بھارتیوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا منصوبہ بنایا تاکہ سفید جھوٹ بولنے میں ماہر مودی سرکار اپنے خفیہ سپلائی نیٹ ورک سے انکار بھی نہ کر سکے ۔ اسرائیل کو بھارتی گولہ بارود کی سپلائی دنیا کے سامنے آشکار کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ یہ بات بھی ریکارڈ پر آ جائے کہ ہندوستان کی مودی سرکار غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی میں کس بڑے پیمانے پر شریک ہے۔
مارخور نے بھارتی گولہ بارود کی اسرائیل کو خفیہ طور پر سپلائی کا نیٹ ورک بے نقاب کرکے ایک تیر سے دو تین شکار کرنے کا منصوبہ بنایا اور ایسی چالیں چلیں کہ خود کو بڑا شاطر دماغ سمجھنے والے اجیت دووال کو ڈیڑھ دو ماہ تک سولی پر لٹکائے رکھا۔ پچھلے کئی عشروں سے بھارت اسرائیل اسٹریٹجک گٹھ جوڑ کو یہود و ہنود سازش قرار دیا جاتا ہے ، لیکن بہت سے نام نہاد روشن خیال دانشور اسے محض ایک تخیلاتی اتحاد قرار دیتے ہوئے دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ بھارت اسرائیل اسٹریٹجک گٹھ جوڑ کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں اور یہ بنیاد پرست مسلمانوں کی محض ایک ذہنی اختراع ہے ، لیکن بھلا ہو مار خور اور ’’اوپن سیکرٹ سیونتھ ایونیو‘‘ کی ٹیم کا ، کہ ان کے ٹویٹس نے بھارت اسرائیل اسٹریٹجک گٹھ جوڑ کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر دنیا کے سامنے پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے ، مارخور نے ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ جب سوشل میڈیا پر یہ انکشاف کیا کہ بھارتی گولہ بارود کی ایک نئی کھیپ اسرائیل بھجوائی جا رہی ہے تو پورے مشرق وسطی میں کہرام مچ گیا ۔
جنوب مشرقی بھارت کی بندرگاہ چنائی سے اسرائیل کی ہندر گاہ حیفہ کیلئے عازم سفر ہونے والا ہندوستانی مال بردار جہاز ماریان ڈینیکا جب 8 اپریل کو روانہ ہوا تو مار خور کی اس جہاز پر اسی وقت سے نظر تھی کہ جب ابھی چنائی بندرگاہ میں جہاز پر گولہ بارود ، میزائل اور دیگر اسلحہ لادا جا رہا تھا ، ڈنمارک میں رجسٹرڈ اس کارگو شپ پر بھارتی اسلحہ ساز فیکٹریوں میں تیار ہونے والا 27 ٹن مہلک گولہ بارود لدا ہوا تھا جسے غزہ کے علاقے رفاہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں استعمال ہونا تھا ، مارخور نے چونکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کیلئے اسرائیل کو بھارتی گولہ بارود اور میزائلوں کی سپلائی کی اس کھیپ کی خبر عالمی و سوشل میڈیا کو لیک کر دی تھی، اس لئے حوثی باغیوں کے حملے سے بچنے کیلئے کارگو شپ نے بحیرہ عرب اور بحیرہ قلزم کا سیدھا راستہ استعمال کرنے کی بجائے بحر ہند ، بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کا ہزاروں کلومیٹر طویل راستہ چنا اور پورے براعظم افریقہ کا چکر کاٹ کر یہ بحری جہاز اسرائیل پہنچا ۔ سفر لمبا ہوجانے کی وجہ سے بھارتی شاطر دماغ ڈیڑھ دو ماہ تک دنیا کے سامنے بے نقاب اور ذلیل ہوتا رہا ۔
(جاری ہے)