وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں25 اور 20 فیصد اضافہ کر کے انہیں بڑی عید پر بڑی خوشی دی ہے لیکن بجٹ پیش کیے جانے کے ساتھ ہی مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ من گھڑت مہم لانچ کر دی گئی کہ تنخواہوں میں جتنا اضافہ کیا گیا ہے کم و بیش اتنا ہی انکم ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے ، یعنی ایک ہاتھ سے دے کر ساری اضافی تنخواہ دوسرے سے واپس لے لی گئی ہے ، اس منفی پروپیگنڈہ مہم نے سرکاری ملازمین کی اس بڑی خوشی کو پریشانی میں بدل دیا جو 25 اور 20 فیصد تنخواہیں بڑھنے کی خبر نے پیدا کی تھی ، اور پھر ہر سرکاری ملازم ہاتھ میں کیلکولیٹر لے کر بیٹھ گیا کہ اس کی تنخواہ میں اصل میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کو دیئے گئےبڑے ریلیف کیخلاف منفی پروپیگنڈہ مہم کا سیدھا سادہ جواب تو یہ ہے کہ پہلے اسکیل سے 16 ویں اسکیل تک تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور انکم ٹیکس کی شرح میں اضافہ صرف ڈھائی فیصد سےچار پانچ فیصد تک ہے، اور یہ اضافہ بھی 50 ہزار روپے سے کم ماہانہ تنخواہ پر لاگو نہیں ہو گا کیونکہ سالانہ 6 لاکھ روپے سے کم والے تنخواہ دار طبقے پر کوئی ٹیکس عائد ہی نہیں کیاگیا،لیکن اس وضاحت سے بھی یار لوگوں کی تسلی نہیں ہو گی کیونکہ تنخواہ داروں پر انکم ٹیکس کی شرح بڑھانے کا خوفناک پروپیگنڈہ اس زوردار انداز میں لانچ کیا گیا کہ اچھے بھلے مین اسٹریم اور انٹر نیشنل میڈیا کے رپورٹرز نے بھی ان من گھڑت اعداد و شمار پر یقین کر لیا اور یہ خبریں فائل کر دیں کہ تنخواہوں میں اضافہ انکم ٹیکس میں اضافے کی مالیت کے برابر ہے ، اس لیئے ضروری ہو گیا ہے کہ اس معاملے کو مزید سادہ اور عام فہم کر کے دیکھا جائے۔
جن لوگوں کی تنخواہ 50 ہزار سے زائد اور ایک لاکھ روپے سے کم ہے ان کی تنخواہ میں کتنا اضافہ ہوا ہے اور ان کے ذمے واجب الادا انکم ٹیکس کتنا بڑھا ہے ؟ تجزیہ اسی سوال سے شروع کرتے ہیں کیونکہ اس کیٹیگری کے ٹیکس دہندہ سرکاری ملازمین کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔
جس سرکاری ملازم کی تنخواہ 50 ہزار روپے ماہانہ سے زائدتھی اس پر انکم ٹیکس پہلے ڈھائی فیصد تھا جو اب بڑھا کر 5 فیصد کر دیاگیا ہے، یعنی وہ پہلے 625 روپے ماہانہ انکم ٹیکس دیتا تھا اور 49375 روپے گھر لے کرجاتا تھا ، تنخواہ میں 25 فیصد اضافے سے اس کی نئی تنخواہ 62500 روپے ماہانہ ہو گئی ہے اور اس پر5 فیصد انکم ٹیکس 3125 روپے بنتا ہے یعنی اب وہ 49 ہزار 375 روپے کی بجائے 59 ہزار 375 روپے گھر لےکرجائے گا ، یعنی عملی طور پر اس کی تنخواہ 10 ہزار روپے بڑھ گئی ہے ۔
اسی طرح سکیل 17 اور اس سے اوپر تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ان کی تنخواہوں پر انکم ٹیکس عملی طور پر 6 فیصد سے 9 فیصد بڑھا ہے ، سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ کمانے والوں کا انکم ٹیکس 5 فیصد کر دیا گیا ہے یعنی ایک لاکھ روپے تک تنخواہ والے کا ماہانہ انکم ٹیکس 1250 سے بڑھا کر 2500 روپے کر دیا گیا ہے۔ یعنی 20 فیصد اضافے سے ایک لاکھ سیلری والے کی تنخواہ 20 ہزار روپے ماہانہ بڑھ گئی ہے جبکہ اس کا انکم ٹیکس صرف ساڑھے 12 سو بڑھا ہے ۔ سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس 15 فیصد کردیا گیا ہے یعنی ماہانہ 1 لاکھ 83 ہزار 344 روپے تنخواہ والوں کا انکم ٹیکس 11667 سے بڑھا کر 15 ہزار روپے ماہانہ کردیا گیا ہے۔ یعنی انکم ٹیکس میں اضافہ صرف 3333 روپے ہے جبکہ 1 لاکھ 83 ہزار 344 روپے تنخواہ میں 20 فیصد اضافہ 35000 روپے سے زائد بنتا ہے سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدنی پر ٹیکس 25 فیصد عائد کیا گیا ہے یعنی ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار 667 روپے تنخواہ کا انکم ٹیکس 28 ہزار 770 سے بڑھا کر 35 ہزار 834 روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ یعنی انکم ٹیکس ماہانہ کم و بیش 7 ہزار روپے بڑھا ہے جبکہ تنخواہ میں 20 فیصد اضافے کے تحت 55 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ اسی طرح سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدنی پر 30 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے یعنی ماہانہ 3 لاکھ 41 ہزار 667 تک تنخواہ کا ٹیکس 47 ہزار 408 روپے سے بڑھ کر 53 ہزار 333 روپے ماہانہ ہوگیا ہے۔ یعنی انکم ٹیکس ساڑھے 6 ہزار روپے بڑھا ہے جبکہ تنخواہ 20 فیصد کے حساب سے 68 ہزار روپے ماہانہ بڑھ گئی ہے ۔
تنخواہوں اور انکم ٹیکس میں اضافے کے اس تقابلی جائزے کا مقصد سرکاری ملازمین کی عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنا ہے تاکہ انہیں یقین آ جائے کہ یہ تاثر قطعی غلط اور جھوٹ کا پلندہ ہے کہ تنخواہوں میں مجموعی اضافہ بڑھائے گئے انکم ٹیکس سے کم ہے ۔ جو لوگ یہ جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ان کی منفی ذہنیت اس تفصیلی تجزیئے سے عیاں ہو رہی ہے کہ وہ کتنا سفید جھوٹ بول رہے ہیں اور تنخواہ دار طبقے کو حکومت نے جو ٹھیک ٹھاک ریلیف دیا ہے اس کی خوشیوں کو ملیامیٹ کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔