انتہا پسند صرف ہتھیار اٹھا کر دہشت گردی کرنے والے نہیں ہوتے، سیاست و معیشت سمیت ہر شعبہ زندگی میں یہ زہر سرایت کر چکا ہے، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بحیثیت مجموعی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں انسانی معاشرہ اور نظام سیاست و حکومت مسلسل انارکی کا شکار ہے اور یہ فساد خلق بڑھتا ہی جا رہا ہے، جن معاشروں نے اس زہر کا تریاق ڈھونڈ لیا ہے وہ ترقی و خوشحالی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور جہاں ہر بار مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں ہیں وہاں خرابی بڑھتی ہی جا رہی ہے، پاکستان سے غداری کر کے بھارت کی مدد سے بنگلہ دیش قائم کرنے والے شیخ مجیب الرحمن کو ہیرو ثابت کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم چلائی گئی، مقصد صرف یہ تھا کہ پاکستان توڑنے کی تمام تر ذمے داری ریاستی اداروں پر ڈال کر موجودہ سیاسی محاذ آرائی کے حوالے سے انہیں دبا ئومیں لایا جائے، اس کوشش کا کیا نتیجہ نکلا یہ ہمارا موضوع نہیں، ہم تو ان تاریخی غلط فہمیوں کا ازالہ چاہتے ہیں کہ جو وقتی سیاسی مفاد کے لئے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
شیخ مجیب الرحمن کے قریبی ساتھی شوکت حسین نے 2010 ء میں بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میں ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے خطاب کے دوران یہ انکشاف کیا تھا کہ اگرتلہ سازش کے بارے میں حکومت پاکستان کے الزامات درست تھے۔ انہوں نے ایک ہیرو کی طرح اس سازش کو اپنا کارنامہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات یوں درست ہیں کہ بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن کے ساتھی کی حیثیت سے وہ خود ان واقعات کے ایک اہم کردار تھے، اگرتلہ سازش کیس سابق صدر ایوب خان کے زمانے میں سامنے آیا تھا، یعنی 1970ء کے عام انتخابات سے بہت پہلے، اس لئے جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمن پاکستان توڑنا نہیں چاہتا تھا انہیں شیخ مجیب الرحمن کے قریبی ساتھیوں کے اگرتلہ سازش کے حوالے سے اعترافات ضرور پڑھنے اور سننے چاہئیں تاکہ ان کی تاریخی غلط فہمی کا ازالہ ہو سکے، شوکت حسین کی انگریزی میں یہ تقریر اس وقت بھی گوگل اور سوشل میڈیا پر موجود ہے۔کیسی دلچسپ صورتحال ہے کہ بنگلہ دیش کے بڑے سیاستدان اور اہم حکومتی عہدیدار پچھلے کئی عشروں سے علانیہ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمن بھارت کی مدد سے خفیہ طور پر پاکستان کو توڑنے کی کوشش پچھلے ایک عشرے سے کر رہے تھے اور اگرتلہ سازش اور چھ نکات اسی سلسلے کی کڑی تھے لیکن پی ٹی آئی کی مخصوص پروپیگنڈہ مشین کا اصرار ہے کہ شیخ مجیب الرحمن پاکستان توڑنا نہیں چاہتا تھا ۔بنگلہ دیش کے سابق نائب وزیراعظم مودود احمد نے اپنی کتاب ’’بنگلہ دیش، کنٹمپریری ایونٹس اینڈ ڈاکیومنٹس‘‘ میں اگر تلہ سازش کی کچھ مزید تفصیلات کا ذکر کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ بھارت کی مدد سے بنگلہ دیش میں بغاوت کے منصوبے کیلئے اگرتلہ جانے والوں کی ملاقات وہاں انڈین فوج کے لیفٹیننٹ کرنل مشرا، میجر مینن اور بعض دیگر افسروں سے ہوئی تھی۔ ان کی کتاب میں سازش میں ملوث کئی افراد کی گرفتاریوں کا بھی ذکر ہے جن میں عوامی لیگ چٹاگانگ کے سیکریٹری مالیات بھوشن چوہدری عرف مانک چوہدری بھی شامل تھے،یاد رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی اسپیکر شوکت حسین بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو اگر تلہ جا کر بھارتی فوجی افسروں سے ملے۔ بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میں اپنے اسی کردار کے حوالے سے وہ خود کو بنگلہ دیش کے قیام کی طویل سازش کا ہیرو قرار دے رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہے ہیں انہوں نے یہ کارنامہ بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں انجام دیا۔
بنگلہ دیش کے سابق نائب وزیر اعظم مودود احمد نے اپنی کتاب میں مزید لکھا ہے کہ بھارت کے علاقے اگر تلہ جاکر ہندوستانی فوجی افسروں سے ملاقاتیں کرنے والوں کی گرفتاریوں کی وجہ سے ایوب خان کی حکومت کو اس سازش کے ثبوت میسر آئے، یہ سازش کیا تھی؟ اب اس پر بات کرتے ہیں۔منصوبہ یہ تھا کہ صدر ایوب خان کو قتل کر کے مشرقی پاکستان کی آزادی کا اعلان کر دیا جائے اور بھارتی فوج کی مدد سے مسلح بغاوت کے ذریعے کنٹرول سنبھال لیا جائے، اس سازش میں بنگالی فوجی آفیسرز اور بیوروکریٹس بھی شامل تھے جو اگرتلہ جا کر بھارتیوں سے ملتے رہے۔اس سازش کی ابتدائی اطلاع یہ تھی کہ صدر ایوب خان کو اغوا کر کے قتل کر دینے کا منصوبہ ہے، صدر پاکستان کی جان لینے کی ایک اور کوشش یوں کی گئی ک ایوب خان دسمبر 1967ء میں مشرقی پاکستان میں چندرا گونا کے مقام پر جانے والے تھے۔ یہاں انہیں ایک پیپر مل کا معائنہ کرنا تھا۔ دورے کی تمام تر تیاریاں مکمل تھیں لیکن اچانک اسے منسوخ کر دیا گیا۔ اطلاع یہ تھی کہ ان کے طیارے کو بم سے اڑانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ریاست پاکستان اور ریاستی اداروں کی مخالفت اور کردار کشی کیلئے پی ٹی آئی کا مخصوص سوشل میڈیا گروپ کس طرح تاریخی واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا رہا ہے اس کا اندازہ شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات اور اگر تلہ سازش کیس کے مصدقہ تاریخی واقعات اور دستاویزات کو مسلسل جھٹلانے کی حالیہ سوشل میڈیا مہم سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات بھی کتابوں اور انٹرنیٹ پر موجود ہیں جن میں مشرقی اور مغربی پاکستان کیلئے الگ کرنسی، الگ مالیاتی نظام ، الگ حکومت اور الگ فوج اور الگ پیرا ملٹری فورس تک کے قیام کا مطالبہ شامل ہے، اس سب کے باوجود پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے مخصوص حصے کا یہ پروپیگنڈہ کرنا 25 کروڑ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا اور کیا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتا تھا۔