Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مخصوص نشستوں پر ’’مخصوص اسپیشل‘‘ فیصلہ

مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی مخصوص ہے، مخصوص حالات میں مخصوص مقاصد کے پیش نظر آئین کی مخصوص دفعات کے تحت جب مخصوص فیصلے آئیں تو انہیں ہر کوئی اپنی مخصوص نظر سے دیکھتا ہے، جس فیصلے کے ساتھ اتنے ڈھیر سارے مخصوص ’’اٹیچ‘‘ہو جائیں اسے مخصوص اسپیشل کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ پاکستان کی سیاست کا بھی عجیب معاملہ ہے، یہ ہمیشہ مخصوص حالات کا شکار رہتی ہے، ایک قسم کے مخصوص حالات سے نکلتی ہے تو نئی قسم کے مخصوص حالات میں داخل ہو جاتی ہے، اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہماری اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے جب مخصوص سیاسی تنازعات کے حوالے سے فیصلے آتے ہیں تو وہ مخصوص نوعیت کے ہی ہوتے ہیں، ایک دور کے مخصوص نوعیت کے فیصلے دوسرے دور کے مخصوص فیصلوں سے میل نہیں کھاتے، نہ آئینی و قانونی اعتبار سے اور نہ ہی سیاسی و اخلاقی معیارات کے حوالے سے!اب مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی سپریم کورٹ میں اپیل کے فیصلے کو ہی دیکھ لیجئے کہ کیسا دلچسپ فیصلہ ہے کہ مخصوص نشستیں نہ ان فریقوں کو ملی ہیں کہ جن کے پاس سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرتے وقت موجود تھیں اور نہ اس فریق مقدمہ کو دی گئی ہیں جو خود کو ان نشستوں کا حق دار سمجھتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل لے کر گیا تھا۔ اور سب کچھ اس فریق کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے کہ جو کیس میں فریق ہی نہیں تھا۔
ایک اور دلچسپ پہلو اس فیصلے کا یہ ہے کہ ان آزاد ارکان کو یہ ترغیب اور حق دیدیا گیا ہے کہ وہ خود کو پی ٹی آئی کا ممبر قرار دے کر پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا حصہ بن سکتے ہیں کہ جو قبل ازیں تحریری بیان حلفی دے کر اور باقاعدہ ڈیکلریشن جمع کروا کر خود کو سنی اتحاد کونسل کا ممبر بنا چکے تھے۔ گویا ارکان اسمبلی کو ایک مخصوص پارٹی کا پلیٹ فارم جوائن کرنے کیلئے اپنے پہلے بیان حلفی کی خلاف ورزی کی آئینی و قانونی اجازت دیدی گئی ہے۔ اس سے ایک نئی نظیر بھی قائم ہو گئی ہے کہ سپریم کورٹ یا عدالت کی اجازت سے کوئی بھی فرد اپنے بیان حلفی اور ڈیکلریشن سے توبہ تائب ہو سکتا ہے اور اس اقدام پر وہ ہر قسم کی قانونی، آئینی، اخلاقی اور مذہبی پکڑ سے بری الذمہ ہوگا۔ گویا جب سئیاں بئے کوتوال تو ڈر کاہے کا ؟ جب چاہیں نیابیان حلفی دیں اور اسی حوالے سے دیئے گئے سابقہ بیان حلفی سے مکر جائیں ۔ کھیل بچوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا ۔ آئین و قانون نہ ہوا موم کی ناک ہو گئی، جب چاہا نئی شکل دیدی اور نئے رخ پر موڑ دیا۔
سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں جو شارٹ آرڈر دیا ہے اس میں یہ بھی واضح نہیں کہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کیلئے دیئے گئے بیان حلفی سے ’’توبہ تائب‘‘ہونے والے ارکان اسمبلی کو نیا بیان حلفی جمع کروانے کی جزوی آزادی حاصل ہو گی یا مکمل آزادی ؟ یعنی کیا جزوی آزادی کے تحت وہ صرف پی ٹی آئی سے وفاداری کے حوالے سے ہی نیا بیان حلفی دے سکیں گے یا انہیں مکمل آزادی ہو گی اور وہ ن لیگ ، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم یا کوئی بھی پارلیمانی پارٹی جوائن کر سکیں گے؟ یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ پی ٹی آئی جوائن کرنے کا اہم فیصلہ کرنے کیلئے سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی کو 15 دنوں کی جو مہلت دی گئی ہے اس دوران کوئی نیا آئینی و قانونی کٹا بھی کھل سکتا ہے ، دس، بیس یا چالیس پچاس ارکان اسمبلی اگر اس دوران اپنا فارورڈ بلاک بنا لیں یا اجتماعی طور پر ن لیگ یا پیپلز پارٹی کو جوائن کرنے کا بیان حلفی جمع کروا دیں تو مخصوص نشستوں کے مخصوص فیصلے کے تحت اس نئی مخصوص صورتحال کو کس نظر سے دیکھا جائے گا ؟ اور اگر اس حوالے سے کوئی نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا تو پھر اس کے حل کیلئے معاملہ کیا اسی 13 رکنی فل کورٹ میں جائے گا یا اس نئے مسئلے کے حل کیلئے ایک نیا بنچ تشکیل دیا جائے گا ۔ایک اور تاثر یہ بھی ہے مخصوص نشستوں کے کیس پر حالیہ فیصلے کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف کو ’’گنگا اشنان‘‘کروا دیا گیا ہے۔
انٹرا پارٹی الیکشن کروانے میں تاخیر اور مختلف قانونی و آئینی کوتاہیوں سے لے کر سنی اتحاد کونسل جوائن کرنے تک پی ٹی آئی نے جتنے بھی سیاسی و قانونی بلنڈرز کیئے ان سب کو اس ایک فیصلے کے ذریعے محفوظ ’’کور‘‘ فراہم کر دیا گیا ہے، اور پی ٹی آئی اس گنگا اشنان کے بعد اچانک ’’پوتر‘‘ہو گئی ہے اور ایک ہی دھکے کے ذریعے سینٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں واپس پہنچ گئی ہے۔ قومی سیاست کا یہ نیا دھکا اسٹارٹ فیز کیا گل کھلاتا ہے؟ اور کیا متاثرہ فریق 13 رکنی فل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہیں؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، تاحال تو صورتحال یہ ہے اس فیصلے کو سب لوگ اپنی اپنی مخصوص عینک سے ہی دیکھ رہے ہیں، فیصلے کے بینیفشری اسے سپریم کورٹ کے کمپلیٹ جسٹس کے اختیار کا کرشمہ قرار دے کر تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں جبکہ متاثرہ فریق یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کمپلیٹ جسٹس کی یہ سہولت صرف مخصوص حالات میں مخصوص سیاسی جماعتوں کیلئے ہی دستیاب رہے گی یا جامع انصاف کی یہ خیرات ہر خاص و عام کی جھولی میں ڈال کر سب کیلئے یکساں انصاف کے اصول کا بول بالا کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں