کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کا آئین میں ایک واضح طریقہ کار درج ہے ، پاکستان تحریک انصاف ہو یا کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت، اس پر پابندی لگانے کا عمل اس طے شدہ طریق کار کے تحت ہی مکمل ہو گا اس لئے شہباز حکومت نے اگر اس حوالے سے کوئی عندیہ دیا ہے یا ریفرنس سپریم کورٹ میں بھجوانے کا اعلان کیا ہے تو اس میں اتنی ہاہا کار مچانے کی کیا ضرورت ہے؟پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے لئے حکومت اگر کوئی اقدام کرتی ہے اور اس حوالے سے ریفرنس سپریم کورٹ میں بھیجتی ہے تو اس میں غیر قانونی و غیر آئینی بات کیا ہے؟ آئین نے ہر حکومت وقت کو یہ اجازت دی ہے یا یوں کہیں کہ یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ اگر وہ یہ دیکھے کہ کوئی سیاسی جماعت آئین میں درج وجوہات کے تحت پابندی لگنے کی مستحق ہے تو اس حوالے سے ضروری اقدامات کرے اور ریفرنس سپریم کورٹ میں بھجوائے۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے نہیں کرنا بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرنا ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے حالیہ کردار کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف اس کی سب سے بڑی بینیفشری جماعت ہے، مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ بھی اس حقیقت کا عکاس ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت پی ٹی آئی کو فیور دینے کے حوالے سے واضح رحجانات رکھتی ہے، ایسی فیور ایبل عدالت میں پابندی لگنے کے فیصلے کی سماعت سے پی ٹی آئی کا بھاگنا اور ہاہا کار مچانا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ یا پھر یہ چور کی داڑھی میں تنکا کے مترادف ہے اور پی ٹی آئی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اگر یہ کیس سپریم کورٹ میں آیا تو دوران سماعت اس کی ایسی متنازع سرگرمیاں باضابطہ طریقے سے آئین و قانون کی عدالت اور عوام کی عدالت کے سامنے آ سکتی ہیں کہ جن کا دفاع اس کیلئے ممکن نہیں ہو گا۔
آئین کا آرٹیکل 17 (2) کہتا ہے کہ’’ ہر شہری کو جو سرکاری ملازم نہیں ہے ایک سیاسی جماعت بنانے یا اس کا رکن بننے کا حق حاصل ہوگا، یہ حق پاکستان کی خودمختاری یا سا لمیت کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کی گئی کسی بھی معقول پابندی کے تابع ہے، آئین کے اسی آرٹیکل میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ جب وفاقی حکومت یہ اعلان کرتی ہے کہ کوئی سیاسی جماعت پاکستان کی خودمختاری یا سا لمیت کے خلاف کسی طریقے سے بنائی گئی ہے یا کام کر رہی ہے، وفاقی حکومت ایسے اعلان کے پندرہ دنوں کے اندر معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجے گی جس کا فیصلہ اس حوالے حتمی ہوگا۔آرٹیکل 17(3) کے مطابق ہر سیاسی جماعت کو قانون کے مطابق اپنے فنڈز کے ذرائع کا حساب دینا ہو گا، مسلم لیگ ن کی حکومت کا یہ واضح اور دو ٹوک اسٹینڈ ہے کہ پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں اگر کوئی سیاسی جماعت آئین کی اس شق کے تحت واضح طور پر کالعدم ہونے کی اہل ہے تو وہ پاکستان تحریک انصاف ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی 10 سالہ حالیہ تاریخ یعنی اگست 2014 ء میں شروع ہونے والی تقریباً ایک دہائی پر محیط متنازع سیاست کے دوران پی ٹی آئی نے جو گل کھلائے اور جس طرح کی کارروائیاں ڈالیں ان کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جائیں تو کسی بھی سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کے تمام قانونی و آئینی لوازمات پورے ہوتے ہیں۔
پی ٹی آئی پر غیر ملکی فنڈنگ اور دیگر متنازع سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بڑے پیمانے پر الزامات اس دور میں لگنے شروع ہوئے جب اس نے اسلام آباد میں اپنا مشہور زمانہ دھرنا دیا۔ اس دھرنے کے دوران پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ، وزیراعظم ہائوس، پی ٹی وی پر حملے کئے، سپریم کورٹ کی عمارت کو نشانہ بنایا، پولیس افسران اور تھانوں پر حملے کیے، فوجی و ریاستی تنصیبات پر چڑھائی کی اور ریڈیو پاکستان کو نذر آتش کیا، یہ سلسلہ رکا نہیں، پی ٹی آئی کے دور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اس کا دور حکومت بھی متنازع واقعات سے عبارت رہا، یہ کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی کا ریفرنس سپریم کورٹ میں بھجواتے وقت ن لیگی حکومت ان واقعات کے حوالے سے بھی چونکا دینے والے ثبوت سامنے لا سکتی ہے کہ قومی اسمبلی کو کس طرح غیر آئینی طور پر تحلیل کیا گیا، 9 مئی واقعات کے دوران کس طرح ریاستی اداروں اور شہدا کی یادگاروں کو نذرِ آتش کیا گیا، فوجی افسران پر حملے کیئے گئے اور ملک میں بغاوت کو ہوا دینے کی پوری کوشش کی گئی، اگر اس حوالے سے بھی ثبوت پیش کر دیئے گئے کہ ایک ایٹمی ریاست کی مسلح افواج کے اندر، آرمی چیف کے خلاف بغاوت برپا کرنے کی کوشش کی گئی، تو معاملہ انتہائی سنگین صورت اختیار کر جائے گا، پاک فوج کے شہدا کی قربانیوں کا مذاق اڑانے اور مسلح افواج کے خلاف شرانگیز اور زہریلی سوشل میڈیا مہم کی ریکارڈنگز بھی ریفرنس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں پیش کی جا سکتی ہیں، یہ ایسے ثبوت ہوں گے کہ جن کا دفاع کرنے کی کوشش کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا کو دانتوں پسینہ آجائے گا۔
ن لیگ کے اس موقف میں بڑا وزن ہے کہ پی ٹی آئی والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ پچھلے 10 برسوں کے دوران کس طرح کے گل کھلاتے رہے ہیں، انہیں اندازہ ہے کہ اگر یہ ریفرنس پیش ہوتا ہے تو پابندی کا فیصلہ ہو یا نہ ہو، ان کی سیاسی مظلومیت کے موجودہ بیانیئے کو بڑا دھچکا لگے گا، ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت موجودہ اتحادی حکومت کی رکن جماعتیں سپریم کورٹ میں پیش ہونے والے ثبوتوں اور جج صاحبان کے ریمارکس کی بنیاد پر اپنا بیانیہ نئے سرے سے طاقتور کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں گی، اور یہ چانسز تو ہوں گے ہی کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اگر قائل ہو گئے تو وہ ریفرنس کو منظور بھی کر سکتے ہیں ایسی صورت میں پی ٹی آئی کی سیاست کو اتنا بڑا دھچکا لگ جائے گا کہ پھر شائد جس کی جلد تلافی ممکن نہ رہے۔