دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عرصہ دراز سے لاپتہ افراد کا مسئلہ چلا آ رہا ہے، عسکریت پسندی، پراکسی وارز، دہشت گردی، معاشی بدحالی، قبائلی دشمنیاں، خاندانی تنازعات سمیت مختلف وجوہات کی وجہ سے لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں، کچھ لوگ کالعدم تنظیمیں جوائن کرنے کی وجہ سے اپنے اہل خانہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے بچانے کیلئے جان بوجھ کر لاپتہ ہو جاتے ہیں، کچھ لوگ دہشت گردی کیخلاف جنگوں میں بمباری یا آپریشن میں ہلاکتوں کے دوران لاشیں شناخت کے قابل نہ رہنے کی وجہ سے لاپتہ ہی رہتے ہیں، کچھ لوگ اپنے کیسز کی سنگینی کی وجہ سے کوئی نام و نشان چھوڑے بغیر دوسرے ممالک یا علاقہ غیر میں نکل جاتے ہیں، کچھ ایسے اداروں کی گرفت میں آ جاتے ہیں کہ جو اس خدشے سے ان کی گرفتاری ظاہر نہیں کرتے کہ کمزور عدالتی نظام کی وجہ سے رہائی پاکر یہ لوگ دوبارہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہو کر عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نقصان پہنچائیں گے، بندہ کسی بھی وجہ سے لاپتہ ہو اس کے خاندان کو ایک بڑے انسانی المیئے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مر جانے والے اپنے پیاروں کے حوالے سے اہل خانہ کو آخر کار صبر آ جاتا ہے لیکن لاپتہ افراد کا دکھ ایسا غم ہے جو زندگی بھر کا روگ بن جاتا ہے، متاثرہ گھرانے تلاش کیلئے بھاگ دوڑ اور قانونی کارروائی پر اپنی جمع پونجی بیچ کر خرچ کر دیتے ہیں، اگر گھر کا کمانے والا لاپتہ ہو جائے تو غمزدہ فیملی کی دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، صحت، علاج اور شادی بیاہ کے معاملات مسئلہ بن جاتے ہیں، یہ امر خوش آئند ہے کہ ریاست پاکستان نے لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ان دکھوں کا احساس کرتے ہوئے ان کیلئے ایک بڑے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس پیکج کے تحت لاپتہ ہونے والے افراد کے ہر خاندان کیلئے پچاس لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا گیا ہے، اس فیصلے کے تحت حکومت 5 سال سے زیادہ عرصے سے گمشدہ افراد کے خاندانوں کو یہ مالی امداد دے گی، اس کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کی تلاش اور نشاندہی کی مہم بھی جاری رکھی جائے گی تاکہ اگر لاپتہ افراد زندہ ہیں تو وہ جلد از جلد اپنے پیاروں تک واپس پہنچ سکیں، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس تاریخی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اس سلسلے میں گرانٹ کی منظوری دیدی ہے اور یہ پیکج مستحق فیملیز کو جلد ملنا شروع ہو جائے گا۔
حکومت نے لاپتہ افراد کی تلاش اور نشاندہی کے لئے جو کمیشن قائم کیا تھا اس کی شبانہ روز کاوشوں سے 78 فیصد کیسز حل ہو چکے ہیں، کل 10 ہزار 285 لاپتہ افراد کے کیسز رجسٹرڈ ہوئے اور ان میں سے 8 ہزار پندرہ حل ہو چکے ہیں باقی 2 ہزار 270 کیسز کے لئے مزید کوششیں جاری ہیں، اپنی پریس کانفرنس میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گمشدہ افراد کے پیچھے متعدد پیچیدہ وجوہات ہیں، ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے، افسوسناک الزامات کے باوجود ریاست اور اداروں نے ہمیشہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کے درد کو انسانی بنیادوں پر محسوس بھی کیا ہے اور تسلیم بھی کیا ہے، پانچ برس سے لاپتہ افراد کے غمزدہ خاندانوں کی امداد کیلئے 50 لاکھ روپے امداد کا اعلان حکومت اور ریاست کے اسی جذبے کا عکاس ہییاد رہے کہ لاپتہ افراد نے گوادر میں کئی روز سے دھرنا دے رکھا تھا تاہم دو تین روز قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی اور ڈی سی گوادر کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان ہوا اور حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ تمام گرفتار افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان نے آئی جی پولیس اور صوبیکے تمام ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کر دیا ہے جس میں 24 جولائی سے 16 ایم پی او کے تحت گرفتار تمام افراد کو رسمی کارروائی کے بعد رہا کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے ، ایک طرف حالیہ دنوں کے دوران حراست میں لیئے گئے افراد کی رہائی کی نوید آئی ہے تو دوسری طرف پانچ سال سے لاپتہ افراد کے خاندانوں کے لئے پچاس پچاس لاکھ کی امداد کا اعلان بھی اس سامنے آ گیا ہے، ان فیصلوں سے بلوچستان سمیت ملک بھر کے ان غمزدہ گھرانوں کی مالی مشکلات اور مصیبتوں کو کم کرنے میں مدد دے گا جن کے پیارے پچھلے پانچ برسوں سے زیادہ عرصے سے گھر واپس نہیں آئے، بلاشبہ مالی امداد لاپتہ ہونے والے پیاروں کا نعم البدل تو نہیں ہو سکتی تاہم یہ ان کے زخموں پر مرحم ضرور ثابت ہو گی۔پچھلی دو دہائیوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک خوفناک جنگ کا سامنا کیا ہے جس کی وجہ سے لاپتہ افراد کے مسائل میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ امید کی جانی چاہیئے کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے اس عذاب سے ملک و قوم کی جان جلد چھوٹ جائے گی اور مزید لوگوں کے لاپتہ ہونے کا دکھ کسی پاکستانی کو جھیلنا نہیں پڑے گا،
لاپتہ افراد کا مسئلہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور پاکستان میں یہ تعداد امریکہ، بھارت اور برطانیہ جیسے دیگر ممالک سے کم ہے، کچھ افراد خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لیتے ہیں یا دہشت گرد گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت مخفی رہتی ہے۔ ریاست تمام وسائل بروئے کار لا کر لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لئے کوشاں ہے ریاست کی تمام پالیسیوں کا مقصد اپنے شہریوں کی زندگی کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر تفصیل سے بات چیت ہوئی اور ان کے مسائل کے حل کے لئے مزید اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ بلوچستان کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا اور ملک کے دوسرے حصوں میں لاپتہ افراد کے جو کیسز ہیں ان کو بھی اس بڑے معاشی پیکج کے تحت ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا اور کسی علاقے کے متاثرہ گھرانے نظر انداز نہیں ہوں گے۔ ریاست پاکستان کے اس اقدام کو ریاست یا اس کے اداروں کی طرف سے لاپتہ افراد کی گمشدگی کی ذمے داری کی قبولیت کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئیے، لاپتہ افراد کسی بھی وجہ سے غائب ہیں، وہ اور ان کے اہل خانہ انسانی بنیادوں پر ہم سب کی اور خود ریاست پاکستان کی مکمل ہمدردی کے مستحق ہیں، اس لیئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ معاشی پیکج ریاست کا ایک مخلصانہ اور مادرانہ رویہ ہے جو متاثرہ فیملیز کی مشکلات کو دور کرنے کے اور ان کے غم میں شریک ہونے کی ایک کوشش ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ ’’گمشدہ افراد‘‘کے پیچھے متعدد اور پیچیدہ وجوہات ہیں، حکومت پاکستان نے ایک ویلفیئر اسٹیٹ والی ایک اعلی مثال قائم کی ہے جسے سراہا جانا چاہیئے، یہ کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، حکومت پاکستان نے آج پھر ثابت کر دیا، ہر شہری کی زندگی کا تقدس اور تحفظ اہم ہے، اور یہ امر خوش آئند ہے کہ ریاست اس مقدس امر کو یقینی بنانے کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔