پاکستان میں ایک طبقہ (سیاستدانوں کا) جو بھارت کے ساتھ تجارت کے علاوہ نارمل تعلقات کا حامی ہے‘ اور اکثر اس کا اظہار میڈیا پر بھی کرتارہتاہے۔ بھارت کے ساتھ دوستی اور تعلقات میں فروغ کے سلسلے میں سب سے زیادہ اونچی آواز نوازشریف اوران کے بعض سیاستدانوں کی ہے ‘بلکہ نوازشریف نے یہاں تک کہہ دیاہے کہ اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو اس کے بھارت کے ساتھ ’’خوشگوار‘‘ تعلقات قائم کرنے ہونگے۔ لیکن یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے ۔ بلکہ بہت پیچیدہ ہے۔ بھارت پاکستان کے مقابلے میں ایک بڑا ملک ہے‘ اس کے پاس 12لاکھ سے زائد فوج ہے جس کے لئے وہ روس‘ امریکہ‘ اور اسرائیل سے بھی اسلحہ خریدتارہتاہے۔ بھارت جنوبی ایشیا میں وہ واحد ملک ہے جو اپنی دفاعی ضروریات کیلئے سب سے زیادہ اسلحہ خرید رہاہے۔ شنید ہے یہ اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوگا‘ چین کے خلاف نہیں۔ مزید برآں بھارت کا موجودہ وزیراعظم نریندرمودی ایک انتہا پسند ہندو ہے جس نے خود بھارت کے اندر بسنے والے 25کروڑ مسلمانوں کا جینا دوبھر کررکھاہے۔ رمضان کے مہینے میں آر ایس ایس کے غنڈے ترویح پڑھنے والوں پر جملے بازی کرنے کے علاوہ ان پر تشدد بھی کرتے ہیں۔ جن میں بھارت کی یونیورسٹی میں زیرتعلیم طالب علم بھی شامل ہیں۔ مزید برآں نریندر مودی اکھنڈبھارت کے فلسفہ پر قائم ہے‘ یعنی وہ پاکستان کو بھارت میں ضم کرناچاہتاہے‘ جیسا کہ بھارت میں شائع ہونے والی کتابوں سے ظاہر ہوتاہے۔ مشرقی پاکستان کو جس طرح ایک منظم سازش کے تحت پاکستان سے علیحدہ کیا گیا ۔ وہ اپنی جگہ ایک ایسی تاریخ ہے جس میں بھارت کا بھیانک چہرہ دیکھاجاسکتاہے اور بھلایا بھی نہیں جاسکتا ہے۔ ہرچند کہ بنگلہ دیش بھارت کی فوجی اور مالی امداد سے ’’آزاد‘‘ ہوا تھا۔ لیکن وہ ہرلحاظ سے بھارت کی ایک کالونی بن چکاہے۔ اس کی تجارت اور ترقی کا تمام تر دارومدار بھارت پر ہے اور چند مغربی ممالک پر۔
اس پس منظر میں بھارت کے ساتھ جو عناصردوستی کاروگ الاپ رہے ہیں‘ یہ وہی لوگ ہیں جن کے ایک عرصہ دراز سے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ بلکہ ان کے مودی کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات بھی ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت پاکستان کے خلاف بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو استعمال کررہاہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ سی پیک کو ناکام بنانے میں بھارت کے کردار سے سب آگاہ ہیں ‘ بلکہ اس سے متعلق محب وطن قلم کاروں نے ہرزاویے سے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے لکھاہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں پاکستان کو کمزور کرکے اپنی بالادستی قائم کرناچاہتاہے۔ اس ضمن میں اس نے دو راستے اختیار کئے ہیں‘ پہلا یہ کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی ہرممکن مدد کی جانی چاہیے تاکہ وہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر حملے کرکے ملک میں افراتفری پیداکرسکیں‘ دوسری حقیقت یہ ہے کہ بھارت پاکستان دشمن تنظیموں کی نہ صرف مالی مدد کررہاہے بلکہ بھارت کے اندر بعض علاقوں میں دہشت گردی کرانے کے سلسلے میں ان کی تربیت بھی کی جارہی ہے۔ کلبھوشن یادیو کی پاکستان کے اندر مجرمانہ کارروائیاں کس کو یادنہیں ہیں۔ اس بدبخت آدمی نے خود قبول کیاہے کہ وہ بھارتی حکومت کے ایما پر پاکستان کے اندر بلوچستان اور کراچی میں مجرمانہ کارروائیاں کررہاتھا۔ جس میں سیکڑوں معصوم لوگ مارے گئے ۔
پاکستان کے خلاف بھارت اوراس کے بعض بااثر ساتھیوں کی ایک لابی غیر ممالک میں یہ کام کررہی ہے کہ کسی طرح پاکستان کے ایٹمی اثاثوںپرقبضہ کرلیاجائے یا پھر پاکستان کو معاشی طور پر اتنا کمزور اور نڈھال اور ناتواں کردیاجائے کہ وہ ان کو فروخت کرکے اپنی معیشت کو بحال کرسکے۔ یہ منطق وہی عناصر پیش کررہے ہیں جو بھارت کی جنوبی ایشیا میں بالادستی چاہتے ہیں اور مسلمانوں کو غلام بناناچاہتے ہیں۔ خدانخواستہ جس دن پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو غیر موثر بنانے کی سازش کامیاب ہوگئی تواس صورت میں بھارت نہ صرف اکھنڈ بھارت کے فلسفہ کو عملی جامعہ پہنانے میں کامیاب ہوجائے گا بلکہ پاکستان پر فوجی تسلط قائم کرنے سے بھی باز نہیں آئے گا۔ پاکستان کے باشعور عوام اور ارباب اختیار کو یہ سمجھناچاہیے کہ ایٹمی ہتھیار ایک طرح سے پاکستان کے لئے deterrence کاکام کررہے ہیں خصوصیت کے ساتھ بھارت سمیت ان ممالک کے خلاف بھی جوپاکستان کو حصے بخیرے کرناچاہتے ہیں۔ اس ضمن میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی کے چیئرمین نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیاتھا اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی کی تھی‘انہوں نے یہ دورہ کیوں کیاتھا؟ اس کے بارے میں مجھے زیاد ہ معلومات حاصل نہیں ہیں لیکن ایک بات جوقیاس پرمبنی ہے یہ کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی کمزور معیشت اور سیاسی سطح پر باہمی گہرے اختلافات کی وجہ سے پاکستان مخالف طاقتوں کی میلی نگاہیں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر لگی ہوئی ہیں تاکہ پاکستان کو بے دست وپا کرکے اس کا وہی حشر کر دیاجائے جیسا کہ اسرائیل فلسطین میں کر رہاہے اسرائیلی فلسفہ انسان دشمن پر مبنی ہے۔ بھارت بھی اس ہی ڈگر پر گامزن ہے۔
اس پس منظرمیں یہ کہنابے جانہ ہوگاکہ پاکستان میں اس وقت 50کے قریب ایسے صاحب ثروت خاندان موجود ہیں جو سب ملکر پاکستان کے بیرونی قرضے بآسانی اتار سکتے ہیں اور آئی ایم ایف سے چھٹکار بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ ان میں دو خاندان شریف خاندان اور زرداری خاندان مالی اعتبار سے بہت طاقتور اور مستحکم ہیں۔ ان دونوں نے خاندانوں کوآگے بڑھ کرپاکستان کی موجودہ اذیت ناک حالات سے نکالنے کیلئے اپناکردار ادا کرناچاہیے تاکہ پاکستانی عوام کی نگاہوں میں سرخرو ہوسکیںاور دکھی انسانیت کے مسیحا کہلائیں۔ تاہم یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ بھارت کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں ہوسکتاہے۔ اس کی بس ایک ہی دیرینہ خواہش ہے کہ پاکستان کے حصے بخیرے کرکے اس پر قبضہ کرلیاجائے۔ ماضی بعید کے بھارت میں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکمرانی کابدلہ لیاجائے۔ ذرا سوچیئے!