Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

اے وطن سلامت ، تاقیامت

مقدر کی بات ہے،کوئی برہان وانی اننت ناگ کی گل پوش وادیوں میں دشمن کے مقابل خم ٹھونک کر میدان میں اترتا ہےا ور پاکستان کا پرچم بن کر لہراجاتا ہے ،اسی لمحے وہ گمنامی سے نکل کر کروڑوںکشمیریوں اور پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن بن جاتا ہے ، اس کی میت پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کی جاتی ہے اور آج اس کےپورٹریٹ کو اسلام آباد کے پریڈ گرائونڈ میںصرف پاکستانی مسلح افواج کی قیادت ہی نہیں پاکستان کے دوست ممالک کے فوجی دستے بھی سلیوٹ کرتے ہیں ، خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور اک وہ ہیں ، جو اسی ملک کا کھاتے ہیں اور اسی کو دنیا بھر میں بھونکتے پھرتے ہیں ۔ آج کے اس تابناک دن کو ان کے ذکر سے آلودہ نہیں کرنا چاہتا اس لئے یہ تفصیل پھر سہی ۔ یوم پاکستان کی پریڈ دہائیوں سے ہو رہی ہے ، پاکستان کے دوستوں کے حوصلوں کو بلند کرتی ، ان کے عزم کو جلا بخشتی اور کھلے وچھپے دشمنوں کے سینوں پر منگ دلتی ، ان کے دل ودماغ کے بھوسے میں چنگاریاں بھرتی ہوئی ، لیکن اس بار اس کا رنگ مختلف تھا ، ایک جانب وسط ایشیا ء سے پاکستان کے دوست چین اور آذربائیجان کی مسلح افواج سے لے کر سعودی عرب اور بحرین کے فوجی دستوں اور قیادت کی موجودگی اور پریڈ گرائونڈ میں قائد حریت سید علی گیلانی اور برہان وانی کے پورٹریٹ کی نمائش جسے مسلح افواج نے سلیوٹ بھی کیا ۔ ایک جانب یہ پاکستان کی غیر معذرت خواہانہ پالیسی کا اظہار ہے تو دوسری جانب دشمن کے لئے دو ٹوک پیغام بھی ۔ پریڈ گرائونڈ میں وہ لمحہ رگوں میں دوڑتے خون کو سیماب کردینے والا تھا کہ جب ایس ایس جی کے جرنیل نے خود فری فال جمپ لگا کر پیغام دیا کہ مسلح افواج کے جرنیل دفاتر کی زینت نہیں اپنی سپاہ کے سنگ میدان کے دھنی بھی ہیں ۔ پرچم چوم کر وزیر اعظم کے سپرد کیئے جانے کی علامتی اور معنوی حیثیت اپنی جگہ اہم اور تفصیل کی متقاضی ہے ، لیکن جس محبت سے پرچم کو چوم کر وزیر اعظم کے سپرد کیا گیا وہ ولولہ،وارفتگی اور بانکپن اپنے اندر ایک بہت وسیع پیغام رکھتا ہے ۔ اس پرچم کی حرمت اور تقدس علی گیلانی کے ایک لاکھ کے قریب شہید بیٹے اور برہان کے ہم سفر جانتے ہیں اور کفن اوڑھ کر دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، ان میں سے 90فیصدوہ ہیں ، جن کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پاک سرزمین پر قدم رکھنے اور رب کے حضور سجدہ کرنے کی رہی ، یا اس پرچم کی اہمیت وہ جانتے ہیں جو دن رات ارض وطن کو سرحدوں پر دشمن اور سرحدوں کے اندر رنگ رنگ کے وطن فروشوں کے محفوظ رکھنے کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں ، دہشت گردوں کو ہیرو قرار دینے ، انہیں جیلوں سے رہا کروانے اور ان کی حمائت میں سوشل میڈیا ٹرینڈ لانچ کرنے والے نمک حراموں کو یہ بات سمجھ آہی نہیں سکتی ۔ کسی نے کہا وہ قومیں قلاش ہوتی ہیں جن کے پاس اپنا ماضی بتانے اور حال دکھانے کے لیے کچھ نہ ہو ، لیکن ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس نہ صرف شاندار ماضی ، قابل فخر حال موجو دہے بلکہ تابناک مستقبل بھی ہے ۔ پریڈ گرائونڈ میں دھرتی سینہ دہلاتے ہوئے ’’ حیدر ، الخالد اور ضرار ٹینک ، فضائوں کا سینہ چیرتے اور آسمانوں پر دھاڑتے ہوئے جے ایف تھنڈر ، دشمن کی ایک ایک نقل وحرکت پر چوکس عقاب ڈرون ، مساجد کے میناروں کی طرح ، دشمنوں کے دلوں پر ہیبت طاری کرتے ہوئے ، ہمارے میزائل غوری ، شاہین، رعد ، فتح اور نصر ہماری صلاحیتوں کا اعلان ہے اور ماضی وحال کی جھلک بھی ، ان مشینوں کے پیچھے متحرک شیردل جوان جو ہر لمحہ اس دشمن پر جھپٹنے پر معد ہیں جو اس وطن کی سرزمین پر نگاہ غلط ڈالنے کا ارادہ بھی رکھتا ہو ، آپریشن’’ سوئفٹ ریٹارٹ ‘‘سے لے کر آپریشن’’ مرگ بر سرمچار‘‘ اور دہشت گردوں کے سرحد پار ٹھکانوں پر حالیہ کاری ضرب تک ۔ اس امر کی بین دلیل ہے کہ ارض وطن کے تحفظ کے لئے ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔ پریڈ گرائونڈ میں سعودی وزیر دفاع جو سعودی ولی عہد کے بھائی اور خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کے صاحبزادے بھی ہیں ، ان کے ساتھ بحرین کی مسلح افواج کے سربراہ ، چین ،آذربائجان اور دیگر دوست ممالک سے آنےو الے اعلیٰ عسکری عہدیداران کی موجودگی اس امر کا اعلان ہے کہ دشمن جس طرح میدان میں ہم نے نہیں جیت سکا اسی طرح پاکستان کو تنہا کرنے کی گھٹیا سفارتکاری میں بھی ناکام رہا اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے کیڑے مکوڑوں کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ۔
بلا شبہ ہمارا شاندار ماضی اور تابناک حال ہماری غیرت و حمیت کی گواہی ہے۔ہماری دفاعی قوت ، ہماری حربی طاقت کا یہ مظاہرہ کوئی کھیل تماشہ نہیں ، بلکہ جنگ کو سرحدوں سے رکھنے کی خاطر دور حاضر کی جنگی ضرورت ہے ۔ یہ قرآن کے حکم ’’ وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ ’’یعنی دشمن کے مقابلے میں اپنی جنگی قوت تیار رکھو‘‘اور تُرْہِبُوْنَ بِہ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ ۔’’تاکہ تم اس سے اپنے اور اللہ کے دشمنوں پر دھاک بٹھا سکو‘‘ کی تعمیل ہے۔ جس سے دشمن کا دل دہلتا ہے اور دوست کا قلب اطمینان پاتا ہے ۔ مقامی طورپر تیار کردہ اسلحہ کے نظام، میزائل اور دیگرہتھیاروں کے مظاہرے سے ہم بتاتے ہیں کہ ہمارے معاشی مسائل سے دھوکہ میں نہ رہنا ہم نے اسی ہمارے چیتھڑوں میں لپٹی تلواروں کی چمک تمہاری آنکھوں کو خیرہ کردے گی ،ہم کم بجٹ میں بھی بڑے سے بڑے خطرے سے ٹکرانے اور کسی بھی قسم کی جارحیت سے نمٹنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔اس خصوصی پریڈ کو سویلین ملٹری ڈیموکریسی کی شراکت کہا جا سکتا ہے ۔ ہمارے ساتھ ہمارے قومی دن کو منانے کے لیے عرب سے لیکر چین تک مشرق سے لیکر مغرب تک تمام سفارتی برادری کی پریڈ گرائونڈ میں موجود گی ، دوست ممالک کے دستوں کی پریڈمیں شرکت اور اعلیٰ ذمہ داران کی اسلام آباد آمد بتاتی ہے کہ دنیا بطور قوم ہماری صلاحیتوں کا اعتراف کرتی ہے ،ہماری آزادی کی قدر کرتی ہے۔ دشمن کی ہزار سازشوں، اپنوں کی ہزار غداریوں کے باوجود آج بھی ارض پاک پر جو امن کا پرچم لہرارہا ہے ، یہ قوم اور افواج کے باہمی تعلق اور شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہے ۔ قوم کو اپنے شہداء پر فخر ہے ، ہم ان کے لواحقین کو سلام پیش کرتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں