Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

گستاخوں کو سزائیں اور بیکن ہائوس کا گھنائونا کردار

چھ مارچ 2024 بروز بدھ کو فاضل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانولہ ظفر یاب چدھڑ نے سوشل میڈیا پر توہین ذات باری تعالیٰ،توہین رسالت،توہین اہل بیت،توہین صحابہ و توہین قرآن پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ایک زیر حراست گستاخ ملعون چوہدری جنید منیر ولد چوہدری منیر احمد کو سزائے موت، جبکہ دوسرے زیر حراست گستاخ ملعون عبدالحنان ولد عبدالحبار کو نابالغ ہونے کی وجہ سے عمر قید کی سزا سنائی،واضح رہے کہ مذکورہ گستاخوں کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور میں 15 جون 2022 ء کو شہری محمد خان کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا،مذکورہ سنگین ترین جرائم میں ملوث نابالغ ہونے کی وجہ سے سزائے موت کے بجائے عمر قید کی سزا پانے والے 17 سالہ ملعون گستاخ کا تعلق لاہور کے ایک ایسے خاندان سے ہے،جس کا شمار پاکستان کے امیر ترین خاندانوں میں ہوتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ گستاخوں کا ٹرائل لاہور ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ لاہور سے سیشن کورٹ گوجرانولہ میں منتقل کیا،تاکہ اس کا خاندان عدالت پر اثرانداز نہ ہوسکے،فاضل جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مذکورہ مقدمے میں زیر حراست مرکزی ملزم جنید منیر کو توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ہونے کا جرم ثابت ہونے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295سی کے تحت سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ،،توہین مذہب پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر کا جرم ثابت ہونے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295اے کے تحت پانچ سال قید بامشقت،اہل بیت بالخصوص ازواج مطہرات کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر کا جرم ثابت ہونے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298اے کے تحت تین سال قید بامشقت سنائی جاتی ہے،دوران سماعت یہ ثابت ہوا کہ ایک ملزم گستاخانہ وڈیوز اور تصاویر بناتا تھا جبکہ دوسرا ملزم اسے شیئر کرتا تھا،فاضل جج کے فیصلے نے جدید عصری تعلیمی اداروں بالخصوص بیکن ہائوس اسکول سسٹم کے کردار پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
فاضل جج نے فیصلے کے آخری پیرا میں جدید سکولنگ خاص طور پر بیکن ہائوس اسکول سسٹم میں قرآن و سنت کی تعلیمات اور اس کی مانیٹرنگ نہ ہونے پر شدید اظہار تشویش کرتے ہوئے لکھا کہ عدالت اپنے فیصلے میں ملک میں رائج ایلیٹ اسکول سسٹم کی نگرانی کے حوالے سے سستی اور مجرمانہ لاپرواہی کے بارے میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے‘ والدین کی بہترین سرمایہ کاری اپنے بچوں کی تعلیم ہے،یہ ہر باپ کا خواب اور ہر باپ کی خواہش ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو بہترین تعلیم فراہم کرے،تاکہ وہ جدید دور کی ضروریات کے مطابق اپنی زندگی گزار سکے اور معاشرے کے لئے ایک اثاثہ بن سکے،لہٰذا والدین کی طرف سے ایسے اسکول کے نظام کا انتخاب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے جو ان کے بچوں کے لئے بہترین ہو‘ اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا،جب ایک شریف،خوف خدا رکھنے والے اور نیم تعلیم یافتہ باپ نے جاپان میں اپنا کاروبار کرنے کے بعد اپنے بیٹے کو بیکن ہائوس اسکول سسٹم میں بہترین ممکنہ تعلیم فراہم کرنے کی پوری کوشش کی تاکہ اس کا بیٹا معاشرے کا ذمہ دار فرد بن سکے،اس نے اپنی ساری توانائی،پیسہ، وقت اور دیکھ بھال اپنے بیٹے کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرنے میں لگائی، لیکن ساتھ ہی وہ اپنے بیٹے کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے میں ناکام رہا، یکساں ذمہ داری بیکن ہائوس اسکول سسٹم کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ تعلیمی بیوروکریسی کے کندھوں پر بھی عائد ہوتی ہے،جو طلبا کی شخصیت میں اخلاقی،مذہبی اور سماجی اقدار کو ڈھالنے کی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام رہے ہیں‘ والدین کے ساتھ ساتھ بیکن ہائوس اسکول سسٹم کی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے بیکن ہائوس اسکول سسٹم میں زیر تعلیم ملزم سیدھی راہ سے ہٹ گیا اور اپنے خاندان کے لئے بھی رسوائی کا سبب بنا جس کے نتیجے میں اس خاندان کی زندگی کے ہر شعبے میں مکمل تباہی واقع ہوئی، بیکن ہائوس اسکول کی انتظامیہ کو اپنے کیمپس میں آزادانہ تعلیم فراہم کرنے کی کوششوں میں اس مستقل لاپرواہی سے بری الذمہ نہیں کیا جاسکتا، بچوں کو کسی بھی تعصب سے پاک آزادانہ تعلیم فراہم کرنے کے لئے اعلی تعلیم یافتہ تعلیمی ادارے کی فراہمی پر کوئی پابندی نہیں ہے‘ تاہم وہ اپنے طلبا کی سرگرمیوں پر سخت نگرانی رکھنے کے بھی پابند ہیں۔بیکن ہائوس اسکول سسٹم کی مجرمانہ لاپرواہی نے ملزم کے ساتھ ساتھ دیہی معاشرے سے تعلق رکھنے والے اس کے والدین کی شخصیت کو بہت بڑا اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے‘ جن کی آنکھوں میں اپنے بیٹے کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے خواب تھے،تاکہ وہ معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کر سکے۔
بیکن ہائوس اسکول سسٹم کے منتظمین کی لاپرواہی نے اس ملزم کے خاندان کو ان کے سماجی تباہی کی طرف دھکیلا ہے،بیکن ہائوس اسکول سسٹم کی انتظامیہ کی جانب سے نگرانی کی کمی کے باعث ملزم کے اس عمل کی وجہ سے لگنے والے زخموں کو ٹھیک ہونے میں کئی دہائیاں لگیں گی؟ اور یہ والدین اور جدید تعلیم کے نام نہاد محافظوں کی نامناسب نگرانی کی وجہ سے موت کا سبب بن چکی ہے۔بیکن ہائوس میں ملزمان کی سرگرمیاں مجھے یہ سمجھنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اس کے کیمپس میں قرآن اور سنت کی تعلیم کے تصور کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے, اور ہر مسلمان طالب علم کو مذہبی تعلیم دینا اس نظام تعلیم کی ترجیح نہیں ہے مجھے ڈر ہے کہ اگر پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے اور ایسے اداروں میں زیر تعلیم مسلمان بچوں کو قرآن و سنت، مسلمانوں کی تاریخ اور ثقافت کے بارے میں تعلیمی ادارے میں داخلے کے وقت سے ہی مناسب علم سے آراستہ کرنے کے متعلق کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو یہ ملک کتوں کے پاس چلا جائے گا،اس جدید تعلیم کے علمبرداروں کے ذریعے کیمپسز میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کا یہ بہترین وقت ہے‘ اس فیصلے کی کاپی بیکن ہائوس اسکول سسٹم کے چیئرمین کو بھیجی جائے،تاکہ اس فیصلے میں عدالت کی جانب سے ظاہر کردہ خدشات کو جنگی بنیادوں پر فوری طور پر دور کیا جا سکے، اور بہتر مستقبل اور طلبا کی خوشحالی و روشن خیالی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جاسکیں،جو اس ملک کے مستقبل کے رہنما ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی ایک دینی تعلیمی ادارے پر بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر کسی بھی جرم میں ملوث ہونے کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا‘ اس کے باوجود بھی لنڈے کے لبرلز اور سیکولرز کی جانب سے ہمیشہ دینی تعلیمی اداروں کو ہی ہدف تنقید بنایا جاتا رہا ہے‘ اب جبکہ ملک کی ایک عدالت جدید تعلیمی اداروں بالخصوص بیکن ہائوس اسکول سسٹم کے گھنانے کردار کو اپنے فیصلے کے ذریعے بے نقاب کر چکی ہے تو کیا ’’ریاست‘‘ اس طرف بھی اپنی توجہ مبذول کرے گی؟کیا مدارس کے تعلیمی نصاب میں اصلاحات کی رٹ لگانے والے اب جدید انگریزی تعلیمی اداروں کے نظام میں بھی اصلاحات لانے کا مطالبہ کریں گے؟اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو مذکورہ عدالتی فیصلے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئیے،کس قدر افسوسناک بات ہے کہ بیکن ہائوس ٹائپ ادارے مہنگی تعلیم کی آڑ میں جو ’’گل‘‘ کھلا رہے ہیں‘ وہ ریاست کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں ہیں،بلکہ اب تو مذکورہ عدالتی فیصلے نے بیکن ہائوس کی سوکالڈ تعلیم کے ڈھول کے سارے تار پول بیچ چوراہے بکھیر کر رکھ دئیے ہیں ،کیا ریاست پاکستان اب بھی خاموش رہے گی؟؟

یہ بھی پڑھیں