معروف معنوں میں ایک انٹیلی جنس ایجنسی تو یہ پہلے بھی نہ تھی ،روز اول سے ہی پورے خطے میں میں قتل وغارت ، دہشت گردی ، خونریزی ، سمگلنگ اور جرائم پیشہ گروپوں کی سرپرستی اس کی واحد مہارت رہی ہے ۔ لیکن اب گجرات کے قصائی مودی کے زیر سایہ بھارتی خفیہ ایجنسی کرائے کے غنڈوں اور قاتلوں کے عالمی جتھے کی حیثیت اختیار کر گئی ہے ۔ RAW اپنے نام کے مطابق Research and Analysis Wing تو پہلے بھی نہیں تھی،اب باقاعدہ Rogue Assassins Wing کی حیثیت اختیار کر گئی ہے ۔ کینیڈا میں نجر سنگھ کے قتل اور امریکہ میں گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش کی امریکی مطالبے پر تحقیقات میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس میں کرائے کے قاتلوں کے جتھے را سے تعلق رکھنے والے بھارتی ایجنٹ ملوث تھے۔مزے کی بات یہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنےخلاف ثبوتوں کو اپنے ہی ملک میں جھٹلانے میں ناکام رہی ہے۔امریکی دبائو پر خود بھارت میں ہونےو الی تحقیقات میں امریکہ اور کینیڈا نے ثابت کردیا ہے کہ مودی کی را دہشت گردوں کا جتھہ ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ ا بRAW کے یہ ایجنٹ احکامات براہ راست نریندر مودی سے لیتے ہیں اور عالمی سطح پر دہشت گردی کا دفتر وزیر اعظم ہائوس میں قائم ہے ۔
اب ایسے میں جب بھارت میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے ، مودی رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے مترداف ایک انگریزی اصطلاح’’ Caught with pants down ‘‘ والی پوزیشن میں باقاعدہ پکڑا جا چکا ہے ، اوپر سے امریکی ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ٹام لینٹوس Tom Lantos انسانی حقوق کمیشن بھارت کو خصوصی تشویش والے ممالک کی فہرست میں ڈالنے یعنی بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کر چکا ہے ۔ ایسے میں بندر کے پجاری مودی نے وہ کہاوت سچ ثابت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کہ ’’ بندریا کے پائوں جلیں تو اپنےہی بچے پیروں تلے رکھ لیتی ہے‘‘ دہلی سرکاربھونڈے طریقے سےپکڑے جانے پر ان قاتل ایجنٹوں کو Rogue قرار دے کر سرکاری سرپرستی پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔ جس کا واحد مطلب یہ ہوا کہ بھارتی را اب سے ریسرچ اینڈ اینالیسز ونگ نہیں بلکہ ’’روگ اسیسین ونگ ‘‘ کہلائے گی ۔ سوال البتہ یہ ہے کہ کینیڈا اور امریکہ نے اگر ان روگ عناصر کو طلب کرلیا تو کیا ہوگا ؟ مودی کے یہ چیلے طوطے کی طرح مودی کے خلاف گواہی دیں گےاور مودی ہی نہیں ہندوتوا کو بھی منہ چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی ۔ مودی اپنے ان دہشت گردوں کو روگ عناصر قرار دے یا جو مرضی کہے ، ایک بات ثابت ہوگئی کہ بھارتی ریاست کو اپنی عالمی دہشت گردی کا اعتراف کرنا پڑا ہے، جس کے ثبوت پاکستان پون صدی سے باربار عالمی برادری کے سامنے رکھتے ہوئے ، اس دہشت گرد ریاست کو لگام دینے کا مطالبہ کرتا آیا ہے ۔ کوئی شبہ ہی نہیں رہا کہ بھارت کی جانب سے اس سازش کا اقرار دنیا میں کی گئی قتل اور دہشت گردی کی وارداتوں سے پردہ اٹھا رہا ہے۔ہم تو ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ RAW مودی کے ہندوتوا نظریئے پر عمل پیرا ہو کر شدت پسندی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وہ نئی مثالیں قائم کر رہی ہے کہ اس کے سرپرست امریکہ اور دیگر مغربی ممالک بھی جلد کانوں کو ہاتھ لگاتے دکھائی دیں گے ۔ امریکی حکومت نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔امریکہ کی موجودہ حکومت چونکہ خود جنوبی ایشیا ء میں استعماری ایجنڈارکھتی ہے اور پاکستان وچین کے مقابل مودی کے بھارت کو کرائے کے قاتل کا کردار دینے پر بضد ہے لہٰذا یہ توقع تو نہیں کہ اس کھلی دہشت گردی کے اعتراف کے بعد بھی امریکہ اپنے اس لاڈلے کے خلاف کوئی سخت اقدام کرے گا ، لیکن امریکی عوام بہت جلد جان پائیں گے کہ امریکی حکومت کی جانب سے بھارتی سانپ کو دودھ پلانے کی کارروائی انہیں کس بھائو پڑنےوالی ہے۔ جب را کے غنڈے امریکہ کے گلی کوچوں میں اپنے مخالفین کے خلاف قتل وغارت کا بازار گرم کریں گے تو یقیناً امریکی حکومت کو بامر مجبوری بھارت کے خلاف میدان میں آنا پڑے گا ۔ امریکی بھارت کو اتنا نہیں جانتے، جتنا ہم جانتے ہیں ، ہمارا صدیوں کا ساتھ ہے ۔ امریکی حکومت کی بھول ہے کہ وہ کارروائی کا مطالبہ کرے گی اور بھارت اسے ڈسنے سے باز آجائے گا ۔ کسی قیمت پر نہیں، اور قطعاً نہیں ۔ مودی اپنے پکڑے گئے ایجنٹو ں کو اپنے ہاتھوں سے مروائے گا اور ان کی جگہ نئے بندے بھی لانچ کرے گا ، جب تک منہہ توڑ جواب نہیں ملے گا ۔ اس وقت تک یہ باز آنے والے نہیں ہیں ۔ دھوکہ ، فریب اور ڈسنا ان کی خصلت کا حصہ ہے جس سے یہ باز آ ہی نہیں سکتے ۔ امریکہ نے اس اقبال جرم کے بعد بھی اگر کوئی سخت ایکشن نہ لیا تو وہ خود بھگت لے گا ۔
دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے تناظر میں امریکہ،برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی سخت تشویش کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان تو پہلے ہی دہشت گردی کے تناظر میں بھارت کا ڈسا ہوا ہے۔ کل بھوشن یادیو کی صورت بھارتی دہشت گردی کا ثبوت آج بھی پاکستان کی جیل میں موجود ہے ۔گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان بھارتی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے ،80ہزار سے زیادہ انسانی جانوں اور سینکڑوں ارب ڈالر کا معاشی نقصان پاکستان بھگت چکا ہے ، ابھی دو روز قبل گوادر میں حملہ ، گزشتہ ہفتے وزیرستان میں فوجی چوکی پر دہشت گردی ، ان سب معاملات میں بھارت کے خون آلود پنجے واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ پاکستان اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو باربار بھارتی دہشت گردی کے ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت پیش کر چکا ہے ، اگر ان ثبوتوں کی روشنی میں کارروائی کی گئی ہوتی تو آج امریکہ ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک کو بھارتی دہشت گردی کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ اب بھی ، اب بھی موقع ہے ،مغربی دنیا نے اگر ہوش کے ناخن نہ لئے،مودی کی دہشت گردی کا نوٹس نہ لیا تو بہت جلد انہیں اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے ۔
اس پر خوش نہیں ہونا چاہئے کہ امریکی سرزمین پر سکھ علیحدگی پسندوں کو قتل کرنے کی سازش ناکام بنادی گئی بلکہ اس کے بعد بھی تیزی سے دنیا میں پھیلتے ہوئے بھارتی عالمی دہشت گرد نیٹ ورک اور اپنے ہی شہریوں کی نسل کشی کرنے والے بھارتی ڈیتھ سکواڈ عالمی امن کے لیے حقیقی خطرہ بن چکے ہیں۔ پاکستان، آزاد کشمیر، بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر اور بھارت کے اندر ٹارگٹ کلنگ کے بعد اب بھارتی ڈیتھ سکواڈ اوٹاوا اور واشنگٹن کی خودمختاری اور قومی سلامتی کو براہ راست چیلنج کر رہے ہیں ۔ عالمی برادری جتنی جلدی اس کا ادراک کرلے اتنا ہی اچھا ہے ۔