ایک شخص دیہاڑی یعنی روزانہ کی اجرت پر کام کرتا تھا…اسے روزانہ پانچ سو روپے ملتے تھے…ایک دن وہ کام پر گیا تو مالک نے کہا…کل سے تمہیں اجرت پانچ سو ہی ملے گی…مگر یہ پانچ سو پاکستانی روپے نہیں بلکہ کویتی دینار ہوں گے……
پانچ سو کویتی دینار…یعنی تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے…اور مزید تم جتنے گھنٹے زائد کام کرو گے…اس کی اجرت بھی تمہیں کویتی دیناروں میں ملے گی…یہ اعلان سن کر وہ کس قدر خوشی میں ڈوب جائے گا…کہاں روزانہ پانچ سو اور کہاں ڈیڑھ لاکھ…وہ اسی خوشی میں گھر کی طرف روانہ ہوا…وہاں عجیب منظر تھا…اس کا وہ ظالم اور شرارتی پڑوسی…جو دن رات اسے تنگ کرتا، ستاتا اور ذلت میں ڈالتا تھا…اور دن رات اس کے گھر کے اندر گندگی اور غلاظت پھینکتا تھا…وہ پڑوسی اپنے چیلوں سمیت زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے…اور کچھ طاقتور لوگ اسے پکڑ کر لے جا رہے ہیں…یہ دوسری خوشی ہوگئی…ایسے موذی پڑوسی سے جان چھوٹی…وہ دو خوشیاں لئے گھر میں داخل ہوا تو وہاں بھی کئی خوشیاں اس کی منتظر تھیں…ایک صاحب کا فون آیا کہ میں کل سے آپ کے لئے سونا سستا کر رہا ہوں…ایک تولے کے پیسے دو اور ستر تولے لے جاؤ…یہ فون سن کر یہ شخص حیرانی اور خوشی سے اپنا ہاتھ دانتوں سے کاٹ رہا ہے کہ…کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہا…کہاں ایک تولہ اور کہاں ستر تولے…میں تو دنوں میں مالدار ہو جاؤں گا…انہی خوشیوں میں رات کو سویا…جب صبح اٹھا تو گھر والی کو خوشی سے نہال دیکھا…وہ کہہ رہی تھی…آج ہماری بھینس نے تین گنا زیادہ دودھ دیا ہے…اور گائے نے چار گنا زیادہ…اور جو ہماری پانی کی موٹر خراب تھی وہ میں نے ویسے ہی بٹن دبایا تو ٹھیک ٹھاک چلنے لگی…ایک خوشی کے بعد دوسری خوشی…اور دوسری کے بعد تیسری گویا ان پر خوشیوں کی بارش ہوگئی،حضرت پیرو مرشد حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں بھیجا اور حکم دیا کہ…تم دنیا میں رہتے ہوئے اپنی آخرت کا سامان تیار کرکے اپنے لئے آگے بھیجتے رہو… جب آخرت میں تمہاری ہمیشہ کی زندگی شروع ہوگی تو یہ سامان تمہارے بہت کام آئے گا…اور جو یہاں رہتے ہوئے اپنے لئے سامان آگے نہیں بھیجے گا وہ وہاں بہت پچھتائے گا…بہت حسرت کرے گا اور بار بار کہے گا کہ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے…اب مجھے راز سمجھ آ گیا ہے…میں دنیا میں جاکر اپنی آخرت کے لئے بہت سامان بھیجوں گا اور دنیا میں جاکر دنیا بنانے میں غافل نہیں ہو جاؤں گا…دنیا میں رہتے ہوئے اپنی آخرت کےلئے جو سامان بھیجا جاتا ہے…وہ ہے ایمان اور عمل صالح…پھر عمل صالح یعنی نیک اعمال میں…فرائض ہیں، سنن ہیں اور نوافل وصدقات… تجربہ کار آدمی جب سفر پر جانے لگتا ہے تو اپنے سامان میں…ضرورت کی ہر چیز رکھتا ہے…اسی طرح عقلمند آدمی اپنی آخرت کےلئے ہر طرح کی نیکیاں زیادہ سے زیادہ جمع کرکے بھیجتا ہے…کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ہمیشہ کی زندگی ہے اور اس میں ہر طرح کی نیکیوں کی مجھے ضرورت پڑ سکتی ہے…یہ عقل والے لوگ دن رات محنت کرکے یہ نیکیاں بناتے ہیں، کماتے ہیں…اور اپنے لئے آخرت میں بھیجتے ہیں… تب اللہ تعالیٰ کی شانِ بادشاہی اور شانِ سخاوت جوش میں آتی ہے…اور ان مزدوروں کےلئے ایک مہینہ ایسا بھیج دیا جاتا ہے…جس میں ہر عمل کی قدر، قیمت اور وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے…اس مہینے میں نفل عبادت کرو تو وہ فرض کے برابر ہو جاتی ہے…گویا کہ پاکستانی کرنسی اچانک کویتی دینار بن گئے…اور اس مہینے میں ایک فرض ادا کرو تو اس کا وزن ستر فرائض کے برابر ہو جاتا ہے…گویا کہ سونا ایک تولے کی قیمت میں ستر تولے…اور ہمارے دشمن اور موذی پڑوسی یعنی سرکش شیاطین زنجیروں سے باندھ دیئے جاتے ہیں…اور ان کو ایک ماہ کےلئے سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے…اور ہمارے رزق اور اوقات میں خاص برکت عطاء کر دی جاتی ہے…اور ہمیں ایک رات ایسی دے دی جاتی ہے جس کی عبادت تراسی سال کی مقبول عبادت کے برابر ہے…یہ سب اس لئے ہوتا ہے تاکہ…ہم آخرت کے لئے زیادہ سے زیادہ سامان تیار کرلیں…کیونکہ آخرت کی زندگی بہت بڑی اور بہت لمبی ہے…اور دنیا مختصر…تو اس مختصر سے وقت میں…اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے اوقات عطاء فرماتا ہے…جن میں شاہی سخاوت کا قانون حرکت میں آجاتا ہے اور یوں ہم بہت زیادہ فرائض، سنن، نوافل اور عبادت جمع کرکے آگے بھیج سکتے ہیں اور اپنے سفر کے بریف کیس کو کارآمد چیزوں سے خوب بھر سکتے ہیں…رمضان المبارک کا یہ راز جو لوگ جتنا سمجھتے ہیں…وہ اس قدر اسی میں محنت کرتے ہیں…اللہ تعالیٰ ہمیں بھی زیادہ سے زیادہ نیکیاں بنانے اور کمانے کی توفیق عطاء فرمائے……
پیرومرشد فرماتے ہیں کہ
اللہ تعالی پر ”توکل“ آسان کام نہیں ہے…خصوصاً اس وقت جب کہ ”اسباب“ بالکل موجود ہی نہ ہوں…دور دور تک اندھیرا…دور دور تک مایوسی…مصر میں فرعون کی طاقتور حکومت قائم تھی…فرعون خود بہت مضبوط اور صحتمند انسان تھا…اس فرعونی ریاست کے پاس نہ وسائل کی کمی تھی نہ افراد کی…ان کی فوج اتنی بڑی اور اسقدر مسلح تھی کہ وہ…چھ لاکھ بنی اسرائیل کو نہایت حقارت سے:-
’’لشرذمۃ قلیلون‘‘
یعنی ”مٹھی بھر لوگ“ کہہ رہے تھے…اس ریاست میں فرعون صرف بادشاہ ہی نہیں مانا جاتا تھا بلکہ اسے (نعوذ باللہ) خدا کا درجہ دیا جاتا تھا…اس کی باقاعدہ عبادت ہوتی تھی…اور اسے سجدے کئے جاتے تھے…اس لئے اس کی حکومت کو کسی ”بغاوت“ کا بھی کوئی خطرہ نہیں تھا…اور خود فرعون کی وجاہت اور ذہانت کا یہ عالم تھا کہ جس مجلس میں وہ بیٹھتا تو باقی سب لوگ خود کو اس کے مقابلے میں واقعی حقیر اور ہلکا سمجھنے پر مجبور ہو جاتے…اللہ تعالی کی دی ہوئی ان صلاحیتوں کو اس بد نصیب نے غلط استعمال کیا اور نعرہ لگا دیا کہ میں ہی (نعوذ باللہ) تمہارا بڑا رب ہوں……..اب ان حالات میں ”بنی اسرائیل“ کے مسلمان نوجوانوں سے کہا جا رہا ہے کہ……اللہ تعالی پر بھروسہ کرو…یعنی اللہ تعالی پر اس بات کا یقین رکھو کہ وہ تمہیں فرعون سے نجات عطاء فرمائے گا…اور فرعون کی طاقت کو تباہ و برباد فرمائے گا…اور اس یقین کی بنیاد پر دین میں مضبوط رہو…کیا اپنے دل کو اس ”یقین“ پر لانا آسان کام تھا؟ نہیں بالکل نہیں…اسی لئے تو ”توکل“ باب ”تفعّل“ سے ہے کہ…بہت زور لگا کر اور بہت محنت و تکلف کر کے دل کو یقین پر لایا جاتا ہے…
”توکل“ آسان کام ہوتا تو…..ترکی کی طاقتور فوج اسرائیل پر حملہ کر چکی ہوتی…اتنے پڑوس میں تیس ہزار مسلمان ذبح ہو گئے…مگر اندیشوں اور وسوسوں نے ہر مسلمان حکمران کو ایسا گھیرا ہوا ہے کہ…گویا اس نے کبھی ”کلمہ طیبہ“ پڑھا ہی نہیں…یا نعوذ باللہ اسرائیل کی طاقت…اللہ تعالی کی طاقت سے بڑھ چکی ہے…پاکستان جیسا ملک جس کے پاس ایٹم بم اور لاکھوں فوج….اور لاکھوں غیور عوام ہیں…اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوا…اسی لئے کسی شاعر نے بالکل درست کہا…
”توکل“ نر بود اندیشہ مادہ
چرا غم مے خواری اے مرد سادہ
”توکل“ نر ہوتا ہے…اور اندیشہ مادہ…اے سادہ انسان کیوں فکر میں گھلے جا رہے ہیں…مردوں کی طرح اللہ تعالی پر بھروسہ کیوں نہیں کرتے…کاش آج کوئی ایک اسلامی ملک اللہ تعالی پر ”توکل“ کر لیتا…اور اسرائیل کی طرف پہلی گولی چلا دیتا…یقین جانیں دنیا ہی بدل جاتی…مگر یہاں تو سب حکومتیں……اپنے فلسطینی بھائیوں کو صرف ”کفن“ بھیج کر فخر کر رہی ہیں،