Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

میری قوم پر مشکل وقت آن پڑا ہے

اگرہم جان اور سمجھ لیتے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلتیں کیا ہیں تو یقین مان لیں پاکستان میں کوئی ایک غریب بھی بھوکا نہ سوتا،افسوسں ہمارے لکھاری اور دانشور ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی افواہیں پھیلا کر مایوسیاں تو پھیلا تے رہے ہیں،مگر کوئی اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے فضائل بیان کرنے کے لئے تیار نہیں ہے،جتنا مشکل وقت آج میری قوم پر آن پڑا ہے،اس سے پہلے شائد ہی آیا ہو۔’’آہ‘‘ ‘دنیا چاند کو مسخر کر چکی اور ہماری سیاسی حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے غلط فیصلوں، آپسی لڑائیوں اور غیروں کی چاکری کے سبب آج پاکستانی عوام کو ایک آٹے کے تھیلے کے حصول کے لئے کئی،کئی گھنٹے سڑکوں پہ خوار ہونا پڑتا ہے،جن سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ نے مل کر ملک کو جدید بنیادوں پر استوار کر کے ترقی کی راہوں پر گامزن کرنا تھا،ان کے آپسی لڑائی جھگڑوں اور ایک دوسرے کو گرانے پچھاڑنے کی وجہ سے ملک اس وقت پتھر کے زمانے سے بھی کوسوں میل دور جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
2018 ء سے پہلے اچھا بھلا چلتا پاکستان عمرانی حکومت کے دوران ایسے رینگنا شروع ہوگیاکہ جیسے اس کی بریکیں زبردستی فیل کرنے کی کوششیں کی گئی ہوں ،ایسے لگتا ہے کہ جیسے عمران نیازی کو پاکستانی معیشت کی بریکیں فیل کرنے کے لئے ہی لایا گیا تھا،یہ ایک میرا احساس ہے جو کہ غلط بھی ہو سکتا ہے،لیکن پھر اس پہیلی کو کون بوجھ سکے گاکہ آخرجنرل فیض حمید(ر) ‘ جنرل قمرباجوہ(ر) عمران حکومت کو لے کر کیوں آئے تھے؟ایک پلے بوائے کہ جس کے دامن میں سوائے کرکٹ کے کچھ نہ تھا،اس کو فرمائشی صادق اور امین بنا کر قوم کے سامنے پیش کیوں کیا گیا؟کوئی ہے کہ جو بتا سکے کہ پاکستان میں ’’انصاف‘‘کہاں ہے؟ اگر کہیں کوئی منصف ہوتا توان (ریٹائرڈ) جرنیلوںکو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے ایک دفعہ تو سوال کرتا کہ تم نے عسکریت کی کس کتاب میں یہ پڑھا تھا کہ ایک کرکٹر ملک میں معاشی انقلاب بھی لا سکتا ہے۔ 2018 ء کے طاقتور لو گوں کی یہی وہ جانی بوجھی سنگین غلطیاں ہیں کہ جن کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے، پاکستان کے عوام میں یہ احساس فروغ پا رہا ہے ۔اسٹیبلشمنٹ کا عمران خانی تجربہ اس قدر ناکام ثابت ہوا کہ اس تجربے نے ملک کی معاشی بنیادوں کو ہی کھوکھلا کر دیا،افسوس کہ پی ڈی ایم کی شہباز حکومت بھی مہنگائی اور لا قانونیت کو کنٹرول کرنے میں نا کام ثابت ہوئی،انہوں نے بھی باتیں کروڑوں کی اور دوکان پکوڑوں کی رکھی اور پکوڑے بھی اتنے مہنگے کہ عوام کی قوت خرید سے دور۔
8فروری کے دھاندلی زدہ انتخابات نے پاکستان کی معاشی ترقی کے دعوں کو مزید مشکوک بنا دیا، اب ایک دفعہ پھر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دوسری چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر اقتدار کے مزے تو لوٹ رہی ہیں‘ مگر عوام کو آئی ایم ایف کے چنگل سے چھڑانا ان کے بس میں نظر نہیں آرہا،رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی مہنگائی اپنے پورے عروج پر ہے، اس لئے یہ خاکسار اصرار کے ساتھ یہ بات لکھ رہا ہے کہ مسلمانوں کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے فضائل ،فوائد اور ثواب سے آگاہ کیا جائے۔میڈیا باقاعدہ انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے مہم چلائے، کیونکہ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے متعلق فضائل اتنی کثرت سے سامنے آتے ہیں کہ ان کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مال و دولت پاس رکھنے کی شے ہی نہیں ، بلکہ یہ پیدا کر کے انسان کو دیا ہی اس لئے گیا ہے کہ اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرے ، جتنی کثرت کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کے فضائل وارد ہوئے ہیں ان سب کا اگر احاطہ کیا جائے تو اس کے لئے تو ایک عظیم دفتر کی ضرورت ہے۔
اس مختصر مضمون میں تو ان سب کا احاطہ ممکن نہیں، صر ف سعادت کے طور پر عرض ہے کہ قرآن کریم میں سورہ البقرہ کے بالکل آغاز میں جہاں قرآن کریم اپنے امام رشد و ہدایت ہونے کا اعلان کرتا ہے، وہیں ان خوش نصیب لوگوں کا بھی تذکرہ کرتا ہے جن کو قرآن کریم سے کماحقہ فائدہ ہوتا ہے، اور وہ متقین ہیں، اور متقین کی جو صفات قرآن مجید نے ذکر فرمائی ہیں، ان میں تیسرے نمبر پر انفاق فی سبیل اللہ کو ذکر فرمایا، گویا قرآنی ہدایت سے استفادہ کرنے والی متقین کی جماعت کی شان امتیازی یہ ہے کہ من جملہ دیگر صفات مذکورہ کے وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے ہوتے ہیں اور اس خرچ میں وہ کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لیتے ۔
سورہ البقرہ میں ارشاد ہے، ترجمہ: اور تم لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کیا کرو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں نہ ڈالو اور (خرچ وغیرہ) اچھی طرح کیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں اچھی طرح کام کرنے والوں کو۔اس آیت کی تفسیر مشہور صحابی حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو کا مطلب یہ ہے کہ فقر کے ڈر سے اللہ کے راستے میں خرچ کا چھوڑ دینا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اللہ کے راستے میں قتل ہو جائے بلکہ یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے رک جانا ہے، سورہ البقرہ میں ہی ایک اور جگہ ارشاد ہے ’’ آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ خیرات میں کتنا خرچ کریں، آپ فرما دیجئے کہ جتنا(ضرورت سے) زائد ہو‘‘۔
اس آیت کی تشریح میں حضرت ابو امامہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں اے انسان جو تجھ سے زائد ہے اس کو تو خرچ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے، اور تو ا س کو روک کر رکھے تو یہ تیرے لئے برا ہے اور بقدر ضرورت پر کوئی ملامت نہیں اور خرچ کرنے میں ان لوگوں سے ابتدا کر کہ جو تیرے عیال میں ہیں اور اونچا ہاتھ یعنی دینے والا بہتر ہے اس ہاتھ سے جو نیچے ہے یعنی لینے والا، سورہ ا لبقرہ میں اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ایک اور عجیب انداز میں دی گئی ہے ارشاد ہے،ترجمہ :کون نہیں ہے ایسا شخص جو اللہ جل شانہ کو قرض دے اچھی طرح قرض دینا پھر اللہ اس کو بڑھا کر بہت زیادہ کرے(اور خرچ کرنے سے تنگی کا خوف نہ کرو) کیونکہ اللہ جل شانہ ہی تنگی اور فراخی کرتے ہیں(اسی کے قبضے میں ہے) اور اس کی طرف لوٹائے جائوگے۔اس آیت کریمہ میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر کیا گیا۔ اس لئے کہ جس طرح قرض کی واپسی ضروری ہوتی ہے، اسی طرح اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا اجر و ثواب اور بدلہ ضرورملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں