شائد بعض لوگوں نے طے کررکھا ہے کہ جس طرح ان کی اپنی عزت اوروقار کوئی نہیں وہ ملک کی عزت اور وقار بھی قائم نہیں رہنے دیں گے،ان لوگوں نے ہر حال میں اپنے اس وطن کے لئے رسوائیاں ہی سمیٹنی ہیں ، جس نے انہیں نام دیا ، شناخت دی اور اس قابل بنایا کہ کسی دوسرے ملک میں جا کر با عزت طریقے سے رہ سکیں ۔ دولت اور ہوس کے ان پجاریوں کے سبب مغربی میڈیا میں جب بھی پاکستان کا نام آتا ہے ، کسی برائی سے منسوب ہی ملتا ہے۔ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے شبانہ روز محنت ، مشقت اورلگن سے کام کرنے اور وطن کا نام روشن کرنے والے سپوتوں کی تمام تر تگ وتاز بھی مٹی میں مل جاتی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ دساور میں رہنےوالے تمام پاکستانی ایسے ہی ہیں ، بلکہ شواہد یہ ہیں کہ غالب اکثریت قابل احترام، دیانتدار ، محنتی اور وطن سے وفادار لوگوں کی ہے۔ یہ کوئی اعشاریہ ایک فیصد سے بھی کم یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جانے کے قابل لوگ ہیں ، جنہیں اپنی عزت کی پرواہ ہے نہ ہی ملک کی عزت و وقار کا کوئی احساس ، اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکی پارلیمنٹ میں شور مچانے کے لئے لے جائے گئے کرائے کے تماش بینوں میں چند چہرے پاکستانی بھی دکھائی دیتے ، امریکہ کی سڑکوں پر پڑے ’’جہاز‘‘ نہ اکٹھے کرنا پڑتے ۔ المیہ مگر یہ ہے کہ ایک جانب ہمیشہ سے بدنامیوں کے شائق ان عناصر کو پاکستان کے شخصیت پرستی کے کلٹ کی سرپرستی حاصل ہوگئی اور اوپر سے مغربی میڈیا جو ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف ادھار کھائے بیٹھا ہے ،اسے پاکستان کو بدنام کرنے کا موقع ہاتھ آگیا،ایسے میں مغربی میڈیا میں اثر ورسوخ رکھنے والی بھارتی لابی بھی کیوں پیچھے رہے گی وہ بھی جلتی پر تیل ڈالنے کا اپنا شوق پورا کر رہی ہے ۔ کہیں سے ایک امریکی نیوز ویب AMERICA DAILY POST کا لنک دستیاب ہوا ہے، جس میں ایک ہفتے میں دو رپورٹس پاکستان کے بارے میں ہیں اور دونوں ہی کرپشن کی داستانیں ۔
21مارچ کو Brenda Troutman کی سٹوری ہے کہ باپ کو پاکستان میں سابق وزیر اعظم نے کرپشن پر عہدے سے برطرف کیا، بیٹے کو ایسی ہی حرکتوں پر ووٹروں نے امریکہ میں مسترد کردیا ۔ یہ نگران دور میں چند دن کے لئے وفاقی حکومت کےمعاون برائے بیرونی سرمایہ کاری بنائے جانے والےمحمد طاہر جاوید نامی ایک صاحب کے بارے میں ہے ، جنہیں چند دن بعد ہی برطرف کردیا گیا تھا۔امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ برطرفی کی وجہ کرپشن کا ریکارڈ بنی ، موصوف کوٹیکساس میں 1990میں سزا ہوئی ، 2017 میں وارننگ بھی ملی، 2022 میں آرمی چیف فلڈ ریلیف میں 5لاکھ ڈالر کا چیک دیا جو بائونس ہوگیا ۔ اخبار کے مطابق موصوف کا بیٹا ابراھیم جاوید بھی باپ کا صحیح جانشین نکلا اس نے ٹیکساس کی Fort Bend کائونٹی کا کمشنر بننے کے لئے الیکشن لڑا ، اس پر انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگا ،باپ کے کارنامے بھی سامنے آئے اور وہ بری طرح سے ہارگیا ۔ اس سے ایک ہفتہ پہلے 16مارچ کی Theresa Davidson ایک سٹوری بھی نہ صرف کرپشن پر ہے، بلکہ اس میں پاکستان میں دوسروں کو چور چور کا الزام دینے والی شخصیت پرست سیاسی جماعت کے لیڈروں کاباجماعت ذکر ہے۔ فارن فنڈنگ کی شہرت رکھنے والی پاکستان کی سیاسی جماعت کے امریکہ میں موجود دو راہنمائوں سجاد برکی اور عاطف خان پر الزام لگایاگیا ہے کہ مبینہ طور پر اپنی دولت بڑھانے اور پاکستان و اس کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے لئے 20 لاکھ ڈالر کے پارٹی عطیات کا غلط استعمال کیا ہے۔
اخبار کے مطابق اسی سیاسی جماعت کے امریکہ کے سربراہ نے 18 لاکھ ڈالر کے عطیات وصول کیے لیکن صرف 30 ہزار ڈالر پاکستان بھیجے۔ عام انتخابات 2024 پر اثر انداز ہونے اور پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف مہم چلانے کے لیے16 جنوری سے یکم مارچ 2024 تک 45 دنوں کے لیے لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کی گئی۔ایک اور ساتھی کا بھی اسمیں ذکر ہے ، لکھا گیا ہے کہ ’’ دونوں نے ساتھ مل کر تین معروف امریکی تاجروں سے عطیات وصول کیے لیکن ان میں سے کسی ایک کابھی اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی رقم پاکستان بھیجی گئی ، کسی کو معلوم نہیں کہ تینوں تاجروں اور ایک درجن سے زائد ڈاکٹروں سے ملنے والے 1.8ملین ڈالر کا کیا ہوا، ان عطیات میں سے زیادہ تر ان متعدد ویب سائٹس پر وصول کیے گئےجو اسی مقصد کے لئے بنائی گئی ہیں اور ان کا ابھی تک کوئی آڈٹ نہیں ہوا۔ ان دونوں شخصیات کےسوشل میڈیا پروفائلز کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دونوں کھلے عام اور خفیہ طور پر پاکستان کے اداروں کی ساکھ پر حملہ کرنے کے لئے کثیر الجہتی انفارمیشن وارفیئر تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے پاک فوج کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے دونوں رہنما مبینہ طور پر پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ وہ امریکی سینیٹرز کے ساتھ سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں اور پاکستانی اداروں پر جھوٹے الزامات عائد کرتے ہیں۔ رپورٹ میں اسی جماعت کے بعض دیگر لوگوں کے نام بھی موجود ہیں جو امریکہ میں بیٹھ کر لوگوں سے سیاسی چندے وصول کررہے ہیں اور لابنگ فرموں کے ذریعہ سے پاکستان کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں ۔ امریکی نیوز ویب نے سب لوگوں کے نام اور ان کی دیگر تفصیلات بھی شائع کی ہیں ، احتیاط کے تحت ان کے نام یہاں درج نہیں کئے جا رہے ۔ امریکہ اور مغربی ممالک میں ازالہ عرفی کے قوانین بہت سخت ہیں ،لہٰذا اگر یہ الزامات غلط ہیں تو پاکستان کے لئے نہ سہی اپنی ذات اور اپنی پارٹی کو بدنامی سے بچانے کی خاطرسجاد برکی اور عاطف خان کو چاہئے کہ وہ اس نیوز ویب سائٹ کے خلاف قانونی چارہ جوئی ضرور کریں ۔دوسری جانب یہی سہولت حکومت پاکستان کو بھی حاصل ہے، اسے چاہئے کہ سیاسی فنڈز کی خرد برد اور الیکشن میں مداخلت پر امریکہ اورپاکستان میں ان لوگوں کے خلاف مقدمہ دائر کیاجائے۔ حکومت پاکستان کا رویہ بھی ناقابل فہم ہے ۔چہار جانب طوفان بدتمیزی بپا ہے،جس کے ثبوت میڈیا اور سوشل میڈیا میں بھرے پڑے ہیں ، مگر کارروائی کوئی نہیں ، سب کو کھلی چھٹی ہے جو ملک وقوم اور ملکی اداروں کے بارے میں جو مرضی کہتا رہے ۔ کسی اور سے کوئی غرض نہیں کم ازکم حکومت پاکستان کو ضرور ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے اور ملک کو بدنام کرنے اور چندے اکٹھے کرکے ملک کے خلاف مہم چلانے والوں کا محاسبہ کرنا چاہئے ۔