رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ سے ہجرت فر ما کر اڑھائی سو میل شمال میں ایک بستی جس کو یثرب کہا جاتا تھا تشریف لے گئے تاکہ ان موذیوں کی ایذا رسانیوں سے مطمئن ہو کر دین اسلام کی تبلیغ کرسکیں، لیکن قریش مکہ اپنی عادت سے باز نہ آئے’ چنانچہ ربیع الاول 2ھ بمطابق 623 میں قریش سردار کرز بن جابر الفہری مدینہ منورہ پہنچا اور جو مویشی میدان میں چر رہے تھے انہیں پکڑ کر لے گیا‘ تعاقب کیا گیا لیکن وہ صاف بچ کر نکل گیا۔ یہ اس امر کا اعلان تھا کہ قریش مکہ اہل ایمان کو مدینہ منورہ میں بھی اطمینان سے نہیں رہنے دیں گے ایک عرصہ تک یہی کیفیت جاری رہی حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود کئی کئی راتیں جاگ کر گزاریں ‘ بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک رات آپﷺ نے فرمایا کہ کوئی اچھا آدمی پہرہ دیتا تو کیا ہی اچھا ہوتا` حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے فرمایا حضرت میں حاضر ہوں اور انہوں نے رات بھر پہرہ دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آرام فرمایا۔
مدینہ منورہ سے ابن اسحاق کی روایت کے مطابق 8 رمضان2 ھ بمطابق 4 یا 5 مارچ 624 بروز سوموار کو اور ابن سعد کی روایت کے مطابق 12 رمضان 2ھ بمطابق 624 بروز ہفتہ کو نکلے۔ صحابہ کرامؓ میں سے جو جس حال میں تھا روانہ ہوگیا۔ صرف تین گھوڑے تھے، ایک حضرت زبیر بن عوام ؓکا ایک حضرت مقداد بن الاسودؓ کا اور ایک حضرت مرثد بن ابی مرثدؓ کا اور ستر اونٹ تھے ایک ایک اونٹ پر کئی کئی آدمی سوار ہوگئے۔ تین سو سے کچھ زیادہ آدمی روانہ ہوئے۔ تعداد کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ تین سو بارہ یا تیرہ۔ تین سو تیرہ والی روایت زیادہ مشہور ہے‘ یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی بڑی جنگ ہوگی۔ نماز کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم کو امام مقرر فرمایا’ جب آپﷺ روحا میں پہنچے تو وہاں سے حضرت ابولبابہ بن منذر ؓکو مدینہ کا حاکم مقرر فرما کر بھیجا۔ تین جھنڈے تھے، ایک سفید اور دو سیاہ۔ سفید جھنڈا آپﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو عطا فرمایا اور سیاہ میں سے ایک جس کا نام العقاب تھا حضرت علیؓ کو جو کہ مہاجرین میں سے تھے اور دوسرا حضرت سعد بن معاذ ؓکو جو کہ انصاری تھے عطا فرمایا۔ اس طرح قدم بقدم آپﷺ ترتیب دیتے رہے۔ جب آپﷺ مقام صفرا میں پہنچے تو وہاں سے حضرت بسبس بن عمرو الجہنی اور حضرت عدی بن ابی الرغباء کو بدر کی طرف بھیجا تاکہ قافلہ کا پتہ لگائیں کہ وہ کدھر ہے ادھر ابوسفیان جو سالار قافلہ تھا بھی بے خبر اور غافل نہ تھا‘اسے بھی تشویش تھی کہ مسلمان کہیں اس کی تلاش میں نہ ہوں۔ جو لوگ بھی اس کو راستہ میں ملتے وہ ان سے پوچھ گچھ کرتا اور پھر قدم آگے بڑھاتا۔ راستے میں اس کو مسلمانوں کی اطلاع مل گئی۔ چنانچہ اس نے ضمضم بن عمرو الغفاری کو اجرت دے کر مکہ مکرمہ بھیج دیا تاکہ قریش کو خبر کردے کہ قافلہ خطرے میں ہے۔ اس کے بچائو کے لئے جو کچھ ہوسکتا ہے جلد از جلد کرلو۔
ضمضم مکہ پہنچا تو اس وقت کے قاعدہ کے موافق بطن وادی میں اونٹ پر کھڑا ہوا اور اپنی قمیض کو پھاڑ ڈالا اور زور سے چلایا کہ اے قریش جلدی کرو جلدی کرو ابوسفیان کے ساتھ تمہارا بہت سا مال ہے اور محمد(ﷺ) نے راستہ روکا ہے بچت کی امید نہیں لہٰذا جلدی کرو۔ الغوث الغوث جب مکہ میں یہ آواز پہنچی تو ہل چل مچ گئی بطون مکہ سے سوائے بنی عدی کے سب نکل آئے اور بڑی شان و شوکت سے ابوجہل نے ایک ہزار جنگجوں پر مشتمل ایک لشکر جرار تیار کیا جس میں سات سو اونٹ تین سو گھوڑے تھے۔ تمام لشکر ہر طرح کے کیل کانٹے سے لیس تھا۔ تمام سپاہی زرہ پوش تھے، گانا گانے والے اور آلات موسیقی بھی ہمراہ تھے۔
آنحضرتﷺ مقام صفرا سے آگے بڑھ کر ایک وادی میں پہنچے جس کا نام ذفران تھا تو آپﷺ کو خبر ملی کہ قریش پوری تیاری سے اپنے قافلے اور مال کی حفاظت کیلئے آرہے ہیں اور ان کا لشکر جرار مکہ سے روانہ ہوچکا ہے’ مسلمان چونکہ کسی بڑی جنگ کی نیت سے نہیں نکلے تھے اور اچھی طرح مسلح بھی نہ تھے اس لئے آنحضرتﷺ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہئے صحابہ کرام ؓمیں سے حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ سمیت تمام مہاجرین نے مستعدی کا اظہار فرمایا۔ آپﷺ نے باصرار پھر پوچھا تو انصار میں سے سب سے پہلے حضرت سعد بن معاذ ؓاٹھے اور کہا کہ یارسول اللہ شاید آپ کی غرض یہ ہے کہ ہم لوگ اپنی رائے کا اظہار کریں۔ میں انصار کی طرف سے عرض کرتا ہوں کہ آپ ہم میں سے جس کی رسی چاہیں کاٹ دیں اور جس کی چاہیں جوڑ دیں۔ آپ ہمارے مالوں میں سے جتنا چاہیں لے لیں اور جتنا چاہیں ہمیں دے دیں، جو آپ لیں گے وہ ہمارے لئے اس سے بہتر ہوگا جو آپ چھوڑ دیں گے یارسول اللہﷺ آپ جو حکم دیں گے ہماری رائے اس کے تابع ہوگی۔ یارسول اللہﷺ آپ جہاں جائیں گے ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔ یارسول اللہﷺ اگر آپ حکم فرمائیں گے تو ہم اس سمندر میں داخل ہونے کو تیار ہیں۔ یارسول اللہ آپ جنگ کریں ہم میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ پھر حضرت مقداد بن الاسود کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہم بنی اسرائیل نہیں کہ جنہوں نے اپنے نبی موسی علیہ السلام کو کہا تھا فاذہب انت وربک فقاتلا انا ہہنا قاعدون’’تو اور تیرا رب جائو اور دونوں لڑو ہم تویہاں بیٹھے ہیں‘‘ ‘ہم آپ کے غلام ہیں آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے ہر طرف قربان ہونے کے لئے تیار ہیں۔ حضورﷺ نے جب اپنے صحابہ کی یہ مستعدی دیکھی تو بہت مسرور ہوئے اور آگے بڑھنے کا حکم فرمادیا۔
حضور ﷺ بدر پہنچ کر پہلے چشمہ پر جلوہ افروز ہوئے حضرت صباب بن منذر جو وہاں کے حالات سے بخوبی واقف تھے عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہﷺ کیا اللہ نے آپﷺ کو یہاں پڑائو کاحکم دیا ہے؟: آپﷺ نے فرمایا نہیں یہ میری رائے ہے حضرت حباب نے عرض کی کہ حضرت پھر یہ قیام اچھا نہیں۔ آگے تشریف لے چلئے ہم اس چشمے کے پاس اتریں گے جو قریش کے قریب ہے، اسکے پیچھے جتنے چشمے ہیں انہیں ناکارہ بنا دیں گے اور چشمے کے پاس حوض بنا کر اس میں پانی بھر لیں گے آنحضرت ﷺ نے حضرت حباب بن منذر کی رائے کو پسندفرمایا اور آگے بڑھ کر قریش کے قریب جو چشمہ تھا اس کے پاس نزول فرمایا۔
( جاری ہے)