(گزشتہ سے پیوستہ)
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو مانگتا ہے اور ضرورت ظاہر کرتا ہے اس کو تو دیا جائے، لیکن جو مانگتا ہی نہیں اور اپنی ضرورت کا اظہار ہی نہیں کرتا اس کو کیسے پہچانیں گے تاکہ اس کو اس کا حق دیا جا سکے۔ مفسرین فرماتے ہیں اس سے ایک اور فریضہ بھی عائد ہو جاتا ہے کہ اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھنا کہ کون کس کیفیت میں ہے یہ بھی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ پیچھا کرے اور مانگنے پر مجبور ہو تم خود ایسے آدمیوں کو تلاش کرو اور انہیں ان کا حق دو۔ یہ میں نے دوسرا دائرہ بیان کیا سوسائٹی کا کہ معاشرے میں جن کو اللہ تعالٰی نے پیسے دیے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضرورتمندوں کا خیال رکھیں، ان کی ضروریات پوری کریں۔
تیسرے درجے میں اگر کسی کا کوئی بھی سنبھالنے والا نہ ہو تو اس کی ذمہ داری ریاست اور حکومت پر ہے۔ اس پر میں ایک واقعہ بیان کروں گا۔ بخاری شریف کی روایت ہے، جناب نبی کریمؐ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ کوئی مسلمان فوت ہوتا تو آپؐ جنازہ پڑھانے کے لیے تشریف لے جاتے اور پوچھتے کہ میت پر کسی کا قرضہ تو نہیں ہے؟ اگر کہا جاتا کہ نہیں ہے تو آپؐ جنازہ پڑھا دیتے۔ اور اگر کہا جاتا مقروض مرا ہے، تو پوچھتے کیا اتنی رقم یا جائیداد چھوڑ گیا ہے کہ اس کا قرضہ ادا ہو جائے؟ اگر کہا جاتا کہ جی! اتنی رقم چھوڑ کر مرا ہے تب بھی آپؐ جنازہ پڑھا دیتے۔ لیکن اگر جواب یہ ملتا کہ میت کی میراث سے اس کا قرضہ ادا نہیں ہو سکتا تو فرماتے ’’صلوا علی صاحبکم‘‘ تم جنازہ پڑھ لو، خود حضورؐ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے۔
ایک دفعہ ایسا ہی ہوا حضورؐ جنازہ کے لیے تشریف لائے، پوچھا اس پر قرضہ ہے؟ جواب ملا، جی ہے۔ پوچھا، کیا اتنی رقم چھوڑ گیا ہے کہ اس کا قرضہ ادا ہو جائے؟ جواب ملا، نہیں۔ آپؐ نے حسب معمول فرمایا ’’صلوا علٰی صاحبکم‘‘ تم جنازہ پڑھ لو میں جا رہا ہوں۔ ایک صحابی ابوقتادہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ ہمارے اس بھائی کو جنازے سے محروم نہ کیجیے، اس کا جنازہ پڑھا دیں، اس کا قرضہ میرے ذمے رہا، میں ادا کر دوں گا۔ کیونکہ کسی مسلمان کے لیے اس سے زیادہ محرومی کیا ہو سکتی ہے کہ حضورؐ موجود ہوں اور اس کا جنازہ نہ پڑھائیں۔ اس سے زیادہ محرومی کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ چنانچہ قرضہ کا انتظام ہونے کے بعد آپؐ نے وہ جنازہ پڑھا دیا۔ اس موقع پر حضورؐ نے ایک اعلان فرمایا، میں اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا ’’من ترک مالًا فلورثتہٖ ومن ترک کلًا او ضیاعًا فالی وعلی‘‘۔ جو آدمی پیسے، جائیداد، مال چھوڑ کر مرے گا یہ مال اس کے وارثوں کو ملے گا ہم اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ اور جو کوئی بوجھ چھوڑ کر مرا ہے، قرضہ چھوڑ کر مرا ہے، یا ضیاعًا لاوارث بچے اور خاندان چھوڑ کر مرا ہے تو وہ میرے پاس آئیں گے اور میرے ذمے ہوں گے۔ یہاں سے فقہاء نے یہ اصول اخذ کیا کہ معاشرے کا ہر بے سہارا، ضرورتمند حکومت کے ذمے ہے۔ چنانچہ حضورؐ نے باقاعدہ اس کا نظام قائم کیا۔
میں کہا کرتا ہوں کہ تاریخ میں پہلی بار یہ اعلان آنحضرتؐ نے کیا کہ جو بوجھ اور قرضہ یا لاوارث اولاد چھوڑ مرے گا وہ میرے پاس آئیں گے اور میرے ذے ہوں گے۔ رسول اللہؐ نے بیت المال اسی لیے قائم کیا تھا، لوگ آتے تھے اونٹ کی ضرورت ہوتی تو بیت المال سے دے دیتے، کسی کو کھجوریں ضرورت ہوتیں تو اسے بیت المال سے دے دیتے، مدینہ منورہ کا جو بھی ضرورتمند ہوتا حضورؐ کے پاس آتا، حضورؐ بیت المال سے کپڑے، خرچہ وغیرہ دے دیتے تھے۔
اسی پر ایک لطیفے کا قصہ بھی ہے کہ حضورؐ ہلکی پھلکی دل لگی بھی کیا کرتے تھے، خشک مزاج بزرگ نہیں تھے۔ ایک دفعہ ایک مسافر حاضر خدمت ہوا، عرض کیا یارسول اللہ! میں فلاں علاقے سے آیا ہوں، اب واپس جانا ہے لیکن میرا اونٹ مر گیا ہے، مجھے گھر پہنچنے کے لیے اونٹ چاہیے۔ اسے پتہ تھا کہ یہاں سے اونٹ مل جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا، بیٹھو تمہیں اونٹنی کا بچہ دوں گا۔ وہ پریشان ہو گیا کہ میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ میں اسے اٹھاؤں گا یا وہ مجھے اٹھائے گا۔ اس نے حضورؐ سے عرض کیا یارسول اللہ میں اونٹ کے بچے کو کیا کروں گا۔ تھوڑی دیر بعد حضورؐ نے بیت المال سے اونٹ منگوایا، اس کی مہار اس مسافر کو پکڑائی اور کہا، یہ بھی کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہے۔
جس طرح حضورؐ لوگوں سے دل لگی کرتے تھے اسی طرح بے تکلف ساتھی بھی آپؐ کے ساتھ دل لگی کیا کرتے تھے۔ ایک دلچسپ واقعہ عرض کرتا ہوں۔ حضرت نعیمانؓ بدری صحابی تھے، بڑے کھلی طبیعت کے آدمی تھے۔ وہ لطیفے کرتے رہتے تھے، ان کا ایک لطیفہ یہ ہے کہ ایک دن بازار سے گزر کر مسجد میں حضورؐ کے پاس جا رہے تھے کہ انگوروں کی ریڑھی دیکھی، کھانے کو دل چاہا تو مالک سے کہا، ایک صاع انگور دینا، میں حضورؐ کو چیک کراتا ہوں، اگر پسند آ گئے تو ہم کھالیں گے، اتنی دیر بعد مسجد میں آ کر پیسے لے جانا۔ انہوں نے انگور لیے اور مسجد پہنچے۔ وہاں حضورؐ اور صحابہؓ موجود تھے، ان سے جا کر کہا انگور کھائیں گے؟ انہوں نے کہا کھالیں گے۔ چنانچہ سب نے انگور کھائے، تھوڑی دیر کے بعد پیسے لینے والا آدمی آ گیا۔ حضرت نعیمان نے حضورؐ سے کہا یارسول اللہ! اس کو پیسے دیں۔ آپؐ نے فرمایا، کس چیز کے پیسے؟ حضرت نعیمانؓ نے کہا ابھی انگور نہیں کھائے؟ انگور کھائے ہیں تو اب پیسے دیں۔ چنانچہ حضورؐ نے پیسے دیے، پھر حضرت نعیمانؓ نے کہا میرا جی چاہ رہا تھا کہ آپ انگور کھائیں، میرے پاس پیسے نہیں تھے تو میں نے یہ طریقہ اختیار کیا تاکہ آپ انگور کھا لیں کہ ویسے تو آپ نے انگور کھانے نہیں تھے۔
میں نے یہ بات عرض کی ہے کہ حضورؐ کے زمانے میں یہ ماحول تھا کہ جس کو جو چیز ضرورت ہوتی تھی بیت المال سے اس کو مل جاتی تھی۔ معاشرے کے ضرورتمندوں کی ضرورتیں آپؐ بیت المال سے پوری کیا کرتے تھے۔
یہ میں نے تین دائرے بیان کیے۔ گھر کی ضروریات اور خرچہ کی تفصیل بھی حضورؐ نے بیان فرمائی۔ بچے ماں باپ کے ذمے اور والدین اولاد کے ذمے۔ بیوی شوہر کے ذمے اور گھر کے سارے کام بیوی کے ذمے۔ دوسرے دائرے میں معاشرے کے امیروں کے ذمے لگا دیا کہ غریبوں اور محتاجوں کی ضروریات پوری کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اور تیسرا دائرہ کہ جس کا کوئی خیال نہ رکھنے والا ہو وہ حکومت اور ریاست کے کھاتے میں ہیں۔ جیسا کہ حکومتیں خلافت راشدہ کے دور میں ذمہ دار ہوا کرتی تھیں اور اپنی یہ ذمہ داری پوری کیا کرتی تھیں، اس پر بہت سے واقعات ہیں لیکن اب اتنا وقت نہیں ہے کہ بیان کیے جائیں۔ اللہ تعالٰی ہمیں دوبارہ ایسا نظام نصیب فرما دے، آمین۔