Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

’’پنبہ کجا کجا نہم‘‘

اسلام آباد کی عدالت عالیہ کے جج صاحبان نے کمال جرات کا مظاہرہ کیا، سابق جج شوکت صدیقی کے مقدمہ کا فیصلہ ہوتے ہی ، اپنا دکھ سپریم جوڈیشیل کونسل کے سامنے رکھ دیا اور الزام لگایا کہ انٹیلی جنس کا ادارہ ان پر دبائو ڈالتا رہا ہے ۔ حیرت انگیز طور پر شکائت کنندہ جج صاحبان میں وہ دبنگ جج بھی شامل ہیں جو لاپتہ افراد کے مقدمہ کی سماعت کریں تو ریاست پاکستان کو خوب کھری کھری سناتے ہیں ، وزیر اعظم کو طلب کرتے ہیں اور آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو طلب کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں ۔کوئی سوچ نہیں سکتا کہ ان پر بھی دبائو ڈالا گیا ہوگا ؟بہر حال اگر انہوں نے اتنا رسک لیا ہےاور سر عام بات کی ہے تو یقیناً اس کے پس پردہ کچھ تو ہوگا ۔ صد شکر کہ سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس کی طرح معاملہ دبادینے کے بجائے تحقیقات کا راستہ اختیار کیا ، پہلے وزیر اعظم سے ملاقات کرکے انکوائری کمیشن بنوایااور اب ایک لارجر بنچ بنا کر سوموٹو ایکشن کےتحت سپریم کورٹ میں کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے ، معاملہ عدالت میں ہے ، جہاں قانون پر بحث ہوگی ، الزامات کے ثبوت مانگے جائیں گے۔ اگر ماضی سے مختلف کچھ ہوا تو کمیشن اور عدالت دونوں جگہ سے فیصلہ بھی آجائے گا ۔
کسی ادارے اور کسی فرد کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ غیر قانونی طور پر کسی عدالت تو کجا کسی بھی دوسرے ادارے کے کام میں مداخلت کرسکے ۔عدالت کو آزاد اور بے خوف ہوناچاہئے ، اتنا بے خوف کہ سیدنا عمر ؓاور سیدنا علی ؓ جیسے جلیل القدر بھی سامنے ہوں تو عدالت مرعوب نہ ہو ۔جس عدالت پر دبائو ڈالا جا سکے ، جسے مینج کیا جا سکے ، وہ عدالت کیسی ؟ چاہے یہ سب کوئی ادارہ کرے یا کوئی فرد یا مشہور لطیفے کے مطابق کوئی دولت مند وکیل کی بجائے جج ہائر کرکے نظام عدل میں مداخلت کرے،یہ سب ناقابل قبول ہے ، انصاف کا قتل اور معاشرے میں جرائم اور برائیوں کی پشت پناہی کا راستہ۔ حالیہ کارروائی سےامید پیدا ہوئی ہے ،توقع بندھی ہے،مطالبہ زبان پر آنے کو مچل رہا ہے کہ جسٹس تصدق کمیشن صرف اس خط تک محدود نہ رہے ۔ دیگر خرافات کا بھی جائزہ لے تاکہ پون صدی سے بگڑے نظام کو سیدھا کرنے کی کوشش تو کم ازکم کی جا سکے ۔ ججوں پر دبائوہی نہیں انصاف کی راہ میں رکاوٹ اور مداخلت کا ہر راستہ بند کرنا لازم ہے ۔اس امر کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے سوا دنیا میں وہ کونسا ملک ہے جہاں ریاستی اداروں پرحملہ آور ہونےوالوں کو ان کی مرضی سے بڑھ کر ریلیف دیا جاتا ہو ، یہاں تک کہ پون صدی سے پارلیمنٹ سے باربار توثیق حاصل کرنےوالے قانون کو کوئی فرد واحد اس لئے اڑا کر رکھ دے کہ وہ قانون اس کے کسی ممدوح کے سیاسی مفادات کے منافی ہے۔ اس پر بھی کوئی تحقیقات نہیں ہونی چاہئے؟ کہ یہ کون سا انصاف ہے کہ عام آدمی تو سزائے موت کے خلاف بھی اپیل کرے تو اس کی شنوائی کی نوبت اس وقت آئے جب اسے پھانسی چڑھے ہوئے بھی کئی سال بیت چکے ہوں اور من پسند سیاسی لیڈر کا معاملہ ہو تو عدالت پورا دن ترلے کرنے میں گزار دے کہ قبلہ اک بار قدم تورنجہ فرمائیں ۔ یہ کون سا انصاف ہے؟ کہ عام ملزم کو چاہے اس کے دشمن کمرہ عدالت میں ہی بھون ڈالیں ، لیکن اپنی ضمانت کروانے اسے عدالت میں پیش ہونا ہی پڑتا ہے ، لیکن جب کوئی سیاسی چہیتا آجائے توعدالت اس کی حاضری لگوانے جہاز تک میں حاضر ہوجاتی ہے؟ اس معاملے کا فیصلہ بھی ہونا چاہئے کہ ایک ہی عدالت ، ایک ہی جج ایک جیسے حالات اور شرائط میں ایک فیصلہ دیتا ہے اورچند ہفتے بعد انہی حالات میں پہلے فیصلے کے الٹ فیصلہ سنادے ۔اس کا بھی جائزہ لیناچاہئے کہ یہ کونسا انصاف ہے کہ ایک بندہ ریاست کو گالی دیتا ہے ، دشمن ملک کو اپنے جلسوں میں حملے کی ترغیب دیتا ہے پکڑا جائے تو چند منٹ میں نہ صرف ضمانت ہوتی ہے بلکہ عدالت کہتی ہے ریاست کو گالیاں دینا کوئی جرم نہیں، ریاست کی توہین نہیں ہوتی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے سینکڑوں جانوں کی قربانی دے کر دہشت گردوں کو گرفتار کرکے لاتے ہیں اور کوئی جج نصف گھنٹے کی سماعت میں تین سو دہشت گردوں کو آزادی کا پروانہ تھما دیتاہے، کیوں؟ یہ دنیا میں کہاں ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے ملک دشمنوں کے خلاف سینہ سپر ہوں اور عدالتیں انہی شیر جوانوں کو کٹہرے میں بلا کر رسوا کریں ۔ کمیشن کو اس کا بھی کوئی حل نکالنا چاہئے کہ انصاف قانون کے بجائے شکلیں دیکھ کر کیوں دیاجاتا ہے ؟ ہر عدالت میں یہ تقسیم کیوں ہے کہ فلاں جج فلاں سیاسی جماعت اور دوسرا دوسری جماعت کےحق میں فیصلے دیتا ہے۔ ججوں کے بارے میں جب عام آدمی تک نام لے کر کہے کہ ججوں کا ایک دھڑا ایک سیاسی جماعت کے حق میں فیصلے دیتا ہے اور دوسرا دوسری سیاسی جماعت کے حق میں ، اپنی اس شناخت کو جج حضرات بھی انجوائے کریں اور سیاسی جماعتیں بھی ، تو کیا ایسے ججوں کو عدالت میں بیٹھنے کاحق ہونا چاہئے ؟
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی ادارے کو کوئی حق نہیں کہ وہ سیاست یا عدلیہ میں مداخلت کرے ، لیکن جب کوئی سیاستدان ، کوئی صحافی ، کوئی جج ، کوئی بیوروکریٹ یا کوئی بھی بڑی سیٹ پر بیٹھا چھوٹا آدمی ملک دشمنوں سے ہاتھ ملالے ، ان کے مفاد میں کام کرنے لگے ، ملک کی بدنامی کا باعث بن جائے تو کیا کرنا چاہئے؟اور کسے کرنا چاہئے ؟فیصلہ اس پر بھی ہونا چاہئے کہ اپنے مفادات اور مراعات کی خاطر ایک ایک دن میں ساٹھ ساٹھ قانونی مسودے پاس کرنے والے ارکان پارلیمنٹ دہشت گردی کے خلاف خصوصی قوانین پاس کیوں نہیں کرتے ؟ سیاسی معاملات میں قانون اور روایات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ریلیف دینے والی عدالتیں دہشت گردی کے معاملہ میں کیوں فیصلہ کرنے کے بجائے فرار کا اور دہشت گردوں کو ریلیف دینے کا راستہ اختیار کرتی ہیں ۔ عدلیہ معزز ہے ، محترم ہے، لیکن جب مسلسل ایسا ہونے لگے کہ عدالت زبانی طور پر بڑا دبنگ فیصلہ سنائے اور تحریری فیصلہ مہینوں تک روک کر ایسا پھسپھسا لکھے کہ بین الاقوامی عدالتوں کی پہلی پیشی پر ہی اڑا کر رکھ دیا جائے ،ملک کو اربوں ڈالر کے جرمانے ادا کرنے پڑیں۔ اس کا مجرم کسے ٹھہرایا جائے؟ اور شنوائی کہاں ہوگی؟ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس چکا ہے ، دیوالیہ ہونے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور عدالتوں نے سال ہا سال سے 15سو ارب کے محصولات پرسٹے دے رکھا ہے ، آخر کیوں ؟ کس کا مفاد ؟
سوال البتہ یہ ہے کہ ملک کا کوئی ادارہ لاقانونیت ، سیاست ، اقربا پروری اور کرپشن سے پاک نہیں رہ گیا ، پورا نظام گل سڑ گیا ہے ، سیاست زدہ ہوگیا ہے ، مفادات پر مشتمل سیاسی تقسیم نے سب کچھ بھسم کرڈالا، معیشت سے دفاع تک سیاست سے امن وامان تک مسائل ہی مسائل ہیں ، ایسے میں یہ ایک کمیشن کیا کر سکے گا ۔
یک تن و خیلِ آرزو، دل بہ چہ مُدّعا دہَم
تن ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجا کجا نہم
(ایک جان اور خواہشوں کا سیلاب یہ دل کس کس کے پیچھے جائے ، جسم میرا زخموں سے چور ہے ، پھاہا کہاں کہاں لگائوں)

یہ بھی پڑھیں