Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

ایران! ڈاکٹر رضا امیری مقدم تک

2اپریل کو ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کی طرف سے ایرانی سفارت خانے میں رمضان میں دوسری افطاری دی گئی ہے۔ پہلی افطاری رمضان کے پہلے عشرے میں عید نو روز کے حوالے سے تھی جس میں کچھ محدود تعداد میں سیاستدان، دانشور، صحافی مدعو تھے جبکہ 2اپریل کی شام کی افطاری میں تقریباً200 صحافی خواتین و حضرات مدعو تھے۔ ڈاکٹر رضا امیری مقدم کا عہد بہت فعال اور متحرک ہے۔ پاک و ایران میں سفارتی تعلقات بہت سے نشیب و فراز سے گز رے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ایران کو بہت شوق تھا کہ وہ مذہبی و مسلکی بنیادوں پر ہر ملک میں اپنا انقلاب برآمد کرنے کے جنون میں مبتلا تھا۔ یہ عہد میں نے بھی دیکھا ہوا ہے۔ میرے دوست سینیٹر طارق چوہدری نے مجھے کہا کہ میں انہیں ایرانی سفارت خانے میں چھوڑدوں، جہاں وہ ایک تقریب میں مدعو تھے۔ یہ پی ڈی ایف یعنی بے نظیر بھٹو کا عہد تھا جبکہ ایران کو برآمدی انقلاب کی قوت کے اظہار کا بہت شوق تھا اور اس حوالے سے مسلکی و مذہبی جانب ایران کی بہت زیادہ توجہ تھی۔ میں اکثر اس جوش و جذبے پر ہنستا بھی رہا ہوں کہ پاکستان جیسے سنی اکثریت والے ملک میں محض مسلک و مذہب کی بنیاد پر اقتدار اور سیاست میں قبضہ ناممکن ہے جبکہ سیاسی انداز میں حسن سفارت کاری سے تعلقات بہتر کرکے دو ریاستوں میں تعلقات عمدہ بنا کر وہ مقاصد بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں جو محض جوش و جنون و عشق کے مسلکی پراکسی کے ذریعے حاصل کرنے کی احمقانہ کوشش ہوتی ہو۔ چنانچہ ان دنوں ’’دخل درمعقولات‘‘ کے سبب ایرانی سفارت کاری ہمارے ہاں ناپسندیدہ تھی۔ لہٰذا کچھ دن بعد مجھ تک جاسوسی خوشبو سونگے والے پہنچ گئے کہ تم ایرانی سفارت خانے کس مقصد کے لئے گئے تھے خیر میں اس روئیے پر تو بہت خوش ہوا کہ میرے ملک کی ’’خوشبو‘‘ سونگنے کی ’’حس‘‘ بروقت بیدار ہے اور میں نے انہیں سب کچھ بتا دیا۔
لیبیا عرب کرنل قذافی کا آخری عہد بھی پاکستان میں ناپسندیدہ ہی تھا۔ سعودیہ سے کرنل قذافی کی شدید مخاصمت تھی وہ سعودی جغرافیے کو توڑنے کے مغربی ایجنڈے کو اپنا کر مشرقی صوبے کو الگ کر دینے کا تصور لئے بیٹھے تھے بلکہ کئی مرتبہ کرائون پرنس عبداللہ کے قتل کی سازش بھی کر چکے تھے۔ لہٰذا میرے جیسے سعودی عاشق کے لئے کرنل قذافی سخت ناپسندیدہ تھے مگر جب اس کے خلاف امریکی، برطانوی، فرانسیسی سازش ہوئی تو میرے اندر کا غیرت مند مسلمان عرب دوست جاگ اٹھا، میں نے انگڑائی لی اور لیبیاء کے انقلابی سفارت خانے جا پہنچا اور اس وقت کے سفیر سے ملاقات کرکے کرنل قذافی کی افریقی اتحاد کے لئے کوششوں کو پسند کرنے کی بات کرکے بتایا کہ مخالف تھا مگر آج سے لیبیا کا دوست ہوں، کرنل قذافی کی حمایت کرونگا، لہٰذا اس عرصے میں جب تک کرنل قذافی کے لیبیا تک حملے ہوتے، میں نے سات کالم لکھے جو اوصاف میں شائع ہوئے اور میں نے جاکر وہ سفارت خانے میں سفیر کو دئیے مگر تب تک لیبیاء وزارت خارجہ میں فرانسیسی، برطانوی، امریکی سازش داخل ہو کر فاتح ہوچکی تھی، میرے سات کالم نہ لیبیاء کے کام آئے نہ سعودیہ کے خلاف تھے بلکہ امریکہ و فرانس و برطانوی سازش کی کہانی بتا رہے تھے مگر لیبیا سفارت کار عملاً جنرل ضیاء الحق کے عہد سے ناپسندیدہ تھے۔ ہمارے ’’خوشبو‘‘ سونگنے والے لیبیا کے سفارت خانے جانے والوں سے پوچھ گچھ کیا کرتے تھے۔ مجھ سے بھی کی گئی تب بھی میں خوش ہوا کہ میرا وطن اور ریاست ’’جاگ‘‘ رہی ہے۔ مگر بالآخر کرنل قذافی کی تمام تر خوبیوں اور افریقہ کے لئے سنہری خدمات ہار گئیں اور مغرب فاتح ہوا جس کا رہنما اول فرانسیسی صدر سرکوزی تھا۔ سرکوزی نے جس طرح قذافی کی دولت کے ذریعے سیاست و اقتدار حاصل کیا اور پھر احسان فراموشی کی تھی یہ بات میرے لئے ہمیشہ چشم کشا ثابت ہوئی۔ لیبیاء کی وزارت خارجہ میں ’’بغاوت‘‘ ہوگئی قذافی کے خلاف جس میں اسلام آباد میں متعین سفیر بھی شامل تھے۔ ایک پاکستانی عبدالعزیز مترجم تھے۔ وہ ’’غداری‘‘ کا یہ منظر دیکھ کر برداشت نہ کر سکے اور ہارٹ اٹیک جو اصل میں صدمہ تھا کے سبب زندگی ختم کر بیٹھے اور اس کی فیملی تباہ و بربادہو گئی۔ کیا جذباتی انقلاب کا انجام ایسا بھی ہوسکتا ہے؟
عشروں سے خلیجی شیوخ، سعودی آل سعود کے لئے عشق کی کہانی کئی بار لکھ چکا ہوں، وہ عشروں پر میری یکطرفہ محبت و عشق کا آخری منظر نامہ یہ ہے کہ میں تاحال سعودی، اماراتی، قطری، کویتی، عمانی، بحرینی عشق و محبت پر قائم ہوں مگر جب سے نواف المالکی سفیر بنے ہیں اور محمد بن سلمان نائب ولی عہد، پھر ولی عہد پھر عملاً مکمل قائمقام بادشاہ بنے ہیں تب سے مجھ سے نہ صرف سعودی بلکہ خلیجی محبت و پیار کے دروازے مکمل بند ہیں۔جی ہاں میرے ساتھ ریاض کی طوطہ چشمی، خود غرضی، امارات کی ابن الوقتی، بحرین کی شقاوت کے سبب میرے ساتھ تو یہ ہوچکا ہے۔ وجہ صرف شائد یہ ہے کہ میں عاشق زار تو تھا مگر آلہ کار، غلام نہیں بن سکا۔ نہ میں خود کو تبدیل کر سکتا ہوں نہ وہ اپنی متکبرانہ خو بدلنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وجہ وہی ایک عرب ہونا اوپر سے مالدار ہونا کہ ہم پاکستانی عربوں کی معاشی وسعت گیری کے جو محتاج ہیں مگر قدرت الٰہی کب تک اس تکبر و غرور کے سامان کو برقرار رکھے گی؟ ایک دن تو اقتدار کے ’’استدراج‘‘ کے نتائج نکلیں گے؟ جبر، ظلم، تکبر، غرور کا انجام، قرآن پاک میں بار بار لکھا ہوا ہے۔ کیا میرے معشوق عرب بالخصوص خلیجی شیوخ، سعودی حکمران اپنی، اپنی متکبرانہ سفارت کاری کا کبھی جائزہ لیں گے؟ ورنہ وہ ڈوب جائیں گے دولت کے باوجود، غزہ جنگ سے پیدا ہوتی صورتحال پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے جارہی ہے۔
بے شک جوبائیڈن بار بار کہہ رہے کہ سعودیہ، خلیجی شیوخ ان سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے رابطے میں ہیں، مگر میں درویش، فقیر، قلندر پیش گوئی لکھ رہا ہوں کہ اگر اب یکطرفہ اسرائیل کو تسلیم کیا گیا تو عرب عوام بادشاہتوں کا تختہ الٹ دیں گے۔ لہٰذا اب ’’مسلمان بن جائیں بہت کرلیں عیاشیاں، بدمعاشیاں‘‘
واپس ایران کی طرف میں ایک جنگجو مگر مصالحانہ فکری رویہ رکھتا ہوں، میں نے ایران کا ’’پراکسیز‘‘ والا چہرہ بھی خوب دیکھا ہوا ہے، پراکسیز کے ذریعے ’’کنٹرول‘‘ کرنے کا طریقہ دیکھا ہوا ہے بلکہ اس کے ذائقے سے بھی آشنا ہوں۔ مگر جب ایران اپنے اندر مثبت تبدیلی لے آتا ہے۔ ’’مکا‘‘ دکھانے کی بجائے ’’مسکراہٹ‘‘ کا سفارتی ہتھیار استعمال کرتا ہے تو جیت جاتا ہے۔ مجھے ایران نے صرف حسن معاملہ سے، حسن اخلاق سے، مسکراہٹ سے ’’فتح‘‘ کیا ہے اور عربوں کی بادشاہتوں کی سفارت کاری نے تکبر وغیرہ سے نفرت و غصے سے اپنے سے بہت دور کر دیا ہے کیا عرب بادشاہتیں اپنا اور ایران کا تقابل کرنا پسند کریں گی؟
ایران کا گزشتہ عہد ڈاکٹر کے کے جیسے میڈیا میں جنگجو ایران ذہن کا ترجمان تھا۔ میں بھی ’’اجڑ‘‘ تھا وہ بھی ’’اجڑ‘‘ تھا لہٰذا جنگ قلم و قرطاس ہوتی رہی، مگر آخر میں سیز فائر ہوگیا اور یہ مشکل بلکہ ناممکن مرحلہ عربوں کی اپنے لئے نفرت، دشمنی کے سے انداز نے بھی ممکن بنا دیا۔کھل کر لکھ رہا ہوں نواف المالکی الزعابی نے خاص طور پر، کیا وہ آئینہ سفارت کاری استعمال کر سکیں گے؟
ڈاکٹر مقدم جنگجو سفارت کار تو ہے مگر مسکراتے ہوئے، بغل گیر ہوکر، ھادی گلریز، انگریزی و فرانسیسی کا مرقع ہے مگر ہمیشہ محبت کا گلاستہ ہاتھ میں لئے کھڑا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مقدم ایرانی سفارت کاری کا بہت دلچسپ باب رقم کر رہے ہیں۔72سالوں میں جو کچھ نہ حاصل ہوا تھا وہ سب کچھ ڈاکٹر رضا امیری مقدم حاصل کر چکے ہیں۔ اب سمجھ آرہی ہے کہ کہنے کو عباسی خلافت عربوں کی تھی، مگر عملاً بادشاہت گر تو ایرانی ذہن و تہذیب و تمدن تھے۔ کاش مجھے فارسی پر عربی کی طرح عبور ہوتا تو ایران جاتا۔ ایرانی عوام کو دیکھتا، سمجھتا، قبول بھی شائد کر لیتا۔

یہ بھی پڑھیں