اسمعیل ہنیہ قتل کے ایرانی‘ عربی اثرات
31 جولائی کی صبح اخبارات میں نومنتخب ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے حماس کے راہنما اسمعیل ہنیہ کی ملاقات اور بات چیت کی خبر پڑھ رہا تھا کہ ایک مخلص دوست نے فون کیا کہ ایران میں اسمعیل ہنیہ کو
31 جولائی کی صبح اخبارات میں نومنتخب ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے حماس کے راہنما اسمعیل ہنیہ کی ملاقات اور بات چیت کی خبر پڑھ رہا تھا کہ ایک مخلص دوست نے فون کیا کہ ایران میں اسمعیل ہنیہ کو
بہت عرصے بعد ایک اردو سوانح عمری ایسی پڑھنے کو ملی ہے جو دیدہ زیب ہے‘ جس میں طباعتی حسن بھی موجود ہے‘ جسے ایک شخص کی بجائے پورے خاندان کے حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ پورے عہد کا
20 جولائی کی اشاعت میں ہم نے ’’حرمین شریفین میں پاک الیکٹرک سواریوں کا استعمال‘‘ میں اہل علم سے گفتگو اور اپنی طرف سے ایک دینی و شرعی موقف پیش کیا تھا۔ آج کی نشست بھی حرمین شریفین سے اور
اس تحریر کو لکھنے سے پہلے خاکسار نے کئی اصحاب علم سے معاملہ فہمی اور دینی تفہیم حاصل کی ہے‘ ان کی مکمل تائید وحاصل ہونے کے بعد یہ تحریر پورے اطمینان قلب کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ زیر بحث
خبر ہے کہ یحییٰ سنورا (حماس‘ غزہ کا بے مثل بہادر ہیرو) کی فاتحانہ تصویر اسرائیلی پارلیمنٹ میں آویزاں کر دی گئی ہے۔ یہ تصویر ایسے انتہا پسندوں کی طرف سے لہرائی گئی ہے جو حماس سے مستقل جنگ بندی
گزشتہ جمعہ کے دن 5 جولائی کو ایرانی عوام نے اپنا نیا صدر منتخب کرلیاہے۔ یہ ’’وجود مسعود‘‘ جناب مسعود پزشکیان ہیں۔ ان کی پیدائش29 ستمبر1954 ء کو ہوئی‘ عمر تقریباً69 سال ہے۔ تعلیم تبریز کی میڈیکل سائنسز یونیورسٹی سے
لبنان سے تمام سعودیوں کو واپس لوٹ آنے کا MBS کا فیصلہ اب نافذ ہے‘ لبنان اور بیروت جو دنیا میں محبوب ترین ملک اور شہر تھا ‘ جب لبنان ملک اور بیروت شہر میں سعودی حسن اخلاق کے سخاوت
پاکستان میں سپریم کورٹ اور جرنیلوں کا اقتدار کے حوالے سے کردار ہرگز قابل رشک نہیں ہے۔ جسٹس منیر کے معاملات سامنے ہیں۔ ہاں آج کل جسٹس اطہر من اللہ کے الیکشن کمیشن کے حوالے سے 29جون کو جاری کردہ
تفسیر فی ظلال القرآن کی دوسری جلد پڑھ چکا تو خیال آیا کہ اب کچھ ’’نیا‘‘ بھی پڑھنا چاہیے‘ اگرچہ کچھ کتب تو موجود تھی تاہم ایک دوست کی لائبریری میں ’’الرحیق المختوم‘‘ دیکھی تو ان سے مستعارلی تاکہ عید
شبر زیدی پاکستان کے معروف ماہر امورٹیکس و معیشت دان ہیں۔ وہ عمران خان حکومت میں چیئرمین سی بی آرتھے۔ سندھ حکومت میں ماضی میں نگران وزیرخزانہ بھی تھے۔ وہ اکثرٹاک شوز میں آتے ہیں۔ مکمل طورپرسیکولر اورلبرل معاشی امور