خبر ہے کہ یحییٰ سنورا (حماس‘ غزہ کا بے مثل بہادر ہیرو) کی فاتحانہ تصویر اسرائیلی پارلیمنٹ میں آویزاں کر دی گئی ہے۔ یہ تصویر ایسے انتہا پسندوں کی طرف سے لہرائی گئی ہے جو حماس سے مستقل جنگ بندی کا معاہدہ جسے جوبائیڈن نامی منافق ترین امریکی صدر نے پیش کیا ہے اس پر عملدرآمد کو روکنا چاہتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اگر جنگ بندی کا حماس سے مستقل معاہدہ ہوگیا تو یہ اسرائیل کی شکست اور یحییٰ سنورا کی ’’فتح‘‘ ہوگا۔
دوسری طرف میرے سامنے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے اقوام متحدہ میں کی تھی اور عربوں کی سرزمینوں پر قابضانہ قبضہ خواب کو عظیم تر اسرائیل کے قیام کی کنجی قرار دیا تھا۔ یہ عرب کون ہیں؟ جن کی سرزمینوں پر نیتن یاہو جیسے انتہا پسند عظیم تر اسرائیل کی تاسیس کی تکمیل کے خواب کی تعبیریں تلاش کرتے رہے ہیں۔ یحییٰ سنورا کی اسرائیلی پارلیمنٹ میں تصویر لہرانے والے تعصب‘ نفرت‘ دشمنی کے جذبات سے لبریز صیہونی ہی کچھ مصری‘ کچھ عراقی‘ لبنانی‘ شامی ‘ یمنی‘ کچھ سعودی (مدینہ منورہ ڈویژن) تک کے علاقوں میں فاتحانہ طور پر قبضہ کے ذریعے عظیم تر اسرائیل کے قیام کی جدوجہد میں یہودی دینی‘ مذہبی طور پر مصروف ہیں۔ یحییٰ سنورا کی تصویر کو لہرانا نہ صرف امن سے دشمنی ہے بلکہ عربوں سے دشمن کا اظہار بھی ہے اور یہودی صیہونی غیرت کو جگانے کی کوشش بھی ہے۔
امریکی منافقت کا اوپر میں نے ذکر لکھا ہے۔ شاہ سلمان جو40سال تک گورنر ریاض رہے تھے‘ جب وہ شاہ بنے تو اسلام آباد میں مکتب الدعوۃ والارشاد کے سربراہ ابو سعد محمد الدوسری تھے ‘ جب صدر اوبامہ جیسا عربوں سے بظاہر دوستی‘ محبت کرنے کا دھوکہ‘ فراڈ کرتا ہوا دوبارہ سعودی عرب میں شاہ سلمان سے ملنے ریاض آیا‘ تو شاہ سلمان کی ذہانت نے عرب کلچر میں جب اذان کی آواز بلند ہوتی سنی تو ائیرپورٹ پر پہنچ چکے صدر اوبامہ سے معذرت کی کہ وہ ذرا توقف اور انتظار کریں تاکہ شاہ سلمان اور ان کی کابینہ نماز سے فراغت پالیں۔ اصل میں امریکہ جیسے خود غرض اور مطلب پرست اور عربوں کو دھوکہ دہی کے جواب میں شاہ سلمان نے یہ اقدام اٹھایا تھا‘ میں نے فرط محبت میں شاہ سلمان کی حمایت میں اس حوالے سے پرجوش کالم لکھا‘ کالم پڑھ کر مسرت سے مجھے ابو سعد محمد الدوسری نے اپنے دفتر بلوایا‘ کالم لکھنے پر بھرپور شکریہ ادا کیا اور گرم قہوہ پیش کیا‘ جب بھی کوئی مسئلہ سعودی عرب کے حوالے سے پیش ہوتا وہ مجھ سے تقاضا کرتے اور میں کالم لکھ کر سعودیہ کی ‘ شاہ عبد اللہ کی اور بعد میں شاہ سلمان کی بھرپور حمایت کر دیتا‘ یہی صورتحال سفیر الزہرانی اور سفیر عبدالعزیز کے زمانے میں رہی۔ اس کے بعد وہاں کچھ اور لوگ آگئے اور صورتحال بدل گئی۔
غزہ و حماس کے حوالے سے تبدیل شدہ اسرائیلی و فلسطینی کشمکش میں اگرچہ جنگی طور پر سعودی عرب یا خلیجی ممالک نے عملاً شرکت نہیں کی مگر عالمی سطح پر اقوام متحدہ میں ‘ سعودی عرب نے قائدانہ طور پر ‘ امارات‘ قائدانہ طور پر ‘ قطر نے جارحانہ طور پر پورے خلیجی عربوں ‘ مصر‘ اردن وغیرہ نے جو بھرپور سفارتی جنگ لڑی ہے اس کا اعتراف نہ کرنا کفران نعمت ہوگا۔
حال ہی میں جہاں قطر نے جارحانہ سفارت کاری کی ہے وہاں سعودی عرب نے غزہ جنگ کے ختم ہونے کے ساتھ مسئلہ فلسطین کو مستقل طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور حماس و غزہ و فلسطین کو مصر و اردن نے ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دیا ہے۔
پاکستان میں آئل کمپنیوں میں سعودی سرمایہ کاری شروع ہوچکی ہے۔ اس سعودی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ امید کرتا ہوں مستقبل میں مزید سعودی سرمایہ کاری آئے گی۔
ایران کو اگلے چند سالوں میں جس طرح بہت سے جنگی مسائل میں الجھا ہوا دیکھ رہا ہوں وہاں شاہ سلمان کی حکومت‘ ولی عہد محمد بن سلمان کی حکمت و دانائی‘ تدبر و فراست کے لئے کئی امتحانات دیکھ رہاہوں اور سعودی افواج کو شائد پہلے سے زیادہ چوکس رہنا ہوگا اور اب کی بار مقابلہ میں لازماً ’’فتح‘‘ حاصل کرنا ہوگی۔ میں بہت مسرور ہوں کہ جنرل راحیل شریف کی وساطت سے پاک فوج سعودی افواج کے شانہ بشانہ موجود ہے اور غزہ و فلسطین سے وابستہ مسائل میں پاک فوج اور سعودی افواج مل کر جارحانہ عسکری خدمات سرانجام دیں گی۔ انشاء اللہ