Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

اقبال شناس نومنتخب ایرانی صدر مسعود پزشکیان

گزشتہ جمعہ کے دن 5 جولائی کو ایرانی عوام نے اپنا نیا صدر منتخب کرلیاہے۔ یہ ’’وجود مسعود‘‘ جناب مسعود پزشکیان ہیں۔ ان کی پیدائش29 ستمبر1954 ء کو ہوئی‘ عمر تقریباً69 سال ہے۔ تعلیم تبریز کی میڈیکل سائنسز یونیورسٹی سے مکمل کی‘ پیشہ کے اعتبار سے ماہر امراض قلب ہیں۔ جس میں سرجری بھی شامل ہے۔ میڈیکل یونیورسٹی تبریز میں پروفیسر رہے ہیں۔ کئی بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے‘ وزیر طبی تعلیم رہے اور ڈپٹی سپیکر منتخب اسمبلی بھی رہے۔ ان کی زوجہ محترمہ جب داغ مفارقت دے گئی تو انہوں نے نئی شادی کرنے کی بجائے اپنے بچوں کی پرورش ‘ تعلیم و تربیت کرنے میں اپنے لئے مصروفیت تلا ش کرلی تھی ’’منتخب‘‘ ہونے کے وقت انہوں نے اقبال لاہوری کی ایک رباعی اونچی آواز میں عوام کو سنائی ہے۔ اقبال لاہوری کے یہ اشعار اخبارات میں چھپ چکے ہیں تاہم فارسی زبان جاننے والوں کے لئے اسے فارسی میں شائع کیا جارہا ہے۔
مانند صبا خیز و وزیدن دگر آموز
دامان گل و لالہ کشیدن دگر آموز
اندر دلک غنچہ خزیدن دگر آموز
موئینہ بہ برکرو بی ذوق تپیدی
آنگونہ تپیدی کہ بجائی نرسیدی
در انجمن شوق تپیدن دگر آموز
(اٹھ اور بادِ صبا کی طرح پھر سے چلنا سیکھ، گلاب اور گُلِ لالہ کو کِھلانا سیکھ،کلی کے نازک دل کے اندر پھر اترنا سیکھ۔
تو نے گدڑی پہن لی اور بے ذوق تڑپنا شروع کر دیا ،اس طرح تڑپا کہ کہیں (بھی) نہ پہنچا شوق کی انجمن میں حقیقی تڑپ سیکھ کر تڑپ)
جس دن مسعود پزشکیان منتخب ہوئے تو قمر یعنی5جولائی کو چاند غروب تھا۔ نجوم اصطلاح میں اس عدم قمر دنوں اور راتوں کو ’’اماوس‘‘ کہا جاتا ہے۔ انسان کی زندگی پر سوج اور چاند (قمر) اور لیل و نہار یعنی ’’وقت‘‘ (العصر) اثر انداز ہوتا ہے اسی طرح فرمان نبویؐ کے مطابق انسان کا نام بھی اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی سبب آپؐ نے نام اچھے رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اس اعتبار سے ’’مسعود‘‘ نام پر پزشکیان کی سعادت مندی کی علامت ہے۔ وہ وقت پیدائش کے اعتبار سے ’’لبرا‘‘ شخصیت ہیں۔ پاکستان میں عمران خان ’’لبرا‘‘ شخصیت ہیں۔ چاند کے غروب ہونے کے سبب صدر مسعود کو شائد وہ قوت مکمل طور پر میسر نہیں ہوگی جو چاند کی طلوع شدہ حالت میں میسر آجاتی ہے لہٰذا طلوع عدم قمر کے سبب ان کی زندگی میں کچھ تشنگی رہے گی‘ کچھ کمزوری کشمکش کے دنوں میں محسوس ہوسکتی ہے۔ البتہ وہ جارحانہ استقامت اور مضبوط دفاعی موقف و کردار مخالفین کے سامنے اپنائیں گے۔واللہ اعلم بالصواب
مسعود پزشکیان کی متوقع صدارتی فتح کے بارے میں گزشتہ یکم جولائی کے کالم میں توقع لکھی تھی۔ الحمد للہ یہ امید اور توقع پوری ہوچکی ہے۔ مسعود پزشکیان ریفارمرز یعنی اصلاح پسند سیاسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سے شکست کھانے والے جناب خلیلی قدامت پسند سیاسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ شہید صدر ابراہیم رئیسی بھی قدامت پسند صدر تھے اور رہبر و مرشد جناب خامنہ ای کے پسندیدہ بھی تھے۔ جناب مسعود پزشکیان کی حمایت سابق صدر ڈاکٹر خاتمی‘ حسن روحانی‘ سابق وزیر خارجہ اور میرے محبوب شخص جواد ظریف نے بھی کی تھی جبکہ اندازہ ہے کہ جناب خلیلی کی حمایت قدامت پسند سیاست دانوں نے کی اور بھرپور کی تھی۔
جن دنوں ایک لڑکی ’’مہساامینی‘‘ لباس کے حوالے سے اخلاقی (مذہبی) پولیس کے تشدد سے مرگئی تھی شنید ہے کہ مسعود پزشکیان نے اس پولیس کو غیر اخلاقی پولیس کہہ دیا تھا‘ اس سے مسعودپزشکیان کی ’’فکری بلندی‘‘ اور عوامی حساس سوچ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مسعود پزشکیان مذہبی اور دینی شخصیت نہیں بلکہ طبی علوم میں مہارت رکھتے پروفیشنل انسان دوست ہیں۔ وہ عام ایرانی انسان کی نفسیات کے غماض اور نباض ہیں جبکہ دینی اور مذہی شخصیت جیسا ابراہیم رئیسی تھے یا جناب خلیلی ہیں عام آدمی کی نفسیات سے زیادہ اپنے دینی مسلک و مذہب فکر کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اس اعتبار سے مسعود پزشکیان قدامت پسند سیاست و افکار کے مدمقابل صدر حسن روحانی سے کہیں زیادہ موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ البتہ انہیں اپنے اس پرجوش انقلابی رویئے کے حوالے سے مذہبی‘ دینی‘ مسلکی مکتب فکر کی شخصیات سے کشمکش اور تصادم درپیش رہے گا۔ جس کا وہ مقابلہ کریں گے چونکہ عمران خان کی طرح اور آرمی چیف کی طرح کی نجوم شخصیت بھی ہیں لہٰذا وہ بہت مضبوط اعصابی اور بہت مضبوط نفسیاتی شخصیت ’’لبرا‘‘ ثابت ہوں گے۔ ’’لبرا‘‘ شخصیت ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر بھی مصروفیت رہ سکتی ہے اور ہر کسی کو یقین دلاسکتی ہے کہ وہ اسی سے مخلص و وفادار ہے لہٰذا عموماً ایسے افراد اپنی شخصیت اور جاذبیت میں مقناطیسی کشش بھی رکھتے ہیں اور کامیاب رہتے ہیں۔
ایرانی رہبر علی خامنہ صدر اور مرشد کے طور پر تقریباً34 سال سے مسند اقتدار پر ہیں۔ یہ اختیارات کا وہ خاکہ ہے جو کسی عرب بادشاہ سے بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ عرب بادشاہ دین‘ مسلک و مذہب کا نمائندہ و ترجمان نہیں ہوتا جبکہ رہبر علی خامنہ ای مسند ولایت فقہیہ اقتدار کے اعتبار سے سیاست و مذہب و مسلک کے ترجمان بھی ہیں‘ محافظ بھی ہیں‘ اس اعتبار سے مسعود پزشکیان کو مسند فقہیہ سے کچھ اختلاف ائے کے امکانات کے لئے تیار رہنا چاہیے جبکہ عربوں سے مزید دوستی کا کام بھی کرنا ہوگا خصوصاً سعودی عرب سے۔
سوال پیدا ہوتاہے کہ ایران میں دستوری طور پر صدر ہی مکمل بااختیار کیوں نہیں؟ آرمی کے جنرلز‘ پاسداران انقلاب کے جنرلز اور شائد ایٹمی معاملات صدر کی بجائے مرشد و رہبر کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایران مغربی جمہوریت والا ملک نہیں بلکہ وہ ایرانی کنٹرولڈ جمہوریت والا ملک ہے یعنی صرف وہ جمہوریت جو ولایت فقہیہ کے زیر اثر ہوسکتی ہے۔ اس اعتبار سے مجھے بہت سے دانشوروں کی طرف سے علی خامنہ ای کے لئے ’’ملاں شہنشاہ‘‘ کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں مگر میں جواب دیتا ہوں کہ ہر ا نقلاب کی اپنی حیثیت اور شناخت ہوتی ہے اور ایرانی انقلاب کی حیثیت اور شناخت یہی ’’کنٹرولڈ‘‘ رائے عامہ اور ’’کنٹرولڈ‘‘ جمہوریت ہے۔ میں ذاتی طور پر اس حیثیت کو قبول کرتا ہوں۔جناب خامنہ ای خود قدامت پسندہیں یا جزوی طور پر ریفارمر؟ میرے خیال میں ہر دو راستوں کو وہ کھلے دل سے بوقت ضرورت استعمال کرلیتے ہیں۔صدر مسعود پزشکیان صدارتی حلف شائد 30 جولائی کو اٹھاسکیں گے۔ یہ ’’طریق کار‘‘ امریکی صدر کی طرح کا ہے کہ منتخب ہونے کے بعد کئی ہفتوں تک نومنتخب صدر کو زیر تربیت رکھا جاتا ہے تاکہ وہ ریاست کی خاموش اور سیکورٹی معاملات کی تربیت حاصل کرلے۔ہم اصلاح کار نومنتخب صدر ایران کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ایران عوام نے قدامت پسندی کے خلا ف جو فیصلہ دیا ہے اسے بھی ’’خیر‘‘ کا راستہ تصور کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں