تفسیر فی ظلال القرآن کی دوسری جلد پڑھ چکا تو خیال آیا کہ اب کچھ ’’نیا‘‘ بھی پڑھنا چاہیے‘ اگرچہ کچھ کتب تو موجود تھی تاہم ایک دوست کی لائبریری میں ’’الرحیق المختوم‘‘ دیکھی تو ان سے مستعارلی تاکہ عید الاضحی کے موسم میں الرحیق المختوم کا مطالعہ کیا جائے۔ الحمد للہ ایام تشریق میں سیرۃ الرسول کے موضوع پر لکھی گئی یہ کتاب بہت دلچسپی سے پڑھ لی ہے۔ مولانا صفی الرحمان مبارک پوری کی یہ کاوش قلم و قرطاس ہے ۔ بہت مختصر ہونے کے باوجود سیرۃ الرسول سے متعلق ثقہ معلومات کا بیکران سمندر ہے۔ حافظ احمد شاکر اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں مگر مولانا صفی الرحمان مبارک پوری سے ان کی جو ملاقات مکہ مکرمہ میں ہوئی اس میں انہوں نے مصنف الرحیق المختوم (عربی میں) کے حوالے سے مقدمہ میں لکھا ہے کہ مولانا صفی الرحمان سے گزارش ہے کہ وہ اپنی عربی میں لکھی ہوئی اس وقیع کتاب کا اردو میں ترجمہ کر دیں چنانچہ مکہ مکرمہ میں ہونے والی احمد شاکر کی درخواست کو انہوں نے قبول کیا اور یوں اردو پڑھنے والے طبقہ کو ثقہ اور ٹھوس معلومات کابحر بیکراں پڑھنے کو میسر آیا جسے المکتبہ السلفیہ لاہور نے اپنے حسن اسلوب طباعت کے ساتھ کئی بار شائع کیا ہے۔ جزاھم اللہ اجمعین
مولانا صفی الرحمان مبارک پوری نے رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے سیرۃ الرسول پر کتب اور مقالہ جات کی ترغیب کے اعلان کے بعد بہت مختصر وقت میں یہ کتاب عربی میں تحریر فرمائی تھی مصنف نے خود لکھا ہے کہ جس جلد بازی میں وقت کی قلت کے باعث یہ کتاب تحریر کی اس سے انہیں توقع نہ تھی کہ یہ کتاب انعام کے لئے منتخب ہوگی اور جب انہیں رفقاء اور طلاب نے یہ بتایا کہ ان کی الرحیق المختوم رابطہ عالم اسلامی کے پہلے انعام کے لئے منتخب کرلی گئی ہے تو شروع میں وہ یقین کرنے سے قاصر تھے۔ مگر بعد ازاں انہیں یہ خبر رابطہ عالم اسلامی سے وابستہ شخصیات کی طرف سے فراہم ہوگئی۔
المکتبہ السلفیہ لاہور محض علوم اسلاف کی اشاعت کا تجارتی ناشر نہیں بلکہ علمی ‘ فکری‘ دینی علوم و معارف کی فدویانہ اشاعت و نشر کا بے لوث سلفی دینی مزاج کا ادارہ ہے۔ میرے استاد مولانا عطاء اللہ حنیف اس اشاعتی ادارہ کے بانی ہیں۔ اس ادارہ کی طرف سے ابو زہرہ کی کتب کا اردو ترجمہ پڑھ چکا ہوں۔ مولانا حنیف ندوی کی تفسیر قرآن کو بھی المکتبہ السلفیہ نے شائع کر رکھا ہے مگر شنید ہے کہ وہ بہت باریک الفاظ کے ساتھ اشاعت پذیر ہے جس کا پڑھنا اکثر طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ حافظ احمد شاکر کے لخت جگر حماد شاکر سے استدعا ہے کہ مستقبل میں مولانا حنیف ندوی کی تفسیر اسی طباعتی اسلوب‘ انداز‘ اور جمالیات کے ساتھ شائع کریں جیسا کہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن شائع شدہ ہے یا میاں محمد جمیل کی تفسیر فہم القرآن شائع شدہ ہے۔
الرحیق المختوم اردو ترجمہ میں 656 صفحات پر مشتمل ہے اور آخری تین صفحات کتب حوالہ جات کے لئے مختص ہیں۔60 ثقہ کتب سے مصنف الرحیق المختوم نے استفادہ کیا ہے۔ صفحہ27 سے 30 تک مصنف کی اپنی سرگزشت حیات ہے اور پھر زیر نظر کتاب کے بارے میں صفحہ31-32 پر اشارات ہیں۔ عرب کے محل و قوع کا مفصل بیان ہے۔ ابتدا ئے نبوت عہد کا عرب جیسا تھا اسے جغرافیائی انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ عرب حکومتوں اور سرداریوں کا تذکرہ ہے یہ صفحہ33 تا56 تک ہے۔ صفحہ57 سے 67 عرب ادیان و مذاہب کا تذکرہ ہے۔ جاہلی معاشرے کا جائزہ صفحہ68 سے74 تک ہے۔ صفحہ75 سے آگے خاندان نبوت کا مفصل تذکرہ ہے۔ ولادت باسعادت اور حیات طیبہ کے چالیس سال کا تذکر ہ صفحہ83 سے 95 تک اور نبوت و رسالت کی چھائوں میں صفحہ96 سے 103 تک ہے ۔ کتاب کا دوسرا مرحلہ صفحہ112 سے ہوتا ہے جو کھلی تبلیغ کی نام سے ہے۔ صفحہ139 میں قریش اور ابو طالب میں کشمکش کا بیان ہے اور پھر آپؐ کے قتل کی تجویز کا بیان ہے او ر پھر حمزہ ؓ و عمرؓ کے اسلام لانے کا بیان ہے۔ صفحہ157 سے مکمل بائیکاٹ کا بیان ہے اور ظلم و ستم کا بیان بھی۔ ابو طالب اور وفد قریش کے معاملات صفحہ162 پر مفصل بیان شدہ ہیں۔
عام الحزن … غم کا سال صفحہ165 ابو طالب اور خدیجہ الکبری کی وفات کی تفصیل اور اثرات ‘ صفحہ169 تا179 پر ابتدائی مسلمانوں کے صبرو ثبات اور اس کے اسباب کا بیان ہے۔ قبائل و افراد کے لئے دعوت اسلام صفحہ187 پر ہے۔ واقعہ معراج صفحہ197 سے آگے بیان شدہ ہے۔
پہلی بیعت عقبہ صفحہ205 اور دوسری بیعت عقبہ صفحہ210 سے آگے ہے۔ ہجرت کے ہر اول دستے کے بعد قریش کی پارلیمنٹ دارالندوہ کا بیان صفحہ223 سے آگے تک ہے۔ ہجرت نبویؐ کا مفصل تذکرہ صفحہ225 سے آگے تک ہے۔ ہجرت کے وقت مدینہ کے حالات کا جائزہ صفحہ244 سے252 تک ہے اور جغرافیائی انداز میں مدینہ بوقت ہجرت کیسا تھا اس کا مفصل نقشہ دیا گیا ہے۔ مدینہ میں نئے معاشرے کی تشکیل بہت عمدہ بحث ہے۔
کتاب میں طائف تبلیغ کے وقت کے مصائب کا تذکرہ آنسو رلاتا ہے۔میدان بدر میں فرشتوں کی آمد۔ فتح شدہ جنگ احد و حنین میں شکست اور اسباب شکست کا تذکرہ منفرد انداز میں ہے۔ جنگ احزاب اور جنگ تبوک کے اثرات کا بیان بہت مفید‘ علمی انداز کا ہے۔
کتاب کی خصوصی حیثیت یہ ہے کہ عربی ناموں کے صحیح تلفظ کو بیان کرنے کے لئے ان ناموں پر ’’اعراب‘‘ بھی لگا دیئے گئے ہیں تاکہ اردو دان طبقہ ان عربوں کے ناموں کے تلفظ کی ادائیگی درست طریقے سے کرسکے۔ الحمد للہ کتاب کا اختتام اس اطمینان کے ساتھ کرچکا ہوں کہ ایک نہایت ثقہ‘ وقیع اور صحت واقعات کا مطالعہ ہوا ہے۔ قارئین الرحیق المختوم کو عام سیرۃ الرسول پر لکھی ہوئی کتابوں سے انشاء اللہ منفرد پائیں گے‘ اہل ذوق کو مطالعہ کرنا چاہیے۔ المکتبہ السلفیہ کا اتنی عمدہ کتاب کی اشاعت پر ایک بار پھر شکریہ۔
اللہ تعالیٰ مصنف مولانا صفی الرحمان‘ ناشر حافظ احمد شاکر کو جزائے خیر سے نوازے اور جنت الفردوس میں مقام سے نوازے۔ آمین