Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

مشرق وسطیٰ استحکام میں سعودی تاریخی کردار

لبنان سے تمام سعودیوں کو واپس لوٹ آنے کا MBS کا فیصلہ اب نافذ ہے‘ لبنان اور بیروت جو دنیا میں محبوب ترین ملک اور شہر تھا ‘ جب لبنان ملک اور بیروت شہر میں سعودی حسن اخلاق کے سخاوت سیاست کے تعلقات تھے‘ تو لبنان پرامن ملک اور شہر تھا‘ عیسائیوں‘ مسلمانوں‘ شیعہ و سنی میں اگر اختلاف پیدا ہوا یا ڈیڈ لاک آیا تو یہ سعودی عرب کا گرمائی حجازی شہر طائف ہی تھا جہاں متحارب فکر کے فریق مدعو ہوئے اور ان میں سعودی میزبانی میں مفاہمت ہوئی۔
جہاں1979 ء میں سوویت یونین آف رشیاء افغانستان میں داخل ہوا وہاں ایران میں خمینی انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں بھی اثرات پیدا کئے۔ لبنان میں شیعہ ’’الامل‘‘ تنظیم بنی ‘ پھر حزب اللہ‘ ابتداء میں یہ مسلکی تنظیمیں اور ان کے عہدے دار بطور مسلک و مذہب عراقی اثنا عشروں کے ساتھ تھے‘ عراق میں مقتدیٰ الصدر اور الحکیم‘ یعنی نجف و کربلا‘ موثر کردار اگر رکھتے تھے تو عرب ہونے کے ناطے ان کا مشرق وسطیٰ کے سنی عربوں سے بھی تعلق موجود ہوتا تھا اور مقتدیٰ الصدر تو سعودی عرب کے بھی کافی زیادہ قریب تھا۔
حافظ الاسد کو سعودیہ نے برداشت کیا پھر بشار الاسد کو برداشت‘ یمن کے زیدیوں اور زیدی بادشاہت کو عزت ہمیشہ سعودی عرب سے ملی اور ریاستی امور کے لئے مطلوب مالی مدد بھی سعودی سے ملی تھی لہٰذا سعودی عرب آل سعود بادشاہت کے باعث سنی و شیعہ عربوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے وجہ کشش اور مرکز ثقل رہا تھا۔ جب تک یہ اثرات سعودی موجود رہے تب تک لبنان ‘ مشرق وسطیٰ بھی پرامن رہا ۔ اس کے بعد لبنان بھی مسلک و مذہب کے پس منظر میں اسلحہ کی بنیاد پر تفریق و گروہ بندی کا مرکز بن گیا۔ گویا ’’انقلاب‘‘ اگر لبنان کے ’’اجڑنے‘‘ کا سبب تھا تو سعودیہ لبنان کے پرامن رہنے کاعہد تھا۔ یہ عہد شاہ عبدالعزیز کا ہو‘ شاہ سعود کا ہو‘ شاہ فیصل کا ہو‘ شاہ خالد و شاہ فہد و شاہد عبد اللہ کا ہو۔ یہ سب عہد لبنان کے لئے ’’خیر‘‘ تھے ۔
جب لبنان بھی اجڑ گیا‘ بیروت بھی اجڑ گیا اور اسرائیل کے لئے لبنان پر حرص و لالچ آسان ہوگیا تھا‘ اب پھر اسرائیل و لبنان کشمکش سامنے آچکی ہے۔ یہ سب کچھ سعودیہ کے لبنانی معاملات سے مایوس ہوکر پیچھے ہٹنے کے سبب بھی ہوا ہے۔
بلاشبہ سعودیہ آل سعود اور امریکہ میں آرامکو کے سبب ’’پیٹرو ڈالر‘‘ معاہدہ موجود تھا۔ مدت50 سال تھی مگر جو ن میں یہ مدت معاہدہ ختم ہوگئی ہے‘MBS جیسے وژنری37 سالہ مدبررہنما و حکمران نے صدر جوبائیڈن کے امریکہ کو ’’پیٹرو ڈالر‘‘ معاہدہ میں توسیع نہ کرکے بہت نادر تحفہ دے دیا ہے۔ یہ جواب آں غزل ہے کہ اپنے صدارتی انتخابات میںMBS کو نشانہ عبرت بنانے کا بار بار اعلان کیا گیا تھا۔ امریکہ خواہ بش کا ہو‘ یا بش جونیئر کا ہو‘ اوبامہ کا ہو یا جوبائیڈن کا ہو۔ سی آئی اے والا امریکہ ہمیشہ عربوں کا کا غذی اتحادی رہا مگر عملاً عرب مخالف عجمی قوتوں کی ہمیشہ بھرپور مدد کی حتی کہ عجمی قوت امریکہ کی مکمل مدد سے مشرق وسطیٰ کا جنگی طور پر پراکیسز سیاست کے ہمراہ اسی طرح کی قوت بن گیا جیسا اسرائیل امریکہ و مغربی اسلحہ‘ مال و دولت‘ اسباب کے ذریعے سپر طاقت بنا ہوا ہے۔ مگر حماس نے محض حسن اتفاق سے 7 اکتوبر کو اسرائیل کی حیثیت ختم کر دی ہے۔ اب اسرائیل ناقابل تسخیر نہیں رہا جنگ رمضان میں مصر نے بھی یہی ثابت کیا تھا۔
سعودیہ کے لئے اور MBS کے لئے یہ سارے سال 2023-2024 ء بہت نازک ثابت ہوچکے ہیں جبکہ ایران سے چین کی مدد سے سعودیہ مفاہمت عملاً مشرق وسطیٰ سے امریکہ کو خارج کرنے کا پہلا سعودی اقدام تھا‘ پھر ’’پیٹرو ڈالر‘‘ معاہدہ کا خاتمہ دوسرا بڑا اقدام ہے۔ MBS نے اس سے پہلے روسی صدر کے ساتھ مل کر گیس و پٹرول و انرجی سیاست میں صدر جوبائیڈن کو بے وزن کر دیا تھا یہMBS اقدامات عملاً امریکہ کو اس عرب اور سعودی دشمنی کا جواب ہے جو امریکی صدر اوبامہ‘ بش اور جوبائیڈن کے ذریعے زیادتی کرتا رہا تھا۔ اس کے باوجودMBS نے عملی سیاست کے ماہر کھلاڑی کے طور پر امریکہ سے مذاکرات کا ہر دروازہ کھلا رکھا۔ اسرائیل اور صدر جوبائیڈن نےMBS اور سعودیہ کو استعمال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے تاہم سعودیہ اور MBS نے عقل مندی سے ‘ مسکراتے ہوئے امریکیوں سے رابطے بحال رکھنے کے باوجود استعمال ہونے سے سخت پرہیز کیا ہے۔ حماس‘ غزہ کے حوالے سے ‘ لبنان کے حوالے سے ‘ شام کے حوالے سے ‘ یمن کے حوالے سے ‘ حوثیوں کے حوالے سے بھی عقل مندی کا راستہ اپنایا ہوا ہے۔
موسم حج سعودیہ کے لئے ہر سال حالت جنگ لایا کرتا ہے اور سعودیہ نے ہمیشہ حجاج کی خدمت‘ ضروریات کے عمدہ انتظامات کیے ہیں۔ گرمی کی وجہ سے بدانتظامی کے سبب کچھ اموات بھی ہو جایا کرتی ہیں۔ اس سال گرمی کی شدت کے سبب کافی اموات ہوگئیں۔ الزام اکثر سعودی حکومت پر آیا۔ میں نے سوشل میڈیا پر آل سعود کی دشمنی میں نظریاتی مبتلا افراد کی زبان سے الزامات کی بوچھاڑ بھی سنی۔ مگر افسوس یہ آل سعود دشمنی بے بنیاد الزامات پر ہی مبنی تھی۔ اموات والے اکثر حجاج حج ویزہ پر مکہ مکرمہ نہیں تھے۔ گویا وہ سعودی نظام حج سے متصادم انتظامات کے ذریعے سعودیہ میں تھے۔ مثلاً وزٹ ویزہ‘ سیاحت وغیرہ جبکہ غیر قانونی حجاج کی اکثریت مصری تھی۔ لہٰذا سعودی حکومت کے خلاف الزامات محض تعصب و نفرت تھے جبکہ مصری حکومت نے غیر قانونی حج پر جانے کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے میں نئی صیہونی بستیوں کو آباد کرنے کی منظوری دے دی ہے تو سعودی عرب نے شدید الفاظ میں اس کی مذمت بھی کی ہے اور سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی ہے۔
سعودی عرب اور امارات کی کوششوں سے عرب لیگ نے حزب اللہ کو دہشت گردی کی فہرست سے باہر نکال دیا ہے گویا جس طرح بشارالاسد کو عرب لیگ میں شامل کرلیا گیا تھا اس طرح عرب لیگ نے حزب اللہ کو دہشت گردی کی فہرست سے نکال کر اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے۔ یاد رہے کہ عرب لیگ کا قیام فلسطین کے سبب ہی ظہور میں آیا تھا مگر عرب لیگ فلسطین کے حوالے سے اپنے مقاصد میں ناکام رہی تھی۔ سعودی عرب اور امارات کا حزب اللہ کے حوالے سے عرب لیگ میں تازہ اقدام انشاء اللہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کا راستہ بنے گا اور ایران و سعودی عرب کو مزید قریب لائے گا‘ بحر احمر سیاست میں بھی استحکام آئے گا یہ سب کچھMBS اورMBZ کے سبب ظہور میں آیا ہے جس میں قطر اور دیگر خلیجی ریاستیں شامل ہیں۔
ایم بی ایس کامتوقع دورہ ایران بھی مشرق وسطیٰ میں استحکام سنگ میل ثابت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں