پاکستان میں سپریم کورٹ اور جرنیلوں کا اقتدار کے حوالے سے کردار ہرگز قابل رشک نہیں ہے۔ جسٹس منیر کے معاملات سامنے ہیں۔ ہاں آج کل جسٹس اطہر من اللہ کے الیکشن کمیشن کے حوالے سے 29جون کو جاری کردہ نوٹ نے ہلچل پیدا کر دی ہے ۔ اگرچہ جولائی، اگست خاکی اسٹیبلشمنٹ کے ’’موسم قوت‘‘ ہیں مگر عزم استحکام کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ یہ صرف سیاسی حکومت کا کارنامہ ’’اکیلے‘‘ کا نہیں تھا بلکہ اس ’’گناہ‘‘ میں اس وقت کی خاکی اسٹیبلشمنٹ کی ’’ناصحانہ قوت‘‘ بھی شامل تھی مگر دوسری طرف مولانا کیا کر رہے ہیں؟ ویسے ہمارے اشرافیہ سیاست دانوں کی مال دولت پر مبنی سیاست و اقتدار سے مولانا حضرات اور درس نظامی کے اکثر فاضلین‘‘ کی سیاسی صلاحیتیں کہیں زیادہ عملاً کامیاب رہی ہیں۔ یقین نہ آئے تو مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی محمود اور اب مولانا فضل الرحمان کے انداز سیاست کو لے لیں مگر یہ سب جو لکھا ہے اصل کام نہیں ہے بلکہ یہ راستے کے جملے ہیں ۔
ایران کے صدر کے حوالے سے وجدان کہہ رہا تھا کہ قدامت پسند امیدوار کئی ہیں لہٰذا ان کے ووٹ تقسیم ہوں گے۔ دو امیدوار تو دست بردار ہوگئے۔ مگر تین قدامت پسند امیدواروں میں قدامت پسند ایرانیوں کے ووٹ تقسیم ہوئے ہیں۔ دوسرا رائونڈ چند دن بعد دوبارہ ہوگا بظاہر ریفارمرز کے جیتنے کے امکانات زیادہ اب پیدا ہو رہے ہیں، پہلے بھی مجھے تو ریفارمرز ہی کی جیت کی توقع تھی، لہٰذا مسعود جو ریفارمرز کا واحد امیدوار صدارت تھا اسی نے زیادہ ووٹ لئے ہیں۔ اب بھی انہی کے صدر منتخب ہونے کے چانسز زیادہ ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
کچھ مغربی دانشور سمجھتے ہیں کہ مجتبیٰ چونکہ اگلا رہبر و مرشد خود بننا چاہتا ہے لہٰذا اس نے پوری کوشش کی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا کوئی بھی صدارتی امیدوار متبادل نہ بن سکے کیونکہ وہ خود اگلا ’’رہبر‘‘ بننا چاہتا ہے مگر خاکسار کی نظر میں یہ خواہش تو موجود ہوسکتی ہے مجتبیٰ کی کہ وہ اگلا ایرانی رہبر اور ولایت فقیہہ منصب پر براجمان نظر آئے مگر عملاً ایسا ہو نہیں سکتا کیونکہ خمینی کے بعد اب ’’روایت ‘‘ یہ بنی ہوئی ہے کہ سابق صدر ولایت فقیہہ منصب پر براجمان ہوتا ہے۔ اس روایت کو برقرار رکھنا پڑے گا۔
خامنہ ای اتنا ہی طویل عرصہ رہبر کے طور پر گزار چکے ہیں جتنا عرصہ کوئی بادشاہ گزارا کرتا ہے یا خاکی آمر گزارا کرتا ہے اقتدار میں، لہٰذا مجتبیٰ کی بجائے جب بھی اللہ تعالیٰ نے آیت اللہ خامنہ ای کا منصب خالی کیا کم از کم مجبتیٰ تو سامنے نہیںآسکے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ قدامت پسندوں میں سے، گارڈین کونسل میں سے ؟ کس کو اس منصب کے لئے سامنے لایا جائے گا؟ یہ وقت آنے پر پتہ چلے گا۔ ایک مسئلہ ایک اور پیدا ہوگا کہ قدامت پسند اور ریفارمرز میں بھی منصب ولایت فقیہہ پر نئی تعیناتی کے حوالے سے سخت کشمکش پیدا ہوگی۔ لیکن جو انقلاب کی آنکھ کامیابیاں علی خامنہ ای کے حوالے سے دیکھ چکی ہے وہ شائد نئے ولایت فقیہہ منصب دار کے لئے زیادہ آسان نہ ہوگا۔ ایران نے حماس کو جس جہادی راستے پر گامزن کیا تھا اور اب حزب اللہ اور اسرائیل میں جو نئی جنگی کیفیت پیدا ہو رہی ہے، یہ سب کچھ ایران کو اسرائیل و حماس جنگ یا حزب اللہ و اسرائیل جنگ سے الگ تھلگ نہ رکھ سکے گا۔ ابراہیم رئیسی یا دوسرے لفظوں میں خامنہ ای اس اعتبار سے بہت خوش قسمت رہے تھے کہ تمام تر جنگی جنون، جوش، جذبہ پیدا کرنے کے باوجود انہوں نے ایران کو جنگ سے عملاً الگ کر رکھا ہے۔یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
ایرانی سفیر رضا مقدم نے تازہ بیان میں امریکی قرارداد کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ وہ ہر لمحے کو استعمال کرنے کا فن بہت خوب سمجھتے ہیں اور اسے بہت بروقت استعمال بھی کرتے ہیں۔ امریکہ کے حوالے سے ایرانی رہبر اکثر کامیاب و کامران رہے ہیں جبکہ گزشتہ چالیس سالوں میں پاک امریکہ تعلقات میںمدوجذر رہا ہے اور اب ’’امریکی قرارداد‘‘ نازل ہوچکی ہے یہ کس کی ناکامی ہے؟
پاکستان میں جو بھی عدم استحکام (سیاسی) ہے ذرا اس کو اسکندر مرزا کے ساتھ ملا لیں تو سمجھ آجائے گی کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کیوں طلوع نہیں ہوتا۔ اگر اسکندر مرزا کے ساتھ جنرل قمر جاوید باوجوہ کو ملا لیں تو مزید سمجھ آسانی سے آجائے گی کہ پاکستان میں ملکی سیاسی استحکام کیوں موجود نہیں ہوتا؟ دوسری طرف ان کی پیدا کردہ سیاسی قیادت کو بھی دیکھ لیں۔ اسکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کو ایکسٹنشن دلوائی، بعد میں پھر خود صدر بنے ،غلام محمد کو، جبکہ وہ ذہنی طور پر مفلوج تھے گورنر جنرل بنوایا، ایوب خان کے ساتھ مل کر وزیراعظم نون کے خلاف بار بار سازشیں کیں، غلام محمد کے ساتھ مل کر اسمبلی، اراکین اسمبلی، وزرائے اعظم کے ساتھ سازشی کھیل کھیلے۔
کیا یہی کچھ جو اسکندر مرزا سے شروع ہوا، اکثر خاکی اسٹیبلشمنٹ نہیں کرتی رہی؟ کسی بھی معقول سیاستدان کو ٹکنے ہی نہیں دیا جاتا تھا، اور اوپر سے نئے قائد ایوان یہی خاکی حضرات خودبناتے رہے ہیں۔ حالیہ بحران میں ہی دیکھ لیں۔ الطاف حسین کو کون لائے تھے؟ ایوب خان کو کون لائے تھے؟ بھٹو کو کون لائے تھے؟ نواز شریف کو کون لائے تھے؟ شہباز کو دوبار کون لائے تھے؟
ایران اس اعتبار سے بہت اچھا ہے کہ نہ وہاں سپریم کورٹ جج حضرات کوئی انقلاب برپا کر سکتے ہیں نہ ہی پاسداران انقلاب یا آرمی کے جنرلز، پاکستان اس اعتبار سے ایران سے بہت پیچھے کھڑا ہے۔ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کے الفاظ لکھنے ’’سے‘‘ نہ اسلام آسکا نہ جمہوریت آسکی۔ ہاں عدم استحکام ضرور آتا رہا ہے اور بار بار آتا رہا ہے اس اعتبار سے علی خامنہ ای بہت بہتر ہیں کہ انہوں نے ہر حیلہ و بہانہ استعمال کرلیا مگر عدم استحکام نہیں آنے دیا نہ ہی ان کو عزم استحکام کی اب تک ضرورت پڑی ہے، یہ ہم ہی ہیں جو 70سال سے ڈبکیاں کھا رہے ہیں، غوطے کھا رہے ہیں۔