Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

مطالعہ ارمغان پروفیسر سید ابوبکر غزنوی

بہت عرصے بعد ایک اردو سوانح عمری ایسی پڑھنے کو ملی ہے جو دیدہ زیب ہے‘ جس میں طباعتی حسن بھی موجود ہے‘ جسے ایک شخص کی بجائے پورے خاندان کے حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ پورے عہد کا مطالعہ بھی میسر ہے۔ یہ کتاب ہے ’’ارمغان پروفیسر سید ابوبکر غزنوی‘‘ یہ تدوین دو ایسے فاضل حضرات کی ہے جو دونوں ہی اسلامیہ یونیورسٹی مدینہ منورہ کے فارغ التحصیل ہیں اور یہ فاضلین ہیں-1 قراء کے استاذ‘ الشیخ المقری‘ اویس ادریس العاصم اور -2 سید کلیم حسین شاہ بخاری۔ اس بہت عمدہ خاندانی سوانح عمری کو شائع کیا ہے لاہور سے ’’العاصم اسلامک بکس‘‘ نے۔ اس کتاب کی تختی آج کل کی عمومی کتابوں سے زیادہ بڑی ہے او ر خاص بات یہ کہ پروف کی غلطیاں ہرگز موجود نہیں ہیں جس سے مئولفین کی علمی وجاہت جھلکتی ہے۔
’’ارمغان‘‘ کے لفظ کو علامہ اقبال نے ’’ارمغان حجاز‘‘ نامی کتاب میں استعمال کیا تھا جبکہ ’’ارمغان‘‘ کا لفظی ترجمہ ہے۔ تحفہ‘ ہدیہ‘ سوغات‘‘
کتاب کی تدوین و ترتیب اور نظرثانی میں قاری اویس کی کاوش زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ کتاب604 صفحات پر مشتمل ہے۔ چونکہ یہ کتاب تصنیف نہیں بلکہ تالیف ہے لہٰذا اہل علم کی طرف سے نادر معلومات‘ مضامین‘ آراء کو نثری اور منظوم شکل میں جمع کیا گیا ہے۔ مثلاً شجرہ نسب خاندان غزنویہ‘ حرف آغاز ‘ تقدیم‘ تقریظ‘ خدمات غزنوی خاندان‘ تعارف خاندان غزنویہ‘ دارالعلوم تقویۃ الاسلام امرت سر‘ سید عبد اللہ غزنوی جو کہ عارف باللہ غزنوی کی افغانستان میں شہرت رکھتے تھے‘ عبدالجبار غزنوی‘ باب چہارم مولانا سید محمد دائود غزنوی‘ ان کے سیاسی و فکری کردار کا تعارف باب پنجم مولانا پروفیسر سید ابوبکر غزنوی ‘ شخصیت و کردار‘ باب پنجم میں بیگم پروفیسر ابوبکر کی اہلیہ کی ایک تحریر ہے جبکہ لخت جگر سید جنید غزنوی سے بات چیت ہے۔ خاندان غزنویہ اور سید ابوبکر غزنوی پر نامور مصنف‘ عالم‘ صحافی مولانا اسحاق بھٹی کی مسبوط تحریر ہے۔ اس مضمون میں کتاب کے صفحہ48 پر دلچسپ واقعہ مولانا صوفی عبد الحق غزنوی کے بارے میں ہے کہ ان کے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے درمیان دعاوی‘ اشتہارات‘ بیانات کا طویل سلسلہ چلتا رہا تاآنکہ ان میں امرت سر کی مقامی عیدگاہ میں مباہلہ ہونا طے پایا اور عملاً یہ مباہلہ10 ذی قعدہ1310 ہجری (25 مئی 1893 ء) کے دن وقوع پذیر ہوا۔ اسی مباہلے کے نتیجے میں مرزا غلام احمد قادیانی26مئی1908 ء (25ربیع الثانی1326ء) کو لاہور کی احمدیہ بلڈنگ میں ہیضے کی بیماری سے مباہلہ کرنے والے مدمقابل صوفی عبدالحق غزنوی کی زندگی میں ہی بیت الخلاء میں مرگیا اور جب مرزا کی لاش کو لاہور ریلوے اسٹیشن کی طرف لایا جارہا تھا تاکہ قادیان روانہ کیا جاسکے تو اس پر اینٹ ‘ پتھر ‘ گندگی‘ غلاظت کی بارش ہوئی تھی اس کے برعکس مولانا صوفی عبدالحق غزنوی مرزا قادیانی کی موت کے بعد پورے 9 برس تک زندہ رہے جبکہ ان کی وفات23 رجب1335 (12 مئی1917 ء) کو امرت سر میں ہوئی تھی۔
’’ارمغان‘‘ پروفیسر ابوبکر غزنوی میں میرے دو مضامین بھی شامل ہیں۔ پہلا مضمون معلوماتی و تاثراتی ہے جو کہ میرے پروفیسر‘ ڈاکٹر اسحاق قریشی صدر شعبہ عربی گورنمنٹ کالج (اب یونیورسٹی) فیصل آباد کے حوالے سے ہے۔ اس میں کافی معلومات میں نے جمع کر دی ہیں جو پروفیسر اسحاق قریشی مرحوم جیسے شاگرد غزنوی سے مجھے ملی تھیں‘ میرا یہ مضمون ’’آئینہ شخصیت ابوبکر غزنوی‘‘ کتاب کے صفحہ304 سے 310 تک ہے۔
یہ مضمون میرے عہد شباب کا ہے اور اس زمانے میں میری تحریروں میں میرا نام محی الدین احمد فیروز پوری چھپتا تھا‘ ’’احمد‘‘ میرے والد احمد دین کی طرف نسبت اور فیروز پور چونکہ میرے آباء و اجداد فیروز پور سے ہجرت کرکے فیصل آباد ضلع میں آکر آباد ہوئے۔ یہ مضمون الاسلام میں بھی شائع شدہ ہے جو بشیر احمد انصاری کا ہفتہ روزہ تھا جبکہ دوسرا مضمون میرا اوصاف میں شائع شدہ ہے جو خاصا طویل ہے۔ ’’اسلامی معیشت میں گردش دولت کے قرآنی اسلوب‘‘ یہ کتاب کے صفحہ581 پر ہے۔
مئولفین نے مضامین کو جمع کرنے میں بہت زیادہ محنت کی ہے اور مولانا اہل قلم کے غزنوی خاندان سے متعلق رشحات قلم کو یکجا کرکے شائع کیا ہے اور یہ بہت بڑی خدمت ہے علم کی ‘ تصوف کی ‘ کتاب و سنت سے وابستہ علماء و فضلاء کی بھی۔
’’ارمغان پروفیسر سید ابوبکر غزنوی‘‘ کا ایک اہم ترین مضمون صفحہ67 سے صفحہ174 تک محیط ہے۔ اس مضمون میں پروفیسر محمد سلیمان اظہر نے ’’تحریک ختم نبوت میں غزنوی علماء کا کردار‘‘ پیش کیا ہے جس میں سید محمد عبد اللہ غزنوی کے حوالے سے ایک احمدی افتراء کا ابطال پیش کیا ہے جبکہ مولانا‘ صوفی‘ درویش‘ عبد الحق غزنوی کے مباہلہ کی مکمل تفصیل بھی دی ہے جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا سید نذیر حسین محدث دہلوی کو بار بار مباہلے کے لئے مخاطب کرنا جبکہ مولوی محمد حسین بٹالوی‘ مولانا صوفی عبد الحق غزنوی اور مولانا ثناء اللہ امرت سری کا قادیانی مخالف کردار بھی تفصیل سے زینت مضمون بنایا ہے۔ آج کل سپریم کورٹ کے مبارک قادیانی نظرثانی مقدمے کے حوالے سے احمدیت‘ مرزائیت‘ قادیانیت کا موضوع پھر سے زندہ ہوگیا ہے۔ اس حساس وقت میں پروفیسر محمد سلیمان اظہر کا مضمون بھی بہت قابل ذکر سامان مطالعہ ہے‘ جس میں غزنوی علماء کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
مجھے افکار شاہ ولی اللہ سے خاصی د لچسپی رہی ہے۔ تصوف فائونڈیشن سمن آباد لاہور کی طرف سے شاہ ولی اللہ کے کچھ رسائل و کتاب کا ترجمہ سید محمد فاروق القادری ایم اے مرحوم نے کیا تھا۔ میںنے ان کی یہ کتب پڑھ رکھی ہیں۔ ان سے کئی بار میری ٹیلی فون پر بات ہوئی وہ ایک درگاہ کے گد ی نشین ہیں رحیم یار خان میں۔ وہ پروفیسر ابوبکر غزنوی کے ایم اے عربی میں شاگرد تھے۔ یہ بات انہوں نے مجھ سے خود کہی تھی اور یہ بھی کہ انہوں نے (سید محمد فاروق قادری) نے سید ابوبکر غزنوی سے نہ صرف عربی زبان و ادب پڑھا بلکہ تصوف و طریقت کی بھی تعلیم پائی تھی۔ وہ پروفیسر ابوبکر غزنوی کی عرب دانی پر جہاں اعتراف کررہے تھے وہاں ان کے تصوف و طریقت کے حوالے سے استاذانہ رویئے کا بہت مداح کے طور پر ذکر کر رہے تھے۔ یاد رہے سید محمد فاروق بریلوی سنی تھے اور شاہ ولی اللہ کو اسی انداز میں اپنی کتب میں متعارف بھی کراتے تھے جس سے فکر ولی اللھی کے ادارہ رحیمیہ کے مفتی عبد الخالق آزاد دو ٹوک انکار کرتے تھے بلکہ ہنس بھی دیتے تھے کہ کیسا سطحی سا انداز ہے شاہ ولی اللہ کے حوالے سے۔ جنہیں تصوف سے عقیدہ ہے وہ بھی ارمغان پروفیسر ابوبکر غزنوی کا ضرور مطالعہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں