31 جولائی کی صبح اخبارات میں نومنتخب ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے حماس کے راہنما اسمعیل ہنیہ کی ملاقات اور بات چیت کی خبر پڑھ رہا تھا کہ ایک مخلص دوست نے فون کیا کہ ایران میں اسمعیل ہنیہ کو قتل کر دیا گیا ہے شائد ان کے دو محافظوں کو بھی۔ ایرانی صدر نے 30 جولائی کو صدارتی حلف لیا‘ بیرون ممالک سے مہمانوں کی کچھ آمد بھی رہی۔ صدر مسعود پزشکیان کا حلف کے بعد کا یہ بیان کہ وہ خطے کے معاشی معاملات‘ امن و سلامتی کے لئے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بنائیں گے۔ میں کل سے ان کا یہ عہد پڑھ کر بہت مسرور تھا کہ چلو اب ایران اپنے عرب پڑوسیوں سے بھی زیادہ بہتر تعلقات کی طرف رواں دواں ہوگا۔ مگر اسمعیل ہنیہ کا قتل ہو جانا اور وہ بھی ایران میں جبکہ وہ ایرانی ریاست اور حکومت کے مہمان تھے۔
بہت سے سوالات سامنے آرہے ہیں؟ کیا یہ قتل اسرائیل نے کرایا ہے ؟ یا یہ ایران کے اندر کی سنجیدہ موجود کشمکش کا اظہار ہوا ہے؟ مگر اس سوال کو مسترد کرتا ہوں کہ مسعود پزشکیان کی صدارت ابراہیم رئیسی کی شہادت سے پیدا شدہ ہمدردی کے باوجود بھی مکمل ہوئی تھی۔ مذہبی سیاست کی قدامت پسندی کو ریفارمرز کے ہمراہ کھڑے ہوکر ایرانی عوام نے شکست دی تھی۔ لہٰذا یہ سوال کہ ایرانی عوام اپنے صدر کو کمزور ہوتا کبھی نہیں دیکھ سکتے اہم ہے۔
اسمعیل ہنیہ کا قتل یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ایرانی سرزین پر دشمن اغیار کی گرفت موجود ہے اور اغیاری دشمن ایران کے اندر جو کچھ بھی چاہیں کراسکتے ہیں۔ حیرت اور تعجب ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کا عراق میں قتل ہو جانا اور اسمعیل ہنیہ کا ایران میں قتل ہو جانا یکساں کچھ پہلو سامنے لاتا ہے۔ وہ یہ کہ ایران کی اسٹیبلشمنٹ یعنی پاسداران کی قوت نے عربوں کو تو تہہ تیغ کر دیا امریکی مدد کے ہمراہ مگر اس اسٹیبلشمنٹ میں یعنی پاسداران میں اپنی بھی کچھ کشمکش موجود ہے؟ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل ایرانی عسکری اسٹیبلشمنٹ کے اندر کی کشمکش اور مقابلہ بازی کا اظہار بھی تھا۔ کیا جنرل قاسم سلیمانی کے وجو د سے خود ایرانی کچھ اطراف خوفزدہ تھے کہ وہ اگر موجود رہا تو اقتدار پر کامل قبضہ کرسکتا ہے۔ مگر اسمعیل ہنیہ کا معاملہ اس اعتبار سے منفرد ہے کہ وہ فلسطینی حما س کا سیاسی چہرہ تھا‘ غزہ جنگ میں اس کاکردار واضح تھا۔ وہ سیاست اور عسکریت کا اجتماع تھا جبکہ جنرل سلیمانی بھی ایرانی سیاست اور عسکریت کا اجتماع ہی تھا۔ جبکہ اسمعیل ہنیہ کا قتل کیا حال ہی میں چین کی مدد سے فلسطینی دھڑوں میں اتحاد کی کوششوں کو ناکام بنانے کا عمل تو نہیں؟ چونکہ ماسکو اور بیجنگ نے ہمیشہ فلسطینیوں میں جہاں اتحاد کی کوششیں کیں وہاں د و ریاستی حل بھی مسئلے کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ ہنیہ قتل حماس کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔
اس اعتبار سے ماسکو بیجنگ‘ ریاض‘ دوحہ‘ ابوظہبی کی فلسطین پالیسی کے ساتھ کھڑا ہوا ہے‘ بادی النظر میں چین کے فلسطین مسئلہ میں‘ مشرق وسطیٰ میں اہم کھلاڑی بننے‘ ایرانی اور سعودی عرب میں مصالحت کراچکنے کے بعد نہ صرف امریکہ و مغرب کے مدمقابل ہے جبکہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک بالخصوص امارات چینی بلاک کے اب اہم رکن ہیں۔ اس پہلو کو ضرور سامنے رکھا جائے کہ چین کو ناکام بنانے کے لئے ہنیہ قتل کون کراسکتا ہے؟
صدر مسعود پزشکیان کے لئے ذاتی طور پر یہ بہت بڑا صدمہ ہے کہ ان کے حلف کے ساتھ ہی ایران کا بڑا اتحادی خود ہی ایران میں قتل کر دیا گیا ہے۔ کیا یہ قتل صدر پزشکیان کے اس عہد کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بنے گا کہ ایران معاشی استحکام اور پڑوسیوں سے امن و سلامتی کو اب زیادہ توجہ دے گا۔ یاد رہے کہ حزب اللہ ‘ لبنان اور اسرائیل کے ساتھ گولان کی پہاڑیوں پر چند دن پہلے کا حملہ کافی کچھ سمجھا رہا ہے۔ اسرائیل ڈوب رہا ہے‘ بشار الاسد سعودی عرب اور عرب لیگ کے ساتھ کھڑا ہوکر مضبوط ہوگیا ہے جبکہ صدر طیب اردوان کی ذاتی سیکورٹی اہم ہونی چاہیے۔
ہمارے نائب وزیراعظم‘ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ایران صدر کی تصویر شائع ہوئی ہے اس میں سابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی شائد موجود ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران میں ریفارمرز کی قوت کو ناکام بنانا بھی کچھ اطراف کا ہدف ہوسکتا ہے۔ کیا اب فلسطین کے حوالے سے ایرانی کردار کمزور ہو جائے گا؟
سعودی ولی عہدMBS نے ایران جانا ہے لیکن اسمعیل ہنیہ کے ایران میں قتل کے سبب یقیناMBS کی ایران میں حفاظت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ یوں ایران کی مشکلات میں بالعموم اور صدر پزشکیان کی ذاتی مشکلات میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ ’’سعودی شہریت‘‘ کالم میں ‘ میں نے اپنے وجدان کی بنیاد پر لکھا تھا کہ اگلا موسم ایرانی بڑی مشکلات کا ہے اور افسوس کہ یہ نیا موسم مشکلات شروع ہوچکا ہے۔
ہنیہ قتل کے بعد خلیجی شیوخ اور MBS کی ذاتی سیکورٹی بھی اہم مسئلہ بن رہے گی چونکہMBS ‘ چین‘ روس کے ہمراہ دوریاستی حل پر گامزن ہیں اور ان کی یہ سیاست شائد انتہا پسندی کو شدید ناپسند رہی ہے۔ آئندہ بھی رہے گی‘ اندیشہ ہے کہ MBS اب تہران نہیں جاسکیں گے۔ نومبر‘ دسمبر تک مشرق وسطیٰ میں کافی گڑبڑ دیکھ رہا ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب