اس تحریر کو لکھنے سے پہلے خاکسار نے کئی اصحاب علم سے معاملہ فہمی اور دینی تفہیم حاصل کی ہے‘ ان کی مکمل تائید وحاصل ہونے کے بعد یہ تحریر پورے اطمینان قلب کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ زیر بحث معاملہ ہے مسجد نبوی سے متصل جو بھی زمین ہے ‘ کیا اس کا استعمال جائز ہے؟ اس زمین پر جو مشرق میں ہے یا مغرب و شمال و جنوب میں کیا اس پر سواری لائی جاسکتی ہے؟ سواری کو روک کر کھڑا کیا جاسکتا ہے؟ اسی طرح بیت اللہ میں ضعیف حجاج اور عمرہ کرنے والے حضرات و خواتین ‘ الیکٹرک طواف گاڑیوں کا استعمال بھی کرسکتے ہیں‘ جس طرح معذور اور حجاج و معتمرین مددگاروں کی مدد سے ریڑھیوں‘ کرسیوں کا استعمال کرتے رہے ہیں؟
اس مسئلہ پر غور کرنے اور لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ مجھے کئی اطراف سے ایسے پیغامات ملے ہیں کہ مسجد نبوی کی موجودہ سعودی حکومت (MBS ۔ شاہ سلمان کی حکومت) نے توہین کر دی ہے اس کا احترام پائمال کر دیا ہے کہ باب السلام کے سامنے سے جنت البقیع تک بھی اور امام مسجد نبوی کی دیوار سے لے کر د وسری طرف کی جو اوپن ایئر کھلی‘ میدان نما‘ کھلے صحن نما جگہ سرزمین ہے اس الیکٹرک گاڑیوں کے لانے ‘ انہیں سامان کے لئے یا بزرگ و خواتین و حضرات کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے اور ایسا کرنے سے مسجد نبوی کی توہین کی جارہی ہے۔ اس لئے اصحاب علم سے مشاورت اور تفہیم کے بعد خدمت دین‘ خدمت حرمین شریفین کی توضیح و تفہیم کے لئے حسن نیت سے قلم اٹھایا ہے۔
الحمد للہ میں نے پہلا عمرہ اور اگلے سال پہلا حج اس وقت کیا تھا جب میں ایف جی کالج نمبر1 اسلام آباد میں لیکچرار تھا‘ تب مسجد نبوی کی موجودہ توسیع نہ ہوئی تھی جبکہ مسجد نبوی مختصر تھی اور اس کے ارد گرد رہائش گاہیں ‘ ہوٹل‘ دکانیں تھیں۔ پھر شاہ فہد نے 1987 ء کے ارد گرد مسجد نبوی کی توسیع کی طرف توجہ دی‘ عام مالکان مکانات و دکانات سے زمین خریدی گئی اور جو بازار یا سڑک بھی اس توسیع میں آئی وہ بھی شامل توسیع ہوگئی تھی۔ لہٰذا مسجد نبوی کے ارد گرد اب جو بھی کھلی ‘ اوپن ایئر ‘ زمین ‘ صحن ہے وہ باضابطہ طور پر مسجد نبوی کا حصہ نہیں ہے۔ عام حجاج‘ عمرہ کرنے والے یا نمازی جوتے پہن کر ان صحنوں‘ اوپن ایئر زمینوں سے گزر کر مسجد نبوی میں آتے ہیں او ر اپنے جوتے ہر دروازے سے متصل جگہ پر اتار کر رکھتے ہیں۔ گویا نمازی بھی ‘ حکومت سعودیہ کی طرح ان کھلی زمینوں ‘ صحنوں کو مسجد نبوی کا باضابطہ حصہ نہیں سمجھتے‘ اگر ایسا ہے اور ایسا ہی عملاً ہے بھی ‘ تو حکومت سعودیہ نے سامان کی نقل و حمل کے لئے حجاج و عمرہ کرنے والے ‘ نمازیوں کے گاڑیوں پر آنے اور گاڑی‘ سواری کو یہاں روک کر کچھ مدت تک پارک کرنے کی اجازت دے دی ہے تو اہل علم کے مطابق ہرگز یہ غیر شرعی کام نہیں ہوا۔ بشرطیکہ جس طرح نجاست سے پاک جوتے میں نماز تک پڑھنا جائز ہے‘ اسی طرح اگر سواری ‘ گاڑی کے ٹائر یا اندرونی و بیرونی حصہ نجاست سے پاک و صا ف ہے تو ان سواریوں کا خواہ وہ اونٹ ہو ‘ گھوڑا ہو‘ خچر ہو ‘ گدھا ہو یا موٹرکار ہو سب کا داخلہ مسجد نبوی کے دروازہ کے باہر تک آنا جائز ہے۔
ترک عثمانی خلافت کے عہد میں تو مسجد نبوی کے متصل عملاً سڑکیں عام گزر گاہیں تھیں جن کا استعمال ہوتا تھا۔ ترک عہد کی مسجد نبوی کی قدیمی تصاویر میں یہ سب کچھ تاریخ پر دیکھا جاسکتا ہے۔
میرے ایک واقف کار حج کے ساتھ کئی سال سے وابستہ ہیں۔ وہ پرائیویٹ (حکومت کی اجازت سے) حجاج کے قافلے لے کر حرمین شریفین جاتے ہیں۔ ان سے میں نے مسئلے کی تفہیم حاصل کی تو ان کا کہنا ہے کہ عام مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ مکمل دینی علم سے عموماً بہرہ ور نہیں ہوتے‘ مگر حرمین شریفین کے احترام و تقدس کے حوالے سے ان کا اپنا ذہنی یا خود ساختہ‘ مزعومہ معیار ہوتاہے جب وہ اس کے خلا ف کچھ ہوتا ہوا دیکھتے ہیں تو وہ سعودی حکومت کے خلاف باتیں کرکے اپنے دل کاغصہ اور بھڑاس نکالتے ہیں جبکہ فی نفسہ مسئلہ حرام و حلال کا نہیں ہوتا‘ محض احترام و تقدس کا ہوتا ہے ۔ لیکن اگر وہ لوگ خود مکمل دینی ‘ شرعی علم نہیں رکھتے تو اس میں سعودی حکومت پر اعتراض کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا بحث کے ساتھ میں حسن نیت سے لکھنے میں آسانی محسوس کررہا ہوں کہ شاہ سلمان‘MBS ‘ سعودی حکومت یا آل سعود کی موجودہ حکومت نے مسجد نبوی کے ارد گرد موجود زمینوں‘ صحنوں‘ پارکنگ اوپن ائیر جگہوں پر اگر نقل اشیاء کے لئے ‘ نقل حجاج‘ معتمرین کے لئے‘ اشیاء کی آسان نقل و حمل کے لئے ‘ پلوشن اور نجات سے پاک الیکٹرک گاڑیوں کا داخلہ دے دیا ہے تو ہرگز کوئی غیر شرعی کام نہیں کیا بلکہ شریعت کے مطابق ایسا ہونا قابل مذمت نہیں ہے اور جائز ہے۔
اسی طرح بیت اللہ چونکہ توسیع ‘ شاہ عبداللہ کے بعد کئی منزلہ ہے اور ہر منز ل پر حجاج و معتمرین کے لئے الیکٹرک گاڑیوں جیسا کہ عموماً مسافروں‘ سامان کی نقل و حمل‘ صفا و مروہ کے درمیان سعی کے لئے اجرت دے کر حصول اور استعمال ہرگز غیر شرعی نہیں ہے۔ ایسی ’’سواری‘‘ پر بیٹھ کر طواف ہوسکتا ہے۔ فتح مکہ کے بعد خود آپﷺ نے اپنی سواری پر بیٹھ کر ہی طواف کعبہ کیا تھا‘ عرفات میں جبل رحمت کے ساتھ اپنی سواری پر بیٹھ کر آپﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع ارشاد فرمایا تھا لہٰذا حج میں سواریوں کا استعمال جائز ہے۔
ہاں ایک بات کا اعتراف اور بھی ‘ آل سعود بادشاہوں نے‘ شاہ عبدالعزیز سے لے کر شاہ عبداللہ عہد تک مسجد نبوی اور بیت اللہ شریف‘ مسجد حرام کی بہت زیادہ توسیع کی ہے۔ یہ سب کچھ دنیا بھر سے آنے والے حجاج کی سہولت کے لئے کیا گیا ہے جبکہ ترک عثمانی خلافتوں نے بھی اپنے اپنے انداز میں حرمین شریفین کی توسیع کی تھی‘ اپنے انداز کا بہت زیادہ تقدس و احترام بیت اللہ‘ مسجد حرام اور مسجد نبوی اور روضۃ الرسول کے حوالے سے پیش کیا تھا۔ یہ سب کچھ کتب تاریخ میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ آل سعود بادشاہتوں‘ ترک عثمانی خلافتوں کی حرمین شریفین کی توسیع‘ تقدس و احترام کی عظیم خدمتوں کو قبول فرمائے اور انہیں اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین