Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

سعودی توسیعات حرمین اور سیوریج و کولنگ کی تنصیب

20 جولائی کی اشاعت میں ہم نے ’’حرمین شریفین میں پاک الیکٹرک سواریوں کا استعمال‘‘ میں اہل علم سے گفتگو اور اپنی طرف سے ایک دینی و شرعی موقف پیش کیا تھا۔ آج کی نشست بھی حرمین شریفین سے اور اسی موضوع سے اور کچھ ان میں نصب نظام سیوریج و ائیر کنڈیشنگ کے حوالے سے مختص ہے۔
پہلے اہل علم سے گفتگوکا خاکہ پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن‘ فیصل آباد کے مشہور محدث اور محقق مولانا ارشاد الحق اثری کا موقف تھا کہ رسول اللہﷺ کے عہد میں سواریوں کی عمومی آمد مسجد نبویؐ سے متصل ثابت شدہ امر ہے۔ مکہ مکرمہ میں ایک عشرۃ تعمیرات بیت اللہ سے وابستہ اورام القری سے تعلیم پانے والے ڈاکٹر سمیع اللہ ملک کا موقف ہے کہ ایک صحابی مسجد نبویؐ میں آئے‘ اپنا اونٹ مسجد نبویؐ کے ساتھ کھڑا کیا اور مسجد کے اندر آگئے ‘ آپؐ نے صحابی سے پوچھا کہ اپنی سواری کا کیا کیا ہے؟ جواب دیا حضور اسے باہر باندھ آیا ہوں اور اللہ پر توکل کرلیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا واپس جائو‘ اپنے اونٹ کو بہت اچھی طرح باندھو اور اس کے بعد اللہ پر توکل کرو‘ اس سے سواریوں کی مسجد نبویؐ سے متصل آمدورفت بھی ثابت ہوتی ہے۔ آج کل اونٹ ‘ خچر‘ گدھے‘ گھوڑے کی جگہ گاڑیاں سواریاں ہیں۔ ڈاکٹر سہیل نے زندگی کا کافی حصہ مدینہ منورہ میں تعلیم و قیام کے حوالے سے گزارا ہے۔ ان کے والد مولانا عبد الغفار حسن مدینہ یونیورسٹی میں حدیث کے استاذ تھے اور سہیل حسن اور ان کے بھائی مدینہ میں تعلیم پاتے تھے ‘ ان کاموقف ہے کہ جتنے بھی جنازے حرمین شریفین میں نماز جنازہ کے لئے لائے جاتے ہیں وہ گاڑیوں پر ہی لاتے ہیں لہٰذا سعودی علما ء و شیوخ کی توثیق ہی سے یہ سب مراحل گزشتہ عشروں میں گزرتے رہے ہیں۔ اگر گاڑیوں یا سواریوں کا استعمال ممنوع ہوتا تو سعودی علماء و شیوخ ضرور منع کر دیتے جبکہ شیوخ میں الشیخ عبداللہ بن باز جیسے ایسے علماء گزرے ہیں جن کا احترام شاہ فہد جیسے آل سعود کے فرمانروا بہت زیادہ کرتے تھے۔ ان کے ہر فتویٰ پر عمل ہوتا تھا۔ مفسر قرآن اور مصنف تفسیر ’’فہم القرآن‘‘ اور ’’فہیم الحدیث‘‘ لاہور میں مقیم مولانا میاں محمد جمیل نے یوں تفہیم دی ہے کہ مولانا حافظ مقصود کے بھائی حاجی دائود نے شاہ فیصل کے زمانے میں حج کیا تھا‘ حجاج کو اس زمانے میں بقول حاجی دائود گاڑیاں بیت اللہ کے سامنے اتارتی تھیں‘ چونکہ صفاء و مروہ میں اور بیت اللہ کے ارد گرد بھی موجودہ سفید پتھروں کا فرش نہ تھا بلکہ چھوٹی چھوٹی کنکریاں بچھی ہوتی تھیں جن سے طواف کرتے ہوئے یا مروہ و صفا کے مابین سعی کرتے ہوئے پائوں زخمی بھی ہو جاتے تھے لہٰذا حجاج اور زائرین جوتے پہن کر طواف اور سعی کیا کرتے تھے۔ یہ تو شاہ فہد تھے جنہوں نے قدیم زمانے کے پورے مدینہ کو مسجد نبویؐ کی توسیع کے ذریعے عظیم مسجد نبویؐ تعمیر کر دی اور اس میں کولنگ اور ائیرکنڈیشنگ کا نظام بھی نصب کیا۔ پانی کے فوارے گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لئے حرمین میں استعمال ہوتے ہیں۔ مسجد حرام مکہ مکرمہ میں بھی شاہ فہد نے جو نئی تعمیرات کروائیں ان میں بھی کولنگ کا نظام ہے۔
شاہ فہد کا عہد بھی وہ سنہری عہد ہے جب مسجد نبویؐ کی تعمیرات ہوئیں تو زیرزمین وسیع و عریض سیوریج کا نظام بھی بچھایا گیا۔ سیوریج اور کولنگ کے وافر استعمال کو محفوظ بنانے کے لئے زیر زمین بہت بڑی پائپ لائن بھی بچھائی گئی اور ان کی تعمیر و مرمت کے لئے بہت بڑی سرنگ بھی بنائی جو زیرزمین ٹرانسپورٹیشن کا بہت عمد ہ نمونہ ہے۔ سیوریج کے فضلات اور پانی وغیرہ کو کئی میل دور لے جاکر خارج کیا گیا ہے۔ شاہ عبد اللہ کے عہد میں اس نظام سیوریج و کولنگ کی مزید بہتری کے لئے سعودی حکومت کی توجہ مبذول اعلیٰ تھی‘ مسجد حرام کی توسیع شاہ عبد اللہ نے اسی طرح کھلے دل اور بہت زیادہ مال و دولت خرچ کرکے پرائیویٹ املاک خریدیں اور نیا وسیع و عریض مسجد حرام کا جغرافیہ تخلیق کیا‘ اس میں بھی نظام سیوریج اور کولنگ کے نظام کی تنصیب ہوئی۔ مسجد نبویؐ کے صحنوں میں گرمی کی شدت‘ دھوپ کی حدت کو کم کرنے کے لئے بہت بڑی چھتریاں نصب کی گئیں جو بوقت ضرورت عام چھتری کی طرح بند بھی ہوسکتی ہیں۔
اوپر جوتے پہن کر ‘ وہ جوتے جو خصوصی طور پر حجاج کے لئے بنتے ہیں۔ ’’طواف‘‘ اور ’’سعی‘‘ کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ لگے ہاتھوں یہ بھی دیکھ لیں کہ اگر جوتا صاف ہو تو اسے پہن کر نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ پرانے زمانے میں تو نیا جوتا یا نئے کپڑے پن کر نماز شکرانہ عموماً ادا کی جاتی تھی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۃ طہ کی آیت نمبر 11-12 (پارہ17 ) میں اللہ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو حکم ملنا کہ ’’فاخلع نعلیک یموسیٰ‘‘ ’’اے موسیٰ اپنا جوتا اتار دو کہ تم مقدس وادی میں ہو‘‘ کی تفسیر میں جوتے کے حوالے سے بہت عمدہ بحث کی گئی ہے۔ یہ تفہیم القرآن کی جلد3 صفحہ 88-89 پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔ ’’وہ لکھتے ہیں غالباً اسی واقع کی وجہ سے یہودیوں میں یہ مسئلہ بن گیا کہ جوتے پن کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔ ‘‘اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لئے نبیﷺ نے فرمایا ’’یہودیوں کے خلاف عمل کرو کہ وہ اپنے جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے (سنن ابو دائود) اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ جوتے پہن کر ہی نماز پڑھنی چاہیے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ اس لئے ونوں طرح عمل کرو۔ صفحہ89 پر سید مودودی نے حضرت ام سلمہؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ تم سے کسی نے اپنے جوتے سے گندگی کو پائمال کیاہو تو مٹی ا س کو پاک کر دینے کے لئے کافی ہے۔ امام ابو حنیفہ‘ امام ابو یوسف امام اوزاعی‘ اسحاق بن راہویہ وغیرہ فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ جو تا ہر حال میں مٹی سے پاک ہو جاتا ہے (لہٰذا جوتے پہن کر بوقت ضرورت نماز پڑھی جاسکتی ہے) البتہ امام شافعی جوتے پہن کر نماز پڑھنے کو خلاف ادب سمجھ کر اس سے منع کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں