شبر زیدی پاکستان کے معروف ماہر امورٹیکس و معیشت دان ہیں۔ وہ عمران خان حکومت میں چیئرمین سی بی آرتھے۔ سندھ حکومت میں ماضی میں نگران وزیرخزانہ بھی تھے۔ وہ اکثرٹاک شوز میں آتے ہیں۔ مکمل طورپرسیکولر اورلبرل معاشی امور کےقائل ہیں۔ وہ تھیوکریسی، علماء،شیوخ، ملائوں،مولویوں، آیت اللہ مجتہدبن کی مسلکی و مذہبی حکومت و ریاست کےسخت مخالف ہیں۔ پاکستان کے حوالےسے بھی ان کا ایک خاص نقطہ نظر ہےجس میں مولویوں، ملائوں حضرات کا ریاستی وحکومتی کردار سخت ناپسندیدہ ہے۔ کہنے کو وہ معاشی اور ٹیکس امور کی مہارت بیان کرتے ہیں مگر ساتھ ہی پاکستان کی گزشتہ پچاس سترسالہ سیاسی ریاست کا بھی سخت ناقدانہ تجزیہ کرتے ہیں۔
تھیوکریسی حکومت کےحوالےسےان کاموقف جناحؒ واقبالؒ سےجا ملتا ہے۔ اس اعتبارسےمحمد بن سلمان کی سیکولر اور لبرل اصلاحات کانفاذ،ریاست،حکومت سے سعودی شیوخ،علماء کردارکاجو خاتمہ ہوچکاہےجس سےامام ابن سعود اور امام محمد بن عبدالوہاب کے مابین ہونے والامعاہدہ بھی عملاًختم ہوچکاہےاوربادشاہت، سعودی حکومتی اقدامات میں قدامت پسند سعودی شیوخ، علماء، آل الشیخ کاکردار مفقود ہوچکا ہے۔ گویا محمد بن سلمان ہمارے لبرل، سیکولرماہر امور ٹیکس و معاشی امور شبر زیدی کے منصب سیکولر ازم و لبرل ازم پر پورےاترتے ہیں جبکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت، ریاست، منصب ولایت، فقہیہ دوٹوک مسترد ہوتےہیں۔پاکستانی ریاست کی تخلیق و تاسیس میں وہ کسی خاکی کردار اور جدوجہد کو تسلیم نہیں کرتےجبکہ جناحؒ، اقبالؒ، آل انڈیا مسلم لیگ کی لبرل انداز کی سیکولرانہ جدوجہد کو وہ وجہ تاسیس پاکستان تصور کرتے ہیں۔
میں عملاً ان کو نظراندازکرتارہاہوں مگر یکم جون کے اردگرد ’’شبر زیدی، علی زیدی ٹاک شو‘‘ میں نےسوشل میڈیا پرغورسےسناجس میں انہوں نے جنرل راحیل شریف کے خلاف ان کےسعودی ریاست کے عسکری مشیرومعاون کے طورپر کردار پرکھل کر شدید تنقید کی ہے بلکہ اسےناپسند کیا ہے، ان کے نقطہ نظر سے مسلمان ممالک کی اتحادی فوج کی تشکیل کے کمانڈر کے طور پرجنرل راحیل شریف کا ریاض چلےجانا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ ان کا یہ بھی کہناہےکہ آج کہاں ہےچالیس مسلمان ممالک کی اسلامی متحدہ فوج جبکہ غزہ و فلسطین میں مظلوم فلسطینی اسرائیلی جبر و ظلم سےلہولہان ہیں تو کہاں سوئی ہوئی ہے یہ متحدہ اسلامی فوج اوراس کا کمانڈر جنرل راحیل شریف؟
شبرزیدی کاجہاں تک سیکولر ازم، لبرل ازم کاموقف ہے توسعودی عرب، شاہ عبدالعزیز کا سعودی عرب دو ٹوک دینی، توحیدی، اسلامی ریاست تھی اور اس نے تقریباً ایک صدی عمر مکمل کرلی ہے۔جنرل جمال عبدالناصرکےکمیونسٹ، سیکولر، لبرل مصر کی طرف مسلمان دنیا نے نہ توجہ دی، نہ ساتھ دیا، نہ جنرل جمال ناصر کو مسلمان امت کا لیڈر تسلیم کیا، جبکہ شاہ عبدالعزیز کے اسلام ازم، توحید ازم، دینی ریاست کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ان کے دست و بازو بن کر سعودی عرب کو مسلمان امت کا روحانی، دینی رہنما بھی مان لیا، لہٰذا شبر زیدی اس واقعے پرضرور غور کریں۔اسلامی متحدہ فوج کی تشکیل بنیادی طور پرسعودی عرب یامشرق وسطیٰ میں داخلی استحکام کےنقطہ نظر سے تشکیل پائی تھی جب یہ تشکیل پائی تھی سعودیہ کو یمن کےاندرسےسخت خطرات درپیش تھے جبکہ مشرقی خطےمیں الشیخ النمرکی صورت سعودی جغرافیائی وحدت کے دشمن موجود تھے۔
الشیخ النمر کی جغرافیائی مسلکی بغاوت مکمل ہو رہی تھی اسی طرح جیسے شاہ عبد العزیزکےزمانے میں نجد میں فیصل الداعش اور اس کے قبیلے کی عسکری انداز کی بغاوت کامیاب ہو رہی تھی۔ جس طرح فیصل الداعش کی عسکری بغاوت کے پیچھے برطانیہ تھا الشیخ النمر کی مسلکی جغرافیائی بغاوت اور علیحدگی کی تحریک کے پیچھے بھی ایک انقلابی مسلکی عجمی مسلک تھا، لہٰذا اسلامی متحدہ فوج اسی پس منظر میں بنی تھی۔ یقینا40 سےزائد ممالک کے سربراہان شبر زیدی سے زیادہ امور ریاست کو سمجھتے ہیں تبھی تو انہوں نےاپنے ممالک کے عسکری وجود کو نئی اسلامی متحدہ فوج کا حصہ بنایا تھا۔ جنرل راحیل شریف نے نہ جنگ یمن میں حصہ لیا، نہ الشیخ النمر کی بغاوت کے خلاف حصہ لیا بلکہ خود کو پیشہ ورانہ امور تک محدود رکھا ہے۔
1960ء سےہی جب شاہ سعود بادشاہ تھے اور فیصل ولی عہد تھے، سعودی عرب عسکری طورپر کمزورہوا۔ شاہ سعود کی توجہ عسکری امورکی اولیت سے ذاتی زندگی کی طرف چلی گئی اوراسی سبب بعدازاں ولی عہدفیصل نے بغاوت کرکے اسے معزول کیا۔1962ء کی جو یمن میں جنرل عبداللہ السلام کی مصری کمیونسٹ کارروائی ہوئی اس میں فیصل خود سامنے آئے۔ 1962ء میں یمنی سرحدوں کی عسکری بغاوت کے لئے پاک تعاون جنرل ایوب جیسے سیکولر و لبرل پاک حکمران نے پیش کیا تھا۔ کیا جنرل ایوب غلط تھا یا شاہ فیصل بطور کرائون پرنس غلط تھا؟ اگر یہ سب کچھ درست تھا تو جنرل راحیل شریف کا سعودی افواج کی تعلیم، تربیت، تنظیم کافرض اداکرنابھی یقیناًدرست عمل ہے۔ اس عمل سے پاکستان کو سعودی عرب سےکچھ محدودسی معاشی مدد بھی مل رہی ہے۔ بہت سے امور میں سعودی عرب پاکستان کا دست وبازو بھی بنا ہوا ہے۔اگر محمد بن سلمان نے ’’تھیو کریسی‘‘ کے کردارکا سعودیہ میں خاتمہ کر دیا ہے تو اس حالت کے سوفٹ انقلاب میں جنرل راحیل کا محمد بن سلمان یا سعودی افواج کے دست و بازو بننا عملاً تو پاکستان کا سعودی افواج کا دست و بازو بننے کا عمل ہی ہے۔ شبر زیدی کیوں پہلے سے معاشی طور پر تباہ حال پاکستان کوجنرل راحیل شریف کےریاض قیام سےملی ہوئی کچھ سیاسی، معاشی،اسٹرٹیجک اہمیت کا خاتمہ چاہتے ہیں؟شبر زیدی مہربانی کرکے اپنا دائرہ کار سعودی عرب تک نہ لےجائیں۔ پاکستان کے اندر سوفٹ سیکولر اور لبرل سیاسی انقلاب کی بےشک جدوجہد کرتے رہیں۔ ویسے بھی پاکستان کی تاسیس جن اسباب، وجوہات، استدلال سے 1947ء میں ہوئی تھی وہ 1922ء کے شاہ عبدالعزیزکے فتح ریاض، قیام سعودی عربیہ1932ء سے مکمل طور پر مختلف ہےلہٰذا دونوں ممالک کا تقابل کرنا بھی نادانی ہے۔