Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

سود اور نفع کا تقابلی جائزہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
البتہ قرآن مجید میں ایک مقام پر نفع سے تقابل بھی کیا ہے جو تجارتی بددیانتی اور ماپ تول میں کمی کے ساتھ ہے۔ لیکن یہ بات کہنے سے پہلے ایک بات عرض کروں گا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات دنیا میں مخلوق کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے اور اس کی اصلاح کے لیے تشریف لائے ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ قومی، معاشرتی اور سماجی مسائل بھی انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے ایجنڈا کا حصہ رہے ہیں۔ مثلاً جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تو انہوں نے صاف کہا کہ میں اپنی قوم کی آزادی کے لیے آیا ہوں۔ جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونؑ دونوں بھائی فرعون کے سامنے پیش ہوئے تو اس سے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا کہ ہم اپنی قوم کو غلامی سے چھڑانے آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا آزادی کی جدوجہد اور قومی آزادی کا ایجنڈا قرآن پاک یوں بیان کرتا ہے ”فارسل معنا بنی اسرآئیل ولا تعذبھم“ (طہ ۴۷) کہ انہوں نے فرعون سے کہا کہ ہم اپنی قوم بنی اسرائیل کی آزادی کے لیے آئے ہیں، انہیں غلامی کے عذاب سے نکالو۔ اس پر ایک دلچسپ مکالمہ بھی قرآن مجید نے نقل کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا کہ میں قوم کی آزادی کے لیے اور انہیں غلامی کے عذاب سے نکالنے کے لیے آیا ہوں تو فرعون نے یہ طعنہ دیا ”الم نربک فینا ولیدا ولبثت فینا من عمرک سنین۔ وفعلت فعلتک التی فعلت وانت من الکافرین‘‘ (الشعراء ۱۸، ۱۹) فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ کیا تم میرے گھر میں نہیں پلے ہو؟ تم بچے تھے ،میں نے تمہیں پالا تھا ، میرے گھر میں ہی جوانی تک کا عرصہ گزارا ہے اور جاتے جاتے ایک بندہ مار کر بھاگ گئے تھے۔ اب مجھ سے آزادی کی بات کر رہے ہو؟ جب فرعون نے یہ احسانات جتلائے تو حضرت موسیٰ نے بہت خوبصورت جواب دیا ”تلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل“ (الشعراء ۲۲) اے فرعون! تم کونسے احسانات جتلا رہے ہو؟ تمہارا یہی احسان ہے کہ میری قوم کو غلام بنا رکھا ہے؟
یہ بات میں نے اس حوالے سے ذکر کی ہے کہ پیغمبرؑ کا ایجنڈا صرف عبادت نہیں ہوتا، بلکہ پیغمبر کا ایجنڈا معاشرتی اور قومی مسائل بھی ہوتے ہیں۔ پیغمبر قوم کی قیادت کرتا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید حضرت لوط علیہ السلام کا ایجنڈا خاندانی نظام بیان کرتا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے قوم سے اللہ کی توحید کی بات کرنے کے بعد سب سے بڑی بات یہ کی ہے” اتاتون الذکران من العالمین وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم“ (الشعراء ۱۶۵، ۱۶۶) یہ کیا جنس پرستی میں پڑے ہوئے ہو، اس سے خاندانی نظام تباہ ہو جائے گا۔ چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام کا ایجنڈا خاندانی نظام کا تحفظ تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا ایجنڈا قرآن مجید نے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو ”اوفوا الکیل ولا تکونوا من المخسرین۔ وزنوا بالقسطاس المستقیم“ (الشعراء ۱۸۱، ۱۸۲) ماپ تول پورا کیا کرو، سودے میں ڈنڈی مت مارو ”ولا تبخسوا الناس اشیاءھم ولا تعثوا فی الارض مفسدین“ (الشعراء ۱۸۳) دو نمبر مال مت بیچو اور ماپ تول میں کمی نہ کرو کہ اس سے فساد پیدا ہوتا ہے۔
ہمیں قرآن مجید اس نیت سے بھی پڑھنا چاہیے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا کیا ایجنڈا تھا؟ ہم قرآن مجید ثواب کے لیے پڑھتے ہیں، اللہ تعالیٰ ثواب دیتے ہیں، لیکن قرآن مجید کو سماجی رہنمائی کے لیے بھی پڑھنا چاہیے کہ قرآن پاک نے ہمارے قومی و سماجی مسائل کے حوالے سے کیا رہنمائی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی بات کسی پیغمبر کے حوالے سے کی ہے اور کوئی بات کسی پیغمبر کے حوالے سے کی ہے، اس میں ہمارے لیے سبق ہے۔
چنانچہ اللہ رب العزت نے حضرت شعیب علیہ السلام کی زبان سے فرمایا ”بقیت اللہ خیر لکم کنتم مؤمنین“ (ہود ۸۶) جو تم ڈنڈی مار کر کماتے ہو اس کی بجائے وہ منافع جو اللہ دیتا ہے وہ بہتر ہے۔ ماپ تول میں کمی کر کے پیسے کمانے سے دیانت کے ساتھ مال سے ملنے والا منافع بہتر ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ماپ تول میں کمی اور تجارتی بددیانتی کا منافع سے تقابل کیا ہے کہ اللہ کا دیا ہوا منافع بہتر ہے۔
میں نے عرض کیا کہ اللہ رب العزت سود کو منافع کے مقابلے میں بیان نہیں کرتے، بلکہ صدقہ و خیرات کے مقابلے میں بیان کرتے ہیں۔ اسے اگر آج ہم سوسائٹی کے اجتماعی مسائل کے حوالے سے دیکھیں تو قرآن مجید نے دولت اور مال کا یہ بنیادی اصول بیان کیا ہے کہ ”کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم“ (الحشر ۷) دولت کو اوپر اوپر مالداروں میں نہیں گھومتے رہنا چاہیے بلکہ دولت کی گردش نیچے آنی چاہیے تاکہ سارا معاشرہ دولت سے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق فیضیاب ہو۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں