Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کرانے میں ناکام ہوگیا ہے؟

جیسا کہ میں نے اپنے گزشتہ کالموں میں لکھاہے کہ اسرائیل کی جنونی قیادت نیتن یاہو(جو اس وقت بیمار ہے) غزہ پرحملہ کرنے سے باز نہیں آرہاہے اور نہ ہی وہ غز ہ کے پیاسے اور بھوکے فلسطینیوں کے لئے رفا ہ کی سرحد کھولنے کیلئے تیار ہے۔ اس افسوسناک صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بذات خود ایک وفد کی صورت میں رفاہ تک گئے اور اس کو کھلوانے کی کوشش کی تاکہ اشیائے خودونوش غزہ کے پریشان حال بھوکے اور پیاسے لوگوں تک پہنچ سکے ۔ لیکن اس پر کلی طور پر عمل درآمد نہیں ہواہے۔ مزید برآں اسرائیل غزہ کے باقی حصے یعنی جنوب میں مسلسل بمباری کررہاہے جس میں اب تک کئی فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ غزہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا قبرستان بن چکا ہے۔ تاہم جو جنوبی حصے میں رفاہ کی سرحد کے قریب بچ گئے ہیں وہ جنگ بندی کاانتظار کررہے ہیں‘ اوراس کے ساتھ ہی موت کا بھی کیونکہ جنونی اسرائیل کی فضائیہ ان پر مسلسل بمباری کررہی ہے۔ جس کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ ایسا محسوس ہورہاہے کہ عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک کو اسرائیلی دہشت کے خوف سے سانپ سونگ گیا ہے۔ مزید برآں مغربی اخبارات میں یہ خبریں نمایاں طور پر شائع ہورہی ہیں کہ اسرائیل رفاہ پر بھرپورحملہ کرنے والا ہے تاکہ وہاں پر فلسطینیوں کا جم غفیر پناہ لینے پر مجبور ہوچکاہے اور ان کا بھی صفایا کردیاجائے‘ اگر ایسا ہوگیا اور اقوام متحدہ اور دیگر بڑی اقوام اس صورتحال کے پیش منظر عالمی طاقتیں خاموش رہیں تو قیاس غالب ہے کہ اسرائیل اس جنگ کے دائرے کو مزید پھیلادے گا یا پھر مصر پر بھی حملہ کرسکتاہے۔
اس وقت فلسطینیوں کا کوئی مددگاریا پرسان حال نہیں ہے۔ دوسری طرف اسرائیل نے پیر کی رات کو شام میں ایران کے سفارت خانے پر میزائلوں سے حملہ کیاہے جس میں کئی شہادتیں ہوئی ہیں اور سفارت خانہ کی عمارت زمین بوس ہوگئی ہے۔ اسرائیل کا شام کی حدود میں ایران کے سفارت خانہ پرحملہ کھلی دہشت گردی ہے اس ضمن میں ہمارے تبصروں اور تجزیوں کی پیش گوئی سچ ثابت ہورہی ہے کہ اسرائیل نہ صرف غزہ کے علاوہ شام‘ یمن اور ایران پر حملہ کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہاہے۔ بلکہ اس نے ابتدا بھی کردی ہے۔میرے خیال کے مطابق اگر اقوام متحدہ نے اپنی اخلاقی اور سیاسی طاقت کا بھرپور اور موثر استعمال نہیں کیا تو دنیا کو تیسری جنگ عظیم کیلئے تیار رہناچاہیے کیونکہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے انسانی اور مادی تباہی ہوئی ہے‘ اس کا زندہ رہ جانے والے فلسطینی ضرور بدلہ لیں گے‘ بلکہ یہ بعض باخبر تبصرہ نگاروں کی یہ رائے درست معلوم ہوتی ہے کہ آئندہ کے لئے اسرائیل غیر محفوظ ہوگیاہے۔ خصوصیت کے ساتھ اس کے وہ نام نہاد شہری جن کو اسرائیل نے زور وجبر کے ذریعے فلسطینیوں کی زمینوں پر بسایا ہے۔ اس وقت خود اسرائیل کے اندر نیتن یاہو کے خلاف زبردست مظاہرے ہورہے ہیں اور مطالبہ کیاجارہاہے کہ فی الفور جنگ بندی کرکے حماس کے قبضے سے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرایاجائے۔ تاہم ابھی تک حماس کے جنگجوئوں نے ان یرغمالیوں کو رہا نہیں کیاہے۔ اور نہ ہی ایسا ممکن ہوتا نظرآرہاہے۔ کیونکہ جب تک اسرائیل جنگ بندی نہیں کرے گا۔ حماس ان یرغمالیوں کو رہا نہیں کرے گا۔
یہاں یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں اسرائیل کی جارحیت اور بربریت کے خلاف مظاہرہے ہورہے ہیں پاکستان میں جماعت اسلامی نے بھی اس سلسلے میں کئی جلوس نکال کر پاکستان کے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے غزہ کے دکھی انسانوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کایقین دلایاہے۔ تاہم اس موقع پر یہ لکھنا ضروری ہے کہ ایران نے شام میں اپنے سفارت خانہ پر اسرائیلی حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کردیاہے۔ ایران اس سلسلے میں کب اسرائیلی حملے کا جواب دے گا اس سلسلے میںکوئی حتمی اطلاع نہیں ہے لیکن ایرانی میڈیا کے مطابق یہ ہوکر رہے گا اور اگر یہ ہوگیا تو پورا مشرق وسطیٰ ایک ایسی آگ میں بھسم ہوتارہے گا جس کو کوئی بھی نہیں بجھاسکے گا بلکہ دنیا ایک غیر معمولی تباہی سے دو چار ہوسکتی ہے اور اقوام متحدہ کا وجود بھی بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔ بقول احمد فراز۔
نوحہ گر چپ ہیںکہ روئیں بھی تو کس کو روئیں
کوئی اس فصل ہلاکت میں سلامت بھی تو ہو
کون سا دل ہے کہ جس کیلئے آنکھیں کھولیں
کوئی بسمل کسی شب خو ں کی علامت بھ

یہ بھی پڑھیں