Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

سود اور نفع کا تقابلی جائزہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
امام غزالی ؒ نے اس پر بڑی مزے کی مثال دی ہے۔ کہتے ہیں کہ معاشرہ میں دولت کی مثال ایسے ہے جیسے جسم میں خون ہوتا ہے۔ خون پورے جسم میں حرکت کرے گا، ہر جگہ ضرورت کے مطابق پہنچے گا تو جسم کا نظام ٹھیک رہے گا۔ اگر خون ہر عضو تک ضرورت کے مطابق نہیں پہنچے گا تو وہ عضو مفلوج ہو جائے گا۔ اور اگر خون ضرورت سے زیادہ پہنچ گیا تو وہاں پھوڑے پھنسیاں بن جائیں گی۔ ایسے ہی دولت کی گردش ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے تک دولت کی گردش صحیح طور پہ پہنچنی چاہیے ۔ ایسا سسٹم ہو کہ معاشرے کے ہر فرد اور ہر طبقے کی ضرورت پوری ہوتی رہے۔ اگر ضرورت پوری ہوتی رہے گی تو نظام ٹھیک چلے گا۔ جہاں دولت نہیں پہنچے گی تو وہاں کفر پیدا ہو گا اور جہاں دولت ضرورت سے زیادہ پہنچے گی وہاں عیاشی پیدا ہو گی۔
اللہ رب العزت نے دولت کی گردش کا جو اصول بیان فرمایا ہے اس پر ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔ ’’کتاب الاموال‘‘ اسلامی معیشت کی کلاسیکل کتاب ہے، تیسری صدی کے فقیہ ابو عبید قاسم بن سلامؒ نے اس میں یہ روایت نقل ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کے زمانے میں یمن کے گورنر حضرت معاذ بن جبلؓ تھے۔ انہوں نے اپنے صوبے سے زکوٰۃ، جزیہ، خراج اور عشر وغیرہ جو سالانہ ریوینیو وصول کیا، ایک سال اس کا تیسرا حصہ کسی مطالبے کے بغیر مرکز کو بھیج دیا۔ اس پر حضرت عمرؓ ناراض ہوئے اور حضرت معاذؓ کو خط لکھا جو ریکارڈ پر موجود ہے کہ معاذ! تم تو عالم آدمی ہو، تمہیں پتہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالیات کا اصول کیا بیان فرمایا ہے۔ تمہیں ہی جب حضورؐ نے یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تھا تو فرمایا تھا ’’توخذ من اغنیائھم فترد الی فقرائھم‘‘ کہ وہاں کے لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنا تو جو مالداروں سے وصول کرو گے وہ اسی معاشرے کے غرباء پہ خرچ کرنا۔ زکوٰۃ اور صدقات کا یہ اصول ہے کہ جس علاقے کے مالداروں سے وصول کیے جائیں اسی علاقے کے مستحقین پر تقسیم کیے جائیں۔ تو تم نے یہ رقم مجھے کیوں بھیجی ہے، یہ تو یمن کے غریبوں کا حق ہے؟ اس پر حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ اس سال اپنے صوبے کے اخراجات پورے ہو جانے کے بعد یہ ون تھرڈ فاضل بجٹ تھا ، اس رقم کا میرے پاس کوئی مصرف نہیں اس لیے آپ کو بھیجی ہے۔
میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ دولت اوپر سے نیچے گردش کرنی چاہیے ۔ اس تناظر میں عرض کرتا ہوں کہ سود کے نظام سے گردش نیچے سے اوپر چلی جاتی ہے، جبکہ زکوٰۃ اور صدقات کے نظام سے دولت کی گردش نیچے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ غریبوں سے سود لے کر اغنیاء کی تجوریاں مت بھرو، بلکہ امیروں سے لے کر غریبوں کو دو۔ صدقات اور زکوٰۃ سے دولت کی گردش اوپر سے نیچے ہو گی جس سے تقسیم صحیح ہو جائے گی۔ اللہ رب العزت نے یہاں تک فرمایا ہے کہ ”یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربا ان کنتم مؤمنین“ (البقرہ ۲۷۸) اے اہلِ ایمان! اللہ سے ڈرو اور سود کھانا چھوڑ دو۔ ”فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ“ (البقرہ ۲۷۹) اگر سود نہیں چھوڑو گے تو اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔
میں اس کا دوسرا پہلو اپنے ملک کی تاریخ کے حوالے سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ستتر سال پہلے جب پاکستان بنا تھا تو ہم نے اپنا پہلا ریاستی بینک ”سٹیٹ بینک آف پاکستان“ بنایا تھا، جس کا افتتاح بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور نے کیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر دو باتیں کہی تھیں جو ریکارڈ پر ہیں۔ سٹیٹ بینک کے ریکارڈ پر بھی ہیں اور قومی پریس کے ریکارڈ میں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”ہم اپنا معاشی نظام مغربی اصولوں پر نہیں، بلکہ اسلامی اصولوں پر بنائیں گے۔“ اس پر بطور دلیل یہ کہا ”اس لیے کہ مغرب کے معاشی سسٹم نے دنیا کو لڑائیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔“
یہ قائد اعظم کی تقریر کا حصہ ہے۔ اس حوالہ سے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ قائد اعظم نے مغربی معاشی نظام کو قبول نہ کرنے کی بات محض رسماً نہیں کی تھی، بلکہ دلیل کی بنیاد پر کی تھی کہ مغرب کے معاشی نظام نے دنیا کو لڑائیوں کے سوا کچھ نہیں دیا، اس لیے ہم اپنے سسٹم کی بنیاد مغرب کے معاشی اصولوں پر نہیں رکھیں گے، بلکہ اسلام کے اصولوں پر رکھیں گے۔ قائد اعظم یہ بات کہنے کے بعد فوت ہو گئے اور ہم آج تک قائد اعظم کی اس بات کی طرف واپس نہیں جا رہے۔
جب ۱۹۵۶ء کا دستور بنا تو ہم نے اس میں لکھا کہ ہم سود کا نظام ختم کریں گے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور میں لکھا کہ سود کا نظام ختم کریں گے۔ پھر وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ دیا کہ سودی قوانین ختم کریں۔ پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی فیصلہ دیا لیکن ہم ابھی تک سٹے در سٹے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں