(گزشتہ سے پیوستہ)
آپﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’قرآن مجید کو دلچسپی سے اور مزے لے لے کر پڑھو اور اس میں تدبر کرو۔‘‘ آپﷺ نے اس بات کو ناپسند فرمایا ہے کہ کوئی شخص تین دن سے کم مدت میں پورا قرآن مجید پڑھے اوراس کی وجہ یہ بتائی کہ (عام آدمی) اتنی تھوڑی مدت میں قرآن پاک کوسمجھ کر نہیں پڑھ سکتا۔قرآن مجید کا چوتھا حق بندوں پر یہ ہے کہ اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ قرآن مجید صرف کتاب تلاوت علم ہی نہیں ہے کتاب عمل بھی ہے۔ سورہ الانعام میں ارشاد باری ہے ’’ا س کتاب کو ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی برکت والی ہے، اس کی تعلیمات پر چلو اورتقویٰ اپنا ئو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ حضورﷺ نے نہایت واضح الفاظ میں یہ بتلایا ہے کہ اگر قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل نہ کیا جائے تو اس کی تلاوت اور اس میں غور وفکر کے کچھ مفید ہونے کا کیا سوال؟خود ایمان ہی خطرہ میں پڑ جاتاہے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے ’’تم میں سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی ہدایت کے تابع نہ ہوجائیں۔‘‘ اور فرمایا ’’اور جو شخص قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرے وہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا۔‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے ’’جس نے قرآن پڑھا، پھر اسے یاد کیا اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا یعنی حلال کو حلال سمجھا اور حرام کو حرام سمجھا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے گھر والوں میں سے دس اشخاص کے حق میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا، ایسے دس اشخاص جن پر دوزخ واجب ہو چکی ہوگی۔ ’’قرآن کا پانچواں حق یہ ہے کہ اس کا پیغام لوگوں تک پہنچایا جائے اور اس کو نافذ کرنے کے لئے جدوجہدکی جائے، سورہ المائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے‘‘ اے رسول!تبلیغ کیجئے اس چیز کی جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کی گئی ہے۔ اگریہ کام آپ نے نہ کیا تو گویا فریضہ رسالت ہی ادا نہ کیا۔سورہ الانعام میں ارشاد ہے: ’’اور وحی کے ذریعہ قرآن میری طرف بھیجاگیا ہے تاکہ میں تمہیں اور جن لوگوں تک اس کا پیغام پہنچ سکے خبردارکردوں۔‘‘سورہ ق میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایاکہ’’آپ قرآن کے ذریعہ ایسے اشخاص کو سمجھا سکتے اور تبلیغ کر سکتے ہں جو میری وعید سے ڈرتا ہو۔‘‘ حضور پاکﷺ کا ارشاد ہے’’پہنچا میری طرف اگرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
دوسری روایت میں آپﷺ نے فرمایا کہ ’’قرآن کی دعوت سارے جہاں میں پھیلائو‘‘۔قرآن مجید کا چھٹا حق یہ ہے کہ اسے لحن عرب کے موافق تجوید کے پڑھا جائے۔ ہر حرف کو صاف صاف اور پورے مخارج سے ادا کرے۔ ق اور ک، ہمزہ اور ع، ط اور ت، ح اورہا وغیرہ وغیرہ کو الگ الگ واضح کرے حرف کو ذرا سا غلط پڑھنے سے معنی بدل جاتے ہیں، جیسے قل کے معنی ہیں’’کہو‘‘ اور کل کے معنی ہیں، ’’کھا‘‘قلب کے معنی ہیں دل اور کلب کے معنی ہیں کتاوغیرہ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا ’’بہت سے قرآن پاک پڑھنے والے ایسے ہیں(جو بلا تجوید قرآن پاک پڑھتے ہیں یا ریاکاری سے تلاوت کرتے ہیں)قرآن مجید ان پرلعنت بھیجتا ہے۔قرآن مجید تجوید و ترتیل کی رعایت کرتے ہوئے اچھی آواز کے ساتھ خوش الحانی سے پڑھے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جو شخص قرآن کی خوش الحانی اور تجوید سے نہیںپڑھتا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اگر قرآن کو چمڑے کے اندر بند کیا جائے اور پھر اسے آگ میں ڈالا جائے تو وہ ہرگز نہ جلے گا (دارمی)یعنی بدن انسان کا بدن چمڑے کی مانند ہے اور جس کے سینے میں قرآن مجید محفوظ ہے اس پر دوزخ کی آگ اثر نہ کرے گی۔ حضرت معاذ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن حفظ کرے اور اس پر عمل کرے تو قیامت کے روز اس کے ماں باپ کو ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اس دنیا کے آفتاب سے بھی زیادہ ہوگی جبکہ وہ آفتاب بجائے آسمان کے تمہارے گھروں میں ہو۔ یعنی اس سے اندازہ کرلو کہ خود حافظ قرآن اور اس پر عامل کا کیا مقام ہوگا۔ (احمد،ابو دائود)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ قرآن شریف کو سیکھو پھر اس کو پڑھتے رہو،اس لئے کہ جو شخص قرآن شریف سیکھتا ہے اور پڑھتا ہے اور تہجد میں اٹھ کر اس کو پڑھتا رہتا ہے اس کی مثال اس تھیلی کی سی ہے جو مشک سے بھری ہوئی ہو کہ اس کی خوشبو تمام مکان میں پھیلتی ہے(یعنی اسی طرح اس حافظ کی تلاوت سے تمام مکان انوار و برکات سے معمور رہتا ہے) اور جس شخص نے سیکھا اور پھر سوگیا اس کی مثال اس مشک کی تھیلی کی سی ہے جس کا منہ بند کر دیا گیا ہو۔شرح احیاء میں ان لوگوں کی فہرست میں جو قیامت کے ہولناک اور دہشت کے دن اللہ کے سائے کے نیچے انبیا اور برگزیدہ لوگوں کے ساتھ ہوں گے،حفاظ قرآن کو بھی شمار کیا گیا ہے۔حاکم رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے حضور اقدسﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص قرآن مجید پڑھے اور اس پر عمل کرے اس کو ایک تاج پہنچایا جائے گا اور اس کے والدین کو ایسے دو جوڑے پہنائے جائیں گے کہ تمام دنیا ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ وہ عرض کریں گے یا اللہ یہ جوڑے کس صلہ میں تو ارشاد ہوگا کہ تمہارے بچے کے قرآن شریف پڑھنے کے عوض میں یعنی حفظ کرنے کے صلے میں۔
ہندوستان کے بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے والد شاہ جہاں جیل میں تھے وہاں وہ عالمگیر کے بیٹے(یعنی اپنے پوتے)کو قرآن پاک پڑھاتے رہے ، جب قرآن شریف مکمل حفظ ہوگیا تو شاہ جہاں نے عالمگیر سے کہا کہ بیٹے میں نے تیرے سرپر نور کا تاج رکھ دیا ہے۔ عالمگیر کو بعد میں احساس ہوا کہ میرے والد نے مجھے کتنی بڑی سعادت سے نواز دیا ہے چنانچہ انہوں نے بھی قرآن مجید حفظ کرنا شروع کر دیا اور کچھ عرصہ بعد اپنے والد سے کہا کہ ابا جان میں نے بھی آپ کے سر پر نور کا تاج رکھ دیا ہے۔جمع الفوائد میں طبرانی سے نقل کیا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضور اکرمﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص اپنے بیٹے کو ناظرہ قرآن شریف سکھلائے اس کے سب اگلے اور پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جو حفظ کرائے اس کو قیامت میں چودھویں رات کے چاند کے مشابہ اٹھایا جائے گا اور اس کے بیٹے سے کہا جائے گا کہ پڑھنا شروع کر،جب بیٹا ایک آیت پڑھے گا باپ کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا حتیٰ کہ اسی طرح تمام قرآن شریف پورا ہو۔رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن پڑھے اور اس کو حفظ کرے اور اس کے حلال کو حلال جانے اور اس کے حرام کو حرا م جانے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا اور اس کی سفارش (بخشش کے لئے)اس کے گھر والوں میں ایسے دس شخصوں کے حق میں قبول فرمائے گا کہ ان سب کے لئے دوزخ لازم ہوچکی تھی۔ (احمدو ترمذی و ابن ماجہ ودامی) جو لوگ حفظ قرآن شریف کو فضول بتلاتے ہیں کہ ملا و حافظ بن کر کیا کرے گا مسجد کی روٹیاں توڑے گا جبکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ روزی دینے والے اللہ پاک ہیں۔ افسوس ہے ایسے لوگوں پر جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ خدارا!و ہ ان فضائل پر بھی غور کریں کہ یہی ایک فضیلت ایسی ہے جس کی وجہ سے ہر شخص کو حفظ قرآن پر جان دے دینا چاہیے۔ اس لئے کون شخص ایسا ہوگا جس نے گناہ نہ کیے ہوں جس کی وجہ سے آگ کا مستحق نہ ہو۔