Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

سود اور نفع کا تقابلی جائزہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
جب وفاقی شرعی عدالت نے سود کے بارے میں فیصلہ دیا تو آپ کے علم میں ہے کہ نظر ثانی کی اپیل وہی بینچ سنتا ہے جس نے سماعت کی ہوتی ہے۔ چنانچہ وفاقی شرعی عدالت میں نظر ثانی کی اپیل دائر ہوئی۔ وفاقی شرعی عدالت کے جج ملازمت پر نہیں بلکہ معاہدے پر ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس بات کا انتظار کیا گیا کہ جس بینچ نے فیصلہ کیا ہے اس کی مدت ختم ہو ،نیا بینچ آئے اور وہ فیصلہ کرے۔ نئے بینچ نے آ کر صرف ایک جملہ لکھ دیا کہ ”سماعت میں کچھ سقم رہ گیا ہے ازسرنو غور کیا جائے‘‘۔ اس جملہ کا کیا مطلب ہے آپ سمجھتے ہیں، میں بھی عدالت میں جانے والوں کے ساتھ تھا، اس ایک جملہ سے ہم انیس سال کے سابقہ زیرو پوائنٹ پہ چلے گئے۔ میں نے اس پر ایک کالم لکھا تھا کہ ہمیں لڈو کا سانپ ڈس گیا ہے کہ ہم اٹھانوے پر پہنچ چکے تھے، سانپ نے ایسا ڈسا کہ ہم زیرو پر آ گئے۔ لیکن جو بات میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جن ججز نے یہ جملہ لکھا تھا کہ سماعت میں کچھ سقم رہ گیا ہے، دوبارہ سماعت کی جائے، ان میں سے ایک جج سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ کیا گڑبڑ کی ہے؟ اگر ایسا کرنا ہی تھا تو سیدھا کہہ دیتے ہیں کہ فیصلہ غلط ہے۔ وہ کہنے لگے کہ میں نے یہ لکھ کافر نہیں ہونا تھا۔ یعنی بس فیصلے کو روکنا تھا ۔ ہمارے ساتھ گزشتہ چالیس سال سے ایسا ہو رہا ہے۔
اس کی اصل وجہ یہ کہ ہم قائد اعظم کی وفات کے بعد امریکہ کی گود میں چلے گئے تھے اور ابھی تک امریکہ کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے فیصلے یہاں نہیں ہوتے، وہاں ہوتے ہیں، ہماری پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کنٹرول کرتا ہے۔ اس لیے سیدھی بات ہے کہ ہمیں اس دلدل سے نکلنے کے لیے کھڑا ہونا ہو گا۔ آج کھڑے ہو جائیں یا بیس چالیس سال بعد کھڑے ہوں ،اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ ہم اس بیرونی مداخلت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ سٹیٹ بینک ہمارا ہے، کنٹرول ان کا ہے، گلّا میرا ہے چابی ان کے پاس ہے۔ اس سسٹم کے خلاف ہمیں قومی طور پر اٹھنا ہو گا، اس کے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے۔
میں الحمد للہ تقریبا ً نصف صدی سے انسدادِ سود کی جدوجہد کا حصہ ہوں اور آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ سب کا مشترکہ فورم ”ملی مجلس شرعی“ جو گزشتہ بارہ سال سے ان مقاصد کے لیے کام کر رہا ہے، میں اس کا صدر ہوں۔ سودی نظام سے نجات کے حوالے سے تین باتیں عرض کروں گا:
پہلی بات یہ ہے کہ اس قسم کے مسائل آتے رہتے ہیں ۔ اب تک یہی مسائل ہیں کہ قانون یہ کہتا ہے، شریعت یہ کہتی ہے، علماء یہ کہتے ہیں، وکلاء یہ کہتے ہیں، جج صاحبان یہ کہتے ہیں، مفتیان کرام یہ کہتے ہیں۔ یہ باتیں چلتی رہتی ہیں۔ ہمارے تقریباً اسی فیصد مسائل اسی نوعیت کے ہیں۔ کیا ہم اس کنفیوژن کے حل کیلئے مل کے فیصلے نہیں کر سکتے؟ میرے دوست اور جیل فیلو اقبال احمد خان مرحوم ایک دور میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین تھے، وزیر قانون بھی رہے ہیں، وہ بھی ہماری اس تحریک کے آدمی تھے ۔میں نے ان سے کہا کہ کوئی ایسی ترتیب بنا دیں کہ اس قسم کے مشترکہ مسائل میں علماء اور وکلاء مل بیٹھ کر رائے دیں۔ کوئی ایسا پرائیویٹ فورم ہونا چاہیے۔ سرکاری فورم تو ہیں، لیکن وہ کیسے ہیں اس کا مجھے بھی پتہ ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے۔ پرائیویٹ سطح پر ہماری ایسی مشترکہ مجالس ہونی چاہئیں کہ ہم مل کر رائے دیں تاکہ لوگوں کا بھلا ہو۔ علماء کچھ کہہ دیتے ہیں اور وکلاء کچھ اور کہہ دیتے ہیں، اس سے لوگ کنفیوژن میں پڑ جاتے ہیں، نہ وہ بات بڑھتی ہے اور نہ یہ بات بڑھتی ہے۔
میرے نزدیک اس وقت ہمارے ملک میں انصاف کے راستے میں جو بڑی رکاوٹیں ہیں، ان میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ علماء اور وکلاء دونوں الگ الگ دائروں میں چل رہے ہیں، لوگ کنفیوژ ہو رہے ہیں، وکیل کی بات مرضی کے مطابق نہیں ہوتی تو مفتی کے پاس آ جاتے ہیں، عالم کی بات سمجھ میں نہیں جاتی تو وکیل کے پاس چلے جاتے ہیں۔ اس گلی ڈنڈے کے کھیل نے ہمارے ملک کا نظام خراب کیا ہوا ہے۔ اس لیے میں آپ کے اس عمل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ درخواست دہرانا چاہوں گا جو آج سے چالیس سال پہلے میں نے باقاعدہ پاکستان بار کونسل کو لکھ کر دی تھی، اس کے لیے آپ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو ضرور کریں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ سود کے حوالے سے ہماری ایک تحریک ہے جس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث ، جماعت اسلامی اور شیعہ سب شریک ہیں ، ہم اکٹھے بیٹھ کر کام کرتے ہیں، لاہور بار کے کچھ وکلاء ہمارے ساتھ ہیں، میں اس حوالہ سے گوجرانوالہ کے وکلاء سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ آپ بھی اس کمپین میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔
تیسری بات یہ عرض کروں گا کہ سود کے حوالے سے شرعی مسائل تو واضح ہیں، لیکن آج کی دنیا کیا کہہ رہی ہے اور آج کی معیشت کی سائنٹیفک ریسرچ کیا کہہ رہی ہے کہ سود نے انسانی معاشرے اور انسانی معیشت کو فائدہ دیا ہے یا نقصان دیا ہے؟ اسے بھی آپ اسٹڈی کریں۔ میں اپنی بات نہیں کرتا، آپ ورلڈ بینک کی پچھلے سال کی رپورٹ پڑھ لیں ، آئی ایم ایف جس نے ہمیں جکڑا ہوا ہے اس کی رپورٹ پڑھیں کہ سوسائٹی اور سماج کی معیشت کے لیے سودی سسٹم اور غیر سودی سسٹم میں سے کون سا بہتر ہے؟ وہ یہی بات کہتے ہیں جو میں کہتا ہوں ۔ انڈیا کے ایک اخبار نے ورلڈ بینک کے ایک سابق ڈائریکٹر کا انٹرویو شائع کیا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ دنیا کی غیر متوازن معیشت کا کیا حل ہے؟ انہوں نے کہا ایک ہی حل ہے، معاشی استحکام اور معاشی بیلنس کے لیے سود کی شرح جتنی کم کریں گے اتنا معیشت میں استحکام اور توازن آئے گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ اس کی آخری حد کیا ہو گی؟ انہوں نے کہا زیرو۔
اس لیے میں یہ درخواست کر رہا ہوں کہ آج کی دنیا کو سود کے نتائج کیا مل رہے ہیں، اسے سٹڈی کریں اور ان نتائج سے پاکستان کو بچانے کے لیے اگر ہم کچھ کر سکتے ہیں تو ہمیں کرنا چاہیے۔ پاکستان میں ریاستی سود کا مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے لیکن پرائیویٹ سود تو قانوناً بھی منع ہے، اس کو روکنے کے لیے نوجوان وکلاء اور نوجوان اہلِ علم قانون کے ذریعے جو کچھ کر سکتے ہیں انہیں کرنا چاہیے۔
پھر ایک بڑا مسئلہ آگہی کا بھی ہے۔ اس لیے ہم مسئلے سے واقفیت حاصل کریں کہ مسئلہ کی نوعیت کیا ہے؟ جو عالمی سطح پر مسائل ہیں ہم ان پر جذباتی اور سطحی باتیں کرتے ہیں ، ہمارے ہاں اسٹڈی کا ماحول نہیں ہے، نہ علماء میں اور نہ وکلاء میں۔ ہمیں سٹڈی کا ماحول پیدا کرنا چاہیے اور مل جل کر آپس میں مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے کیونکہ اگر دونوں الگ الگ حل نکالیں گے تو ٹکراؤ پیدا ہو گا۔ یہ چند گزارشات میں نے پیش کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں