(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارت جیسا دہشت گرد اور کمینہ دشمن آج پاکستان کو للکارنے اور دھمکی دینے کی جرأت کر رہا ہے تو اس کی پہلی وجہ یہی بے بصیرت اورمعذرت خواہانہ پالیسی ہے جبکہ ہمارا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت جیسے دشمن کو صلح کی پیشکش سے نہیں ہر سطح پر جارحانہ پالیسی سے ہی ہینڈل کیا جا سکتا ہے ۔ دوسری بڑی وجہ سیاسی انتشار ہے ، پاکستان میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایک ٹولہ اپنے گھٹیا سیاسی مقاصد، شخصیت پرستی اور شیطانی ہوس کی خاطر ملک میں سیاسی تصادم کو اس حد تک لے گیا ہے کہ اپنے ہی ملک،اپنے ہی اداروں کے خلاف نہ صرف ابلاغی دہشت گردی میں ملوث ہے بلکہ پاکستان کے خلاف عالمی اداروں میں لابنگ کرتا ہے، ملک کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کا معاون ہے،شرمناک امر یہ کہ دہشت گردوں کے حملوں پر بھی ان کا ساتھ دیتا ہے ، ان کے بیانیہ کو سپورٹ کرتا اور شہداء کا تمسخر اڑاتا ہے۔ دشمن ایسا موقع کیوں ضائع کرے کہ اربوں کا بجٹ خرچ کرکےبھی جس مقصد میں وہ ہمیشہ ناکام رہا ، اب پاکستان کے اندر سے ہی ایک کلٹ کروڑوں ڈالر خرچ کرکے اس کا کام سرانجام دے رہا ہے ،اس کے پروپیگنڈے کو پھیلاتا ہے اور اس کی حمائت میں دل وجاں سے پیش پیش ہے ۔
بات بہت سیدھی ہے ، کسی کو بری لگے یا بھلی،اندرون و بیرون ملک موجود پاکستان دشمنوں کے ساتھ جب تک آہنی ہاتھوں سے نہیں نمٹا جائے گا ،ملکی سلامتی، اور شہداء کے خلاف دراز ہونے والی زبانیں گدی سے نہیں کھینچی جائیں گی۔ قوم میں دشمن کے خلاف یکسوئی پیدا نہیں ہوسکے گی اور دشمن ہمیشہ اس کا فائدہ اٹھاتا رہے گا ۔ یہ پیار محبت کے ناز نخرے صرف سستے چونچلے ہیں، دنیا کا کوئی ملک اتنی آزادی نہیں دیتا کہ اس کے شہری غیر ملکی ایجنڈے پر ناچتے ہوئے اپنے ہی دفاع کو روندڈالیں، خاکم بدہن دن رات ملک کے خاتمے کے خواب دیکھتے ہوئے ہر ملک دشمن کے بے دام آلہ کار بن جائیں ۔ اسی بے جا ناز برادری کا نتیجہ ہے کہ جنہیں گھر میں کوئی نہیں پوچھتا وہ بھی ملک کی تباہی کے خواب دیکھتےہیں۔اپنے باپ دادا کی غداری کے سرٹیفکیٹ دشمن سے وصول کرنے والے بھی شرمندہ ہونے کے بجائے دندناتے پھرتے ہیں اور ملک کے لئے آستین کے سانپ کا کردار ادا کرنے سے نہیں چوکتے۔اسی معذرت خواہانہ رویوں کا نتیجہ ہے کہ ملک دشمنی اور دشمن کی ہم نوائی فیشن بن چکی ہے۔
لازم ہے کہ ایک جانب اندون ملک ’’کیڑے مار‘‘ مہم کو انجام تک پہنچایا جائے ،کسی کو بھی ملک اور ملکی مفاد کے خلاف زبان دراز کرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ اس کے ساتھ ہی عالمی برادری کے سامنے’’ اچھا بچہ‘‘ بننے کی کوشش بھی ترک کرنا پڑے گی۔ ہماری سرحدوں کے چاروں جانب بھارتی دہشت گردی کی آگ بھڑک رہی ہے اور ہمیں تجارت کھولنے اور مذاکرات کی دعوتیں دینے سے فرصت نہیں ۔ ہمیں واپس ’’کانٹے سے کانٹا‘‘ نکالنے کا ہنر آزمانےکی جانب جانا ہوگا۔ بھارت اگر ہمارے غیر متنازعہ حصے بلوچستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کھل کر کرسکتا ہے تو ہم کشمیر پر معذرت خواہانہ لب و لہجے پرکیوں اتر آئے ہیں؟ہم تو اس مقدمے کے باقاعدہ فریق ہیں ۔ اقوام متحدہ کا چارٹر کشمیریوں کو اپنے حق کے لئے ہتھیار اٹھانے کا حق دیتا ہے۔ ہم اس میں بھارت کے مددگار کیوں ہیں؟ خالصتان ہماری سرحدوں پر واقع ایک تنازعہ ہے، جو ہماری سلامتی سے براہ راست تعلق رکھتا ہے، ہم اس میں اپنا کردار اداکرنے سے گریز اں کیوں ہیں؟ نیپال، بھوٹان،مالدیپ اور سری لنکا بھارتی دہشت گردی کے خلاف ہماری طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ضیاء الحق نےان سب مظلوموں کو’’ سارک‘‘ کی صورت متحد کرکے بھارت کو ناکوں چنے چبوادئے تھے ، ہم ان آزمودہ راستوں کو کیوں چھوڑ بیٹھے ہیں ؟ آج بھارت ہمارے پڑوس میں دہشت گردی کے اڈے چلانے پر شرمندہ نہیں بلکہ سر عام تسلیم کرتا ہے ، ہم اس کے پڑوس میں ان ممالک کی جائز قانونی مدد اور حمایت سے بھی گریزاں کیوں ہیں؟جن عالمی قوانین کے خوف سے ہم دہرے ہوئے جا رہے ہیں ، اس نے ہمیں کیا دیا ؟ بھارت کے خلاف کیا کرلیا ہے ؟ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ عالمی قوانین صرف اس کے لئے ہیں جو ان سے دبتا ہے ، ڈرتا ہے ۔ پاکستان کا دفاع ہم نے خود کرنا ہے ، کسی عالمی برادری نے نہیں ۔ عالمی برادری بھی اسی کا ساتھ دیتی ہے ، جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہو ، کشمیر پون صدی سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے ، عالمی برادری نے کیا کرلیا ؟فلسطین پون صدی سے جل رہا ہے ، گزشتہ 6ماہ سے وہاں قتل عام جاری ہے ، انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ رونما ہو چکا ہے ، مگر عالمی برادری منقار زیر پر ہے ۔ عزت سے جینا ہے تو یہ معذرت خواہانہ روئیے ترک کرنا ہوں گے ، اس کے سوا کوئی حل نہیں ۔
راج ناتھ کی گیدڑ بھکیاں ہوں یا مودی کی بے وقت کی راگنی واحد جواب یہ ہے کہ پہلے اپنا گھر سیدھا کریں، دشمن کے ہمدردوں کا شافعی علاج کریں ۔ دوسرا یہ کہ اپنے چھوڑے ہوئے مورچے آباد کریں، اپنے ترک کردہ راستوں کو پھر سے رونق بخشیں، دشمن کی بدمعاشی پر تماش بیں عالمی برادری کو شکائتیں لگانے کے بجائے دشمن کا گریبان پکڑیں ، اسے اسی کی زبان میں جواب دیں ۔ بھارت اور ہندوتوا لاتوں کے بھوت ہیں باتوں سے ماننے والے نہیں۔ جن کا مذہب یہ ہے کہ جس طاقت ور شئے کو دیکھتے ہیں پوجنے لگتے ہیں۔ انہیں اوقات میں رکھنے اور پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے اور کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ80کی دہائی میں اپنائی گئی جارحانہ دفاع کی پالیسی کو پھر سے اختیار کیاجائے۔ قرآن بھی تو یہی کہتا ہے کہ ’’ جہاں تک ممکن ہو کافروں کے مقابلہ کے لئے قوت اور جنگی گھوڑے تیار رکھو۔ تاکہ تمہارے اور اللہ کے دشمنوں کے دلوں پر دھاک بیٹھ جائے ،ان میں سے بعض وہ بھی ہیں ، جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ انہیں جانتا ہے ۔ اور جو کچھ بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور تمہارے ساتھ کچھ بے انصافی نہ ہوگی ۔‘‘)انفال 60)۔