بھارت میں اپریل کی20تاریخ سے لے کر 4جون تک عام انتخابات ہورہے ہیں۔ جس میں بی جے پی، انڈین نیشنل کانگریس اور عام آدمی پارٹی براہ راست ایک دوسرے کے خلاف مقابلے میں کھڑی ہیں۔ اس کے علاوہ علاقائی پارٹیوں کی تعداد بھی اپنی جگہ موجود ہے جن کا اپنا ووٹ بینک بھی ہے۔ اس دفعہ کا بھارت میں الیکشن انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ وہ اس لئے کہ نریندر مودی تیسری بار انتخابات جیتنا چاہتاہے۔ ہر قیمت پر، لیکن اس کے ساتھ ہی حزب اختلاف کی جماعتوں نے طے کرلیاہے کہ اس انتہا پسند ہندو اقلیتوں کے دشمن کو اس مرتبہ کامیاب نہیں ہوناچاہیے۔اس طرح اس وقت بھارت میں انتخابات کے سلسلے میں خاصی ہلچل پائی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ بی جے پی کے مختلف رہنما اپنی تقریروں میں پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ بی جے پی کے وزیرداخلہ راج ناتھ نے اپنے حالیہ بیان میں کہاہے کہ بھارت جلد پاکستان پرحملہ کرنے والا ہے تاکہ اس ملک سے ’’آنے والے‘‘ دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جاسکے۔ بھارت کے وزیر داخلہ کے بیان کو بڑی سنجیدگی سے لیناچاہیے کیونکہ نریندر مودی اور ان کی ٹیم پاکستان کے خلاف جارحیت پر مبنی کارروائی کرنے کا ارادہ کرچکی ہے تاکہ بھارت کے عوام کا ووٹ حاصل کیاجاسکے، ویسے بھی اس وقت جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہےکہ بھارت میں جتناپارٹی کی جانب سے پاکستان کے خلاف جو مہم چلائی جارہی ہے وہ اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ بھارت بالا کوٹ جیساحملہ کرکے بھارتی عوام کا ووٹ بینک حاصل کرنے کی کوشش کرے گالیکن شاید اس دفعہ بھارت کی پاکستان کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ پاکستان کی افواج ہر قسم کی جارحیت کا نہ صرف مقابلہ کرسکتی ہے بلکہ اس کے پاس اس کا موثر توڑ بھی موجود ہے نیز اس وقت پاکستان کی ایک دوپارٹی میں شامل افراد بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں، وہ سخت غلطی پر ہیں۔ بھارت کی موجودہ قیادت ایک انتہا پسند ہندو کے ہاتھوں میں ہے جو پاکستان کے علاوہ خود بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے۔ ماضی میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں یہی شخص ’’چائے والا‘‘ نہ صرف شامل تھا بلکہ اس ہی کے احکامات پر گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہواتھا۔ چائے والا اس وقت گجرات کا وزیراعلیٰ تھا۔ اس کو بھارتی دانشور ’’ گجرات کا قصاب‘‘ کے لقب سے یادکرتے ہیں جبکہ امریکہ نے اس کو دہشت گرد قرار دے کر اس کا امریکہ کیلئے ویزا دینے سے انکار کردیاتھا۔ نیز بھارت میں بی جے پی کی وجہ سے صرف مسلمان ہی پریشان نہیں ہیں بلکہ کرسچن اور دلت بھی اس کی متشددانہ پالیسیوں کاشکار ہیں جن کی روز مرہ کی بنیاد پر زندگی اجیرن ہوگئی ہے چنانچہ اس وقت بھارت میں جو الیکشن ہورہے ہیں اس میں بی جے پی انتخابات جیتنے کیلئے ہر قسم کا قدم اٹھاسکتی ہے۔ جیسے اس نے ماضی میں پلوامہ کاڈرامہ رچاکر الیکشن جیتاتھا۔ پاکستان کو اس ضمن میں زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ مزید براں اس وقت پاکستان کے اندر موجود بھارت کے نمک خوار دہشت گرد موجود ہیں جوکسی بھی وقت بھارت کے’’ احکامات‘‘ پر پاکستان اندر گڑ بڑ پیداکرسکتے ہیں۔ باسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی انجینئروں کو جس طرح قتل کیا گیاہے، اس میں ’’ را‘‘ کے کردار کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتاہے۔ سی پیک کے خلاف بھارت کی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،اس نے حال ہی میں گوادر پورٹ پر بھی بی ایل اے کے ذریعے حملہ کرایاتھا۔ یقیناً پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے حوالے سے یہ صورتحال اپنی جگہ خاصی تشویش ناک ہے۔ ویسے بھی پاکستان اندرونی طور پر سیاستدانوں کے مابین اختلافات کی وجہ سے خاصہ کمزور ہوگیاہے۔ الیکشن متنازع بن چکے ہیں جبکہ اقتدار پر قابض عناصر کو عوام کی پذیرائی حاصل نہیں ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو حکومت کرنے والے کی جانب سے سخت مایوس کیاہے۔ ایک طرف دوفیصد پاکستانی وسائل پر قابض ہیں جن کی وجہ سے have and have not کے درمیان فاصلہ بڑھ گیاہے بلکہ ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہاہے۔ یہی معاشرتی تضاد ملک کے استحکام کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ظاہر ہے کہ دشمن خصوصیت کے ساتھ بھارت اس اس صورتحال سے پورا پورا فائدہ اٹھائے گا بلکہ اٹھارہاہے۔ امریکہ کا جھکائو کلی طور پربھارت کی جانب ہے اور وہ چاہتاہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ دوستی کاہاتھ بڑھائے لیکن کس بنیاد پر اور کس قیمت پر؟ ذرا سوچیے۔