(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارت کی عالمی دہشت گردی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ کینیڈا اور امریکہ سمیت دنیا کی 5 انٹیلی جنس ایجنسیز کا اتحاد بھارت کو کینیڈا اور امریکہ میں دہشت گردی کا مرتکب قرار دے چکا ہے ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ اسی دہشت گردی کے تحقیقات کے تناظر میں کینیڈا نےبھارت میں اپنےڈپلومیٹک مشنز سے بیسیوں بھارتی شہریوں کو برطرف کردیا ہے۔حکومت پاکستان کو اگر اڑوس پڑوس کی خبر ہوتی تو راج ناتھ کے الزامات کے جواب میں کینیڈا کے سرکاری ادارے’’کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن‘‘ کی دوروز قبل جاری کردہ ففتھ اسٹیٹ نامی تحقیقاتی دستاویزی فلم کو کم ازکم پاکستان کے تمام الیکٹرانل میڈیا پرچلواتی، جس میں ثابت کیاگیا ہے کہ مودی ایک دہشت گرد وزیراعظم ہے، اس کے حکم سےراعالمی سطح پر دہشت گردی کررہی ہے ۔ اس دستاویزی فلم میں خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر اور گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی ہدایت کا الزام مودی پر لگایا گیاہے۔ ہردیپ سنگھ نجرکے قتل کی خصوصی ویڈیوبھی فلم میں شامل ہے۔ دستاویزی فلم کے مطابق مودی کے ملوث ہونے کے مضبوط شواہد پر جسٹن ٹروڈو نے کھل کر بھارت پر الزام لگایاجبکہ ففتھ اسٹیٹ میں کینیڈا میں مقیم دیگر سکھوں کے انٹرویوز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے مطابق ’’مودی نے اجیت دوول کے مشورے پر را کے سربراہ کو میرے قتل کی ہدایت کی، کوئی شک نہیں کہ مودی نے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا حکم دیا تھا‘‘۔ امریکہ میں گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کاالزام بھارتی شہری نکھل گپتاپر لگایا گیا، فرد جرم کے مطابق نکھل نے قتل کی سازش کے لیے ایسے شخص سے مدد مانگی جو خود امریکی انٹیلی جنس کا مخبر تھا ، اس فردجرم میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ جون میں کینیڈا میں3 افراد کو قتل کرنے کا منصوبہ تھا۔عالمی دہشت گرد کون ہے اور کس کی سرزمین پر عالمی فورسز کا آپریشن ہوناچاہئے ،اس کا فیصلہ کرنے میں کینیڈین فلم کے ساتھ ساتھ امریکی آن لائن نیوز ویب سائٹ ’’دی انٹرسیپٹ‘‘ کا مطالعہ بھی مفید رہے گا ۔ جس نے انکشاف کیا ہے کہ ’’بھارت مغربی ممالک میں ایک ’’جدید ترین کریک ڈان اسکیم ‘‘کے تحت سکھ علیحدگی پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بھارت نے کینیڈا میں خالصتان تحریک کے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے دو ماہ پہلے ہردیپ سنگھ کے خلاف ٹھوس اقدامات کا خفیہ حکم جاری کیا تھا۔ویب سائٹ کی خبر کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ نے اپریل 2023 میں ایک خفیہ میمو کے ذریعے شمالی امریکہ میں اپنے قونصل خانوں کو مغربی ممالک میں سکھ تنظیموں کے خلاف ’’جدید ترین کریک ڈان اسکیم ‘‘ شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ویب سائٹ کے مطابق بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجر سمیت کئی سکھ رہنمائوں کے ناموں پر مشتمل فہرست دی گئی تھی، بھارتی وزارت خارجہ کے میمو میں ان افراد کے خلاف ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی گئی تھی۔خبر کے مطابق میمو جاری ہونے کے دو ماہ بعدجون میں ہر دیپ سنگھ نجر کو قتل کر دیا گیا تھا، کینیڈا کی حکومت نے تحقیقات کے بعد بتایا تھا کہ ہردیپ سنگھ کے قتل کاحکم بھارتی انٹیلی جنس نے دیا تھا۔امریکی میڈیا نے عینی شاہدین اورسی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج کی بنیاد پر دعوی کیا تھا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں 3 نہیں بلکہ 6 افراد ملوث تھے۔ خالصتان تحریک کے رہنماکے قتل میں ملوث ملزمان نے ایک نہیں بلکہ 2 گاڑیاں استعمال کیں، ہردیپ سنگھ کی گاڑی کو ملزمان کی ایک گاڑی نے پارکنگ ہی میں روکا،جس کے بعد اچانک نمودار 2 ملزمان نے فائرنگ کی۔امریکی میڈیا کے مطابق ملزمان نے 50 گولیاں برسائیں، 34 گوردوارے کے سربراہ ہردیپ سنگھ نجر کو لگیں۔ بعد ازاں 18 ستمبر کو پہلی بار اس قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ کینیڈین انٹیلی جنس نے ہردیپ کی موت اور بھارتی حکومت کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے، کینیڈین سرزمین پرشہری کے قتل میں غیرملکی حکومت کا ملوث ہونا ہماری خودمختاری کیخلاف ہے۔ ’’پاکستان پون صدی سے بھارت کی دہشت گردی کو بےنقاب کررہاہے،آج پوری دنیا وہی کہہ رہی ہےجو کل تک تنہا پاکستان کہاکرتا تھا ۔ جس تسلسل کے ساتھ مغربی میڈیا میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ، اسے دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ امریکی سرپرستی کے باجود وہ وقت دور نہیں جب بھارت کو عالمی دہشت گرد قرار دے کر بھارتی سرزمین سے دہشت گردی کے اڈے ختم کرنے کا مطالبہ حقیقت کا روپ دھار لے گا ۔ حکومت پاکستان اگر یکسو ہو کر بھارتی دہشت گردی سے ڈسے ہوئے ممالک سے دست تعاون بڑھائے اور’’بھارت گزیدہ، بر وزن سگ گزیدہ‘‘ ممالک سے مل کر اپنی مہارت پیش کرے تو یہ منزل قریب بھی آسکتی ہے ، اور یہی وقت ہوگا جب جنوبی ایشیا اور ملحق ممالک میں حقیقی امن قائم ہوگا ۔