تفسیر فی ظلال القرآن رمضان میں زیر مطالعہ رہی، سید قطب شہید نے جلد اول صفحہ 698 سے 712 تک معرکہ و غزہ احد کا فلسفہ لکھا ہے۔ یقینا قارئین اس مطالعے میں سید قطب شہید جیسے نابغہ ادیب، فنون قرآن کی تصویر کشی کرنے والے صاحب قلم کو منفرد انداز میں یہ معرکہ زیر بحث لاتے ہوئے پائیں گے۔
اس سے پہلے اس سورت میں ہم مناظرہ اور مباحثہ کے میدان میں تھے، بیانات اور تبصرے ہو رہے تھے، ہدایات اور تنبیجات کا ذکر تھا، لیکن اس دوسرے سبق میں ہم کلام و بیان کے میدان سے نکل کر اب سیف و سنان کے میدان میں جااترے ہیں۔ سیف و سنان کا یہ معرکہ معرکہ احد کے نام سے مشہور ہے۔
غزوہ احد صرف میدان جنگ ہی میں نہیں لڑا گیا بلکہ اس معرکے کا میدان بہت ہی وسیع تھا، یہ انسانی ضمیر اور عقائد کے اندر بھی برپا ہوا تھا، میدان جنگ تو اس کے وسیع میدان کار راز کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا۔ یہ معرکہ نفس انسانی کی گہرائیوں میں، انسان کے تصورات اور اس کے شعور میں، انسانی خواہشات اور اس کے میلانات میں اور اس کے اقدامات اور اس کی رکاوٹوں میں برپا تھا۔ اس معرکے کے اندر قرآن کریم نے نفس انسانی کی تربیت نہایت ہی لطیف، گہرے، موثر اور جامع طریقہ تربیت کے مطابق کی اور اس پر قرآن نے ان دشمنوں پر زیادہ توجہ دی جو میدان معرکہ میں اسلام کے خلاف برسرپیکار تھے۔
اس معرکہ میں داخل ہوتے ہی مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی لیکن انجام کار یہ فتح شکست میں بدل گئی۔ آغاز فتح مبین سے ہوا اور انجام ہزیمت اور شکست وریخت سے ہوا، لیکن اس شکست و ریخت کے نتیجے میں مسلمانوں کو علم و معرفت واقفیت اور تجربے کے میدان میں واضح فتح نصیب ہوئی، ان کی آنکھیں کھل گئیں، انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ حقائق دیکھ لئے جنہیں قرآن نے بار بار بیان کیا تھا۔ ان کا شعور ان حقائق کے حوالے سے یقین کی حد تک پختہ ہوگیا، ان کے نفوس پاک ہوگئے، ان کی صفوں میں گندے عناصر چھٹ کر الگ ہوگئے، اور جماعت مسلمہ آگے بڑھنے لگی۔ وہ ان لوگوں کے بوجھ سے آزاد ہوگئی جن کے نظریات صاف ستھرے نہ تھے، جن کی اقدار حیات ناپختہ تھیں، جن کی فکر ڈانواں ڈول تھی۔ یہ مسئلہ یوں حل ہوا کہ اسلامی صفوں سے منافقین کی اکثریت چھٹ کر الگ ہوگئی، نفاق کی علامات واضح ہو کر سامنے آگئیں اور سچائی کے اوصاف نکھر کر واضح ہوگئے، اقوال میں بھی اور افعال میں بھی۔ شعور میں بھی اور طرز عمل میں بھی۔ اس معرکے کے نتیجے میں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ایمان کے تقاضے کیا ہیں، دعوت ایمانی کے تقاضے کیا ہیں اور تحریک ایمانی کو لے کر اٹھنے کے تقاضے کیا ہیں۔ نیز اس تحریک کو لے کر چلنے کے لئے کس قدر علمی استعداد کی ضرورت ہے، کس قدر یکسو ہو کر تیاری کی ضرورت ہے اور کس قدر مستحکم تنظیم کی ضرورت ہے۔ اور اس تنظیم و انتظامات کے بعد کس قدر سنگین سمع و اطاعت کی ضرورت ہے اور تنظیم اور سمع و اطاعت کے بعد کس قدر توکل علی اللہ کی ضرورت ہے۔ اس راہ کے ہر قدم پر اللہ پر مکمل بھروسے کی ضرورت ہے اور پوری جدوجہد کرکے بھی نتیجہ، نصرت کی شکل میں ہو یا شکست کی صورت میں، اللہ پر چھوڑ دینا ہے۔ زندہ رہ کر غازی ہونا ہے یا مر کر شہید ہونا ہے، کیا کرنا ہے اور کدھر جانا ہے یہ سب امور اللہ کے ہاتھ میں دے دینا ہے۔
ان واقعات کے نتیجے میں جماعت مسلمہ کے لئے جو بیلنس شیٹ بنی اور ان واقعات کے بعد جماعت کو قرآن کریم نے جو ہدایات دیں، اپنی قدر و قیمت کے اعتبار سے وہ اس مال غنیمت کے مقابلے میں بہت زیادہ اہم تھیں جو فتح مبین کی صورت میں مسلمانوں کو حاصل ہوتا، اس صورت میں کہ مسلمان احد کے میدان سے فتح و نصرت لے کر واپس ہوتے۔ اس لئے کہ اس دور میں مسلمانوں کو ان تجربات کی ضرورت ہزار درجے زیادہ تھی بہ نسبت اس کے کہ وہ میدان سے فتح و نصرت اور مال غنیمت لے کر لوٹتے۔ اس طرح جماعت مسلمہ کے بعد آنے والی امت کے لئے تجربات کا جو سرمایہ چھوڑا گیا وہ زیادہ اہم اور زیادہ باقی رہنے والا تھا، بہ نسبت اس فتح اور مال غنیمت کے جو فتح کی صورت میں مسلمان حاصل کرتے۔ اس شکست کے پس منظر میں عالم بالا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس واقعہ کے ذریعہ وہ نقائص ظاہر کر دئیے جائیں جو مسلمانوں کی صفوں میں پائے جاتے تھے۔ مثلاً ان کی جسمانی کمزوریاں، اخلاقی کمزوریاں اور فکری ژولیدگی۔ اور ظاہر ہے کہ صرف شکست کھانے کی صورت ہی میں یہ کمزوریاں ظاہر ہوسکتی تھی۔ عالم بالا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس وقت، اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق، ٹھیک قدرتی طور پر اور سلسلہ اسباب کے اندر، مسلمانوں کو شکست ہو اور اس وقت مسلمانوں کے لئے یہ شکست زیادہ مفید تھی، تاکہ جماعت مسلمہ ان تجربات سے دوچار ہو اور اسے عبرت حاصل ہو اور اس طرح کی عملی تربیت ہو، اس کی سوچ پختہ ہو جائے اور وہ واقعات کو اپنے فطری انداز میں سمجھے، نیز اس کی صفوں میں کھرے اور کھوٹے کا امتیاز ہو جائے۔ اس کی تنظیم اور تربیت میں جو جھول پائی جاتی تھی وہ دور ہو جائے اور پھر آنے والی امت کے لئے تجربات اور واقعات کا ایک عظیم سرمایہ ریکارڈ پر آجائے، جو اس قدر قیمتی ہو کہ جس کی قیمت نہ چکائی جاسکتی ہو، یعنی اس معرکے میں فتح و نصرت سے بھی اس کی قیمت زیادہ ہو۔
یہ معرکہ میدان کار زار میں ختم ہوا اور اب قرآن کریم کے صفحات میں اسے لیا گیا، جو میدان جنگ سے بڑا میدان ہے، پھر یہ معرکہ نفسانسانی کے میدان میں شروع ہوا اور آخر کار وہ جماعت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کے میدان میں شروع ہوا، یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے اس جماعت کو بنایا، علم و حکمت کی اساس پر اور تجزیہ و بصیرت کی روشنی میں اور پھر جس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی اس کے مطابق یہ جماعت تیار ہوئی۔ اسی میں اس جماعت کی بھلائی تھی کہ اسے ضرر پہنچے، اس اذیتیں دی جائیں، اسے مبتلائے مصیبت کیا جائے اور اسے سخت رنج و الم سے دوچار کیا جائے۔
اس معرکہ کے واقعات پر یہاں جو اختتامہ دیا گیا ہے اور جو تبصرہ کیا گیا ہے اس میں جو چیز قابل التفات اور قابل تعجب ہے وہ یہ ہے کہ اس میں اس معرکہ کے مناظر اور واقعات کے بیان کے ساتھ ساتھ ان واقعات کے بارے میں ہدایات بھی ساتھ ساتھ موقعہ پر دی گئی ہیں اور ان ہدایات کے ساتھ ایسی ہدایات بھی دی گئی ہیں جن سے تزکیہ نفس اور تطہیر قلب و نظر کا بھی سامان کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے افکار کو گردوغبار سے صاف کیا گیا ہے۔ ان کے افکار و تصورات کو خواہشات نفسانیہ کے قیود سے آزاد کیا گیا ہے، مسلمانوں کے کردار سے طمع و لالچ، بغض و کینہ، حرص اور بخل، پوشیدہ خواہشات اور فسق و فجور کو بڑی حکمت کے ساتھ پاک کیا گیا ہے۔
(جاری ہے)