Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ایرانی حملہ اوراسرائیل کی مشکل

اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بخوبی علم تھا کہ وہ کیا کررہےتھےجب انہوں نے دو ہفتےقبل دمشق میں ایرانی قونصل خانے پرحملے کاحکم دیا تھا، جس میں ایران کے اعلیٰ فوجی بریگیڈیئر جنرل محمد رضا زاہدی سمیت دیگر اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈروں کو ہلاک کر دیاگیا تھا۔ یہ حملہ حزب اللہ، لبنانی تحریک تک ہتھیاروں کےبہاؤ کو محدود کرنے یا اس کی شمالی سرحد سے ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کو پیچھے دھکیلنے کے موجودہ حربوں سے کہیں زیادہ بڑا واقعہ تھا۔ یہ شام میں ایرانی قیادت کوختم کرنے کی کوشش تھی۔ چھ ماہ گزرنے کے باوجود غزہ میں جنگ بری طرح جاری ہےلیکن اب بھی اسرائیلی زمینی افواج کو فلسطینیوں کی جانب سے نہ صرف سخت مزاحمت کا سامنا ہے جبکہ شدید مصائب کے باوجود ہتھیارڈالنے یا فرار ہونے کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی بلکہ حماس کے جنگجوئوں کا ردعمل مزیدسخت ہو گیا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ بدترین سے بچ گئے ہیں اور ان کے پاس کھونے کے لیےمزید کچھ نہیں ہے۔ غزہ کے لوگ ان کے خلاف نہیں ہوئے اور ان کا دعویٰ ہے کہ رفح پر قبضے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔وہ اسرائیل پر طنز کرتے ہیں کہ اس طرز کے اسرائیلی حملے حماس کی طاقت میں اضافہ کر رہے ہیں۔اس طرزکے حملے کے بعد ان کے پاس بھرتی کرنے والوں اور ہتھیاروں کی لامحدود فراہمی ہوتی ہے۔ اسرائیل کے اہم حمایتی امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ اختلافات بھی اب کھل کر سامنے آچکے ہیں اور وہ تیزی سے عالمی رائے عامہ کو کھو رہے ہیں۔ اسرائیل، نیتن یاہو کی سرپرستی میں، ایک فاشسٹ ریاست بن چکا ہےاور اسرائیل کو ایک بار پھر مظلوم کا کردار ادا کرنے کی ضرورت تھی،تاکہ اس افسانے کو برقرار رکھاجاسکے کہ وہ اپنے وجود کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ نیتن یاہو جیسے جواری کے لیے اس سے بہتر وقت کیا ہو سکتا تھا کہ وہ پانسہ پھینک کر ایرانی قونصل خانے پرحملہ کر دے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔امریکہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ نیتن یاہو کیا کر رہے ہیں، کیونکہ نیتن یاہو نے امریکہ کو 14 سالوں میں کم از کم تین مرتبہ ایران پرحملے میں گھسیٹنے کی کوشش کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ایرانیوں کو براہ راست کہا کہ امریکہ کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اورانہیں صرف اس وقت علم ہوا جب طیارے فضا میں بلند ہوچکےتھے۔
ایران نے اسرائیل پر حملے سے پہلے کئی مواقع دئیے۔ اس نےدیکھا کہ سلامتی کونسل میں کیا ہوا، جب روس کی طرف سے قونصل خانے پر حملے کی مذمت کرنے والے بیان کو امریکا، برطانیہ اور فرانس نے ویٹو کر دیا۔ اس کے بعد ایران نے کہا کہ اگر غزہ میں جنگ بندی ہوتی ہے تو وہ اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ پھر ہر مغربی ملک نے ایران سے کہا کہ اسرائیل پر حملہ نہ کرے۔ بائیڈن کے پاس ایران کے لیے مشورہ کا ایک لفظ تھا: ’’نہیں‘‘۔ایران نے بالآخر اسرائیل پرحملہ کر دیااورصرف حملہ ہی نہیں کیااس کی ویڈیوز بھی جاری کیں تاکہ امریکہ، اسرائیل اور عرب خطے کو بہت سےبصری پیغامات پہنچائے جا سکیں۔ تہران ایک ایسی نظیر قائم کرناچاہتا تھا کہ وہ مکمل جنگ شروع کیےبغیر بھی اسرائیل کو براہ راست نشانہ بنا سکتا ہے۔ وہ اسرائیل کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ اسے مارسکتا ہے۔ وہ امریکہ کو بتانا چاہتا تھا کہ ایران خلیج میں ایک ایسی طاقت ہے جو یہاں رہنے کے لیے ہے اور جس نے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کیا ہے۔ وہ ہر عرب حکومت کو بتانا چاہتا تھا جو اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کی متمنی ہیں کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔صرف مٹھی بھر راکٹ ہی اپنے ہدف تک نہیں پہنچے بلکہ ایران جو پیغام پہنچانا چاہتا تھا وہ بھی دنیا کو پہنچ گیا ہے۔ اس طرح یہ حملہ ایک جانب ایران کی تذویراتی کامیابی ہے تو دوسری جانب خطے کے ایک ظالم (اسرائیل) کی ساکھ کے لئے بہت بڑادھچکابھی ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں